سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 3 از 6

برادر! مذکورہ روایت کو آپ نے پڑھا جس میں صاف لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ حضور اکرمﷺ جس روح کی وجہ سے حاملِ نبوت تھے۔ آپﷺ کے وصال کے بعد وہی روح "آئمہ "کی طرف منتقل ہو گئی گویا یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ "روح القدس" جس کی وجہ سے حضورﷺ صاحبِ نبوت بنے۔وہی "روح القدس" جب آئمہ کی طرف منتقل ہو گئی تو وہ صاحبِ نبوت کیوں نہیں بن سکتے۔

اِس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ شیعہ کا عقیدۂ امامت، عقیدۂ ختمِ نبوت کی نفی کرتا ہے۔

"اصولِ کافی" کے مذکورہ صفحہ پر ہی ایک اور روایت بھی لگے ہاتھوں پڑھ لیجئے!

عن ابي بصير قال سالت ابا عبد اللهؒ عن قال الله تبارك وتعالى وكذالك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كان ما كنت تدري ما الكتب ولا الايمان قال خلق من خلق الله عز وجل اعظم من جبرئيل وميكائيل، كان مع رسول اللهﷺ یخبره ويسدده وهو مع الائمه من بعده.(اصولِ کافی ص272ج1)

ترجمہ: "ابو بصیر نے سیدنا جعفر صادقؒ سے ارشادِ خداوندی "وكذلك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تددی ما الكتاب ولاالايمان". کے بارے میں سوال کیا تو سیدناؒ نے فرمایا۔ یہ روح ایک مخلوق ہے ۔جو جبرائیل(علیہ السلام)اور میکائیل (علیہ السلام) سے بڑی ہے۔یہ روح آنحضرتﷺ کے ساتھ رہتی تھی اور آپﷺ کو خبریں دیتی تھی اور آپﷺ کو راہِ راست پر رکھتی تھی ۔یہ روح آپﷺ کے بعد آئمہ کے ساتھ رہا کرتی تھی"

"اصولِ کافی" کتاب الحجۃ میں ایک باب عنوان ہے۔

ان الائمة معدن العلم وشجرۃ النبوۃ ومختلف الملائكة

(اصولِ کافی صفحہ 221جلد 1)

ترجمہ: "آئمہ" علم کا معدن اور نبوت کا درخت ہیں اور ِان کے پاس فرشتوں کی آمدورفت رہتی ہے"

"مجلسی" کی "بحار الانوار" میں ایک باب کا عنوان ملاحظہ فرمائیں:

ان الملائکة تاتیھم وتطأفر شھم وانھم یرونھم (صلوات اللہ علیھم اجمعین)

ترجمہ: "ملائکہ آئمہ کے پاس آتے ہیں، اُن کے بستروں کو روندتے ہیں اور آئمہ فرشتوں کو دیکھتے ہیں"

میں نے چار روایتیں آپ کے سامنے پیش کیں، جن سے درج زیل اَمور ثابت ہوتے ہیں۔

(1)جس طرح انبیاء (علیہم السلام) میں پانچ روحیں ہوتی ہیں۔ اِسی طرح آئمہ میں بھی پانچ روحیں ہوتی ہیں جن میں سے ایک "روح القدس" ہے۔

(2)"روح القدس" ہر قسم کے لہو ولعب سے پاک ہوتی ہے ۔ یہ روح آئمہ میں بھی ہوتی ہے اور اِسی "روح" کی وجہ سے حضورﷺ حاملِ نبوت تھے۔

(3) اِمام "روح القدس" کی وجہ سے فرش سے عرش تک سب کچھ دیکھتا ہے

(4)اِس روح کی وجہ سے "آئمہ" کو ہر طرح کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔

(5) "آئمہ" کے پاس فرشتوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔

(6) "آئمہ" فرشتوں کو دیکھتے ہیں۔

گویا انبیاء کی طرح "آئمہ" کے پاس بھی فرشتے آتے ہیں اور انہیں پیغامات پہنچاتے ہیں۔

(5) پانچواں عقیدہ: آئمہ کو حلال و حرام کا اِختیار ہونا

"اصولِ کافی" کتاب الحجۃ میں ایک باب کا عنوان ہے۔

التفويض الى رسول اللّٰهﷺ والى ألائمة (عليهم السلام في امر الدين).(اصولِ کافی صفحہ 265جلد1)

جس کا معنی یہ ہے کہ دین کے اَمور اللّٰہ تعالی نے رسول اللّٰهﷺ اور آئمہ کے سپرد کر دیے ہیں جس چیز کو چاہیں حلال کر دیں ۔جس چیز کو چاہیں حرام کہیں۔

اس عقیدے کو شیعہ علماء نے آئمہ کی متعدد روایات سے ثابت کیا ہے مثلاً "اصولِ کافی" کی یہ روایت پڑھیے! ۔

عن محمد بن سنان قال كنت ابي جعفر الثانيؒ فاجريت اختلاف الشيعه فقال يا محمد: ان اللّٰه تبارك وتعالى لم يزل متفردا بوحدانية ثم خلق محمد وعليا وفاطمه فمكثواالف دهر، ثم خلق جميع اشياء، فاشهدهم خلقها واجری طاعتهم عليها وفوض امورها اليهم، فهم يحلون ما يشاءون ويحرمون ما يشاءون ولن يشاؤن الا ان يشاء اللّٰه.( اصولِ كافى صفحہ441جلد1)

ترجمہ:" محمد بن سنان کہتا ہے کہ میں سیدنا ابو جعفر ثانیؒ کے پاس تھا۔شیعوں کے اختلافات کا تذکرہ کیا تو سیدناؒ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالی ازل سے اپنی وحدانیت کے ساتھ منفرد تھا۔ پھر اس نے محمدﷺ علیؓ اور فاطمہؓ کو پیدا کیا پھر وہ ہزار دہر تک ٹھہرے رہے۔ پھر تمام اشیاء کو پیدا کیا تو اُن کو اُن چیزوں کی تخلیق پر گواہ بنایا۔ اور سب چیزوں کے ذمہ اُن کی اطاعت واجب کی اور تمام اشیاء کے اختیارات اُن کے سپرد کر دیے۔ پس یہ حضرات جس چیز کو چاہیں حلال کریں اور جس چیز کو چاہیں حرام کریں اور وہ نہیں چاہیں گے مگر وہی چیز جو اللّٰہ تعالیٰ چاہے"

شبیر: "اصولِ کافی" کی یہ روایت جو آپ نے پیش کی ہے۔ اُس کے آخر میں صاف لکھا ہے کہ "وہ نہیں چاہیں گے مگر وہی چیز جو اللّٰہ تعالیٰ چاہے" اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے "آئمہ" اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے بلکہ اللّٰہ کی مرضی سے کرتے ہیں تو اِس میں کیا حرج ہے؟ کیا اللّٰہ کی مرضی سے حلال و حرام کا قرار دینا بھی جرم ہے؟

سلیم: دیکھئیے! مذکورہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں اگر اللّٰه تعالی کی مرضی پر "آئمہ" عمل کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ آئمہ کو کسی چیز کے حلال یا حرام کرنے کا اختیار نہیں وہ اللّٰہ کی مرضی کے پابند ہیں جبکہ اِسی عبارت میں یہ بھی لکھا ہے کہ اللّٰہ نے سب چیزوں کے اختیارات انہیں دے دیے ہیں، اب وہ جس چیز کو چاہیں حلال کر دیں جس چیز کو چاہیں حرام کریں۔

جب اللّٰہ رب العزت نے قرآن کریم میں حلال و حرام متعیّن کر دیے ہیں تو اب کسی اور کو حلال و حرام کرنے کے اِختیارات سونپ دینے کے کیا معنی ہیں؟ مذکورہ عبارت میں "مگر وہی چیز جو اللّٰہ تعالی چاہے" کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ پر ابھی دین مکمل نہیں ہوا تھا اس لیے "آئمہ" کی طرف بھی اللّٰہ تعالی وحی بھیج کر اُنہیں حلال و حرام کے نئے نئے اصول بتلا تا رہتا تھا ۔اور آئمہ کی طرف وحی کا یہی عقیدہ، ختم نبوت کے منافی ہے ۔

شبیر: "چلیں ٹھیک ہے یہ تو درمیان میں ایک بات آگئی تھی جس کی میں نے آپ سے وضاحت مانگی مزید "آئمہ" کے حلال و حرام کے اختیارات سے متعلق کچھ دلائل ہوں تو مجھے بتائیں؟

سلیم؛ "یہ دیکھیے! میرے ہاتھ میں "ملّا باقر مجلسی" کی بحار الانوار کی جلد 25 ہے۔ اُس کے صفحہ 334 کی یہ عبارت ذرا غور سے پڑھئے!

عن الثمالي قال سمعت ابا جعفرؒ یقول: من احللنا له شيئا اصابه من اعمال الظالمين فهو له حلال لان الائمة منامفوض اليهم فما احلو فهو حلال وما حرموا فهو حرام .

صفحہ 3 از 6