سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 2 از 6

یہ دوسری کتاب دیکھیں! یہ "باقر مجلسی" کی تصنیف "بحار الانوار" ہے اِس کتاب میں ایک باب کا عنوان ہے۔

عصمتهم لزوم عصمة الامام علیھم السلام ۔

ترجمہ:" یعنی اِمام معصوم ہوتے ہیں اور اِمام کو عصمت لازم ہے"

اِسی کتاب "بحار الانوار" میں "باب اعتقادت الصّدوق" سے یہ عبارت بھی ملاحظہ فرمائیں:

اعتقادنا في الانبياء والرسل والائمه علیھم السّلام انهم معصومون مطھرون من كل دنس وانھم لا يذنبون ذنبا صغيراً ولاكبيراً۔

(بحار الانوار صفحہ 211 جلد 2 )

ترجمہ: انبیاء(علیھم السلام)ورسل اور آئمہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ معصوم اور ہر گندگی سے پاک ہوتے ہیں اُن سے کوئی چھوٹا، بڑا گناہ سرزد نہیں ہو سکتا"

اب آئمہ کے بارے میں شیعہ کے دوسرے عقیدے کے ثبوت دیکھیے !۔

(2) دوسرا عقیدہ: اِمام کا منصوص من اللّٰہ ہونا۔

شیعوں کا یہ عقیدہ بھی اُنہیں اچھی طرح ازبر ہے۔

یہ دیکھیں! "اصولِ کافی کتاب الحجہ" میں ایک باب کا عنوان ہے:

"ما نص اللّٰه عز وجل ورسوله على الائمة عليهم السلام واحداً فواحداً."

ترجمہ: "یعنی اللّٰہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ نے اِماموں پر یکے بعد دیگرے ایک ایک پر نص فرمائی ہے"۔

اُس کے بعد صفحہ 292سےصفحہ 328 تک بارہ اِماموں کی نص کے الگ الگ باب قائم کیے ہیں۔ جنہیں آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔ اور پڑھ سکتے ہیں۔ اور یہ بات صرف "اصولِ کافی" میں ہی نہیں بلکہ یہ میرے ہاتھ میں دوسری کتاب "بحار الانوار جلد نمبر1" موجود ہے اُس میں یہ عبارت ذرا غور سے پڑھ لیجئے:.

سیدنا علی بن حسینؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے فرماتے ہیں۔

"الامام منالا يكون الا معصوما وليست العصمة في ظاهر الخلقه فيعرف بها فلذلك لا يكون الا منصوصا"

(بحار الانوار صفحہ191جلد1)

ترجمہ: "ہم میں سے اِمام صرف معصوم ہوسکتا ہے اور عصمت ظاہری بناوٹ میں تو ہوتی نہیں کہ اُس کو پہچانا جائے، پس اِمام کا منصوص ہونا ضروری ہوا"

اب آئمہ کے بارے میں شیعوں کے تیسرے عقیدے کے ثبوت بھی ملاحظہ فرمائیے!

(3) تیسرا عقیدہ: اِمام کا مفترض الطاعۃ ہونا

جس طرح مسلمانوں کے نزدیک حضورﷺ کی غیر مشروط اِطاعت فرض ہے۔ شیعوں کے نزدیک ٹھیک اِسی طرح بارہ اِماموں کی غیر مشروط اِطاعت فرض اور اِن سے اِنحراف کفر ہے۔

 لیجیے!ثبوت موجود ہے۔

"اصولِ کافی کتاب الحجۃ" میں ایک باب کا عنوان ہے۔

"باب فرض طاعة الائمة"

"یعنی اس کا بیان کہ آئمہ کی اِطاعت فرض ہے"

اِس باب میں 17 روایتیں درج کی گئی ہیں۔اِختصار کے لیے چند روایات پڑھئیے اور میرے مؤقف کا ثبوت ملاحظہ فرمائیے۔ 

سیدنا اِمام جعفرؒ فرماتے ہیں۔

 اشهدان علیا امام فرض اللّٰه طاعته، وان الحسن امام فرض اللّٰه طاعته، وان الحسين امام فرض اللّٰه طاعته، وان علی بن الحسين امام فرض اللّٰه طاعته، وان محمد بن علی امام فرض اللّٰه طاعته ۔

(اصولِ کافی صفحہ186جلد1)

ترجمہ:" سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ، سیدنا حسینؓ،سیدنا علی بن حسینؓ اور سیدنا محمد بن علیؒ یہ سب امام مفترض الاطاعۃ ہیں"

"اصولِ کافی" کہ اِسی صفحے پر دوسری عبارت ملاحظہ فرمائیں:

سمعت ابا عبد اللّٰه عليه السلام يقول اشرک بين الا وصیاءو الرسل في الطاعة۔

ترجمہ:سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اوصیا اور رسولوں کے درمیان اِطاعت میں شراکت رکھی ہے۔

اِسی کتاب کا صفحہ 187 دیکھیں!

سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں۔

نحن الذين فرض اللّٰه طاعتنا لا يسع الناس الا معرفتنا ولایعذر الناس بجهالتنا، من عرفنا كان مؤمنا ،ومن انكرنا كان كافرا، ومن لم يعرفنا ولم ينکرنا كان ضالا حتى يرجع الى الهدى الذي افترض اللّٰه عليه من طاعتناالواجبة فان يمت على ضلالته يفعل اللّٰه به ما يشاء۔

(اصولِ کافی صفحہ187جلد1)

ترجمہ:" سیدنا جعفرؒ فرماتے ہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ اللّٰہ نے ہماری اِطاعت فرض کی ہے۔ لوگوں کو ہماری معرفت کے بغیر چارہ نہیں اور ہمیں نہ جاننے کے بارے میں لوگ معذور نہیں، جس نے ہم کو پہچانا وہ مؤمن ہے اور جو منکر ہوا وہ کافر ہوا، اور جس نے ہمارا حق نہ پہچانا اور منکر بھی نہ ہوا وہ گمراہ ہے، یہاں تک کہ اس ہدایت کی طرف لوٹ آئے جو اللّٰہ تعالیٰ نے فرض کی ہے۔ یعنی ہماری اِطاعت جو واجب ہے اگر وہ اپنی گمراہی پر مرا تو اللّٰہ اس سے جو معاملہ چاہے کرے۔

(4) چوتھا عقیدہ: اِماموں پر وحی نازل ہونا 

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ آئمہ میں "روح القدس" ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ عرش سے "تحت الثریٰ" تک کی ساری چیزیں جانتے ہیں، چنانچہ اصولِ کافی کتاب الحجۃ کے "باب فیہ ذکر الارواح آلتی فی الائمة علیھم السلام" ۔میں سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے عالم کے علم کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ جابر! انبیاء(علیھم السلام)واوصیاء میں پانچ روحیں ہوتی ہیں۔

(1)روحُ الشّہوہ( 2)روحُ الایمان(3) روحُ الحیات

( 4)روحُ القوة(5)روحُ القدس 

پس اے جابر !وہ "روح القدس" کے ذریعے "ماتحت العرش" سے ماتحت الثریٰ تک سب کچھ پہچانتے ہیں اور پہلی چار روحوں کو حوادثِ زمانہ لاحق ہو سکتے ہیں مگر "روح القدس" لہو ولعب کا شکار نہیں ہوتی۔

(اصولِ کافی صفحہ 272جلد1)

پھر آگے"روح القدس"کی مزید وضاحت کرتے ہیں:

وروح القدس فبه حمل النبوة فاذا قبض النبيﷺ انتقل روح القدس فصار الى الامام ،وروح القدس لا ينام ولا يغفل ولا يلهو ولایزھو، والاربعةالاروح تنام وتغفل وتزھو وتلھو،وروح القدس کان یریٰ به.

(اصولِ کافی صفحہ272جلد1)

ترجمہ: "اور آپﷺ روح القدس کی وجہ ہی سے حاملِ نبوت تھے۔ پھر جب نبی کریمﷺ کا وصال ہوا تو روح القدس امام کی طرف منتقل ہو گئی اور روح القدس نہ سوتی ہے، نہ غافل ہوتی ہے، نہ بھولتی ہے اور نہ غلطی پر پڑتی ہے، اور باقی چار روحیں اِن چیزوں میں مبتلاء ہو جاتی ہیں۔اور "روح القدس" کی وجہ سے اِمام عرش سے فرش تک سب کچھ دیکھتا ہے"

صفحہ 2 از 6