سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 1 از 6

عقیدۂ امامت

شیعہ کے عقیدۂ تحریف و انکارِ قرآن کے بعد عقیدۂ امامت بھی شیعہ کے کفر کی بہت بڑی دلیل ہے ۔عقیدۂ امامت شیعیت کی بنیاد ہے ۔جیسا کہ شیعہ مذہب کی معتبر کتابوں سے ظاہر ہے۔

یہ میرے ہاتھ میں آپ کے مذہب کی معتبر ترین کتاب بحار الانوار کی جلد 6 موجود ہے اس میں یہ عبارت پڑھیئے اور عقیدۂ امامت کی اہمیت کا اندازہ کیجئے!

كنز :الحسن ابنِ ابى الحسن الديلمي باسناده عن فرج بنِ ابى شيبه قال سمعت ابا عبد اللّٰهؒ وقد تلاهذاالاية: واذا اخذ اللّٰه ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به يعني رسول اللّٰهﷺ ولتنصرنه. يعني وصيه امير المؤمنينؓ ولم يبعث اللّٰه نبيا ولا رسولا الا واخذ عليه الميثاق لمحمدﷺ بالنبوه ولعلىؓ بالإمامة.

( بحارالانوار صفحہ 207 جلد 6)

ترجمہ:" سیدنا جعفرؒ نے سورۂ آل عمران کی آیت 74 تلاوت فرمائی اور اُس کی تفسیر یہ فرمائی کہ "لتؤمنن به" سے مراد یہ ہے کہ انبیاء کو حکم ہوا کہ رسول اللّٰہﷺ پر ایمان لائیں اور "ولتنصرنه" کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے وصی یعنی سیدنا علیؓ کی مدد کریں سیدنا جعفرؒ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جس رسول اور نبی کو بھی بھیجا اس سے محمدﷺ کی نبوت اور علیؓ کی اِمامت کا عہد لیا۔

عقیدۂ امامت کی شیعہ مذہب میں کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ آپ کو بحار الانوار کی اس روایت سے ہو گیا ہوگا تاہم ایک روایت مزید آپ کو دکھاتا ہوں تاکہ آپ کو یہ اندازہ ہو سکے کہ عقیدۂ امامت شیعہ مذہب کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس پر شیعت کی پوری عمارت قائم ہے۔

یہ میرے ہاتھ میں "اصولِ کافی" کی پہلی جلد ہے جس میں یہ روایت ذرا غور سے پڑھیے!

عدة من اصحابنا :عن احمد بنِ محمد بنِ عيسى ,عن ابنِ سنان عن ابنِ سكان عن سدير. قال: قلت لابى جعفرؒ اني تركت مواليك مختلفين يتبرء بعضهم من بعض قال فقال: وما انت وذاك انما كلف الناس ثلاثة معرفة الائمة والتسليم لهم فيما ورد عليهم والرداليهم فيما اختلفوا فيه.

(اصولِ کافی صفحہ 39 جلد 1)

ترجمہ: "سدیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے عرض کیا کہ میں نے آپ کے شیعوں کو اِس حالت میں چھوڑا ہے کہ وہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر تبراء کرتے ہیں ۔فرمایا تجھے اس سے کیا پڑی لوگ صرف تیری باتوں کے مکلّف ہیں۔

1.اِماموں کو پہچانیں

2.اِماموں کی طرف سے جو حکم ہوا اس کو مانیں ۔

3۔اور جس بات میں اُن کا اختلاف ہو، اسے اماموں کی طرف لوٹا دیں۔

گویا عقیدۂ امامت کی شیعہ مذہب میں وہ اہمیت ہے کہ تمام انبیاء سے، تمام فرشتوں سے، اور تمام انسانوں سے اِسی کا عہد لیا گیا کہ تمام انسانوں کو اِسی عقیدہ کا مکلّف بنایا گیا۔

شبیر: مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ ہمارے مذہب میں عقیدۂ امامت کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں اس لیے کہ انبیاء کا سلسلہ حضورﷺ پر ختم ہو گیا آپﷺ کے بعد قیامت تک اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ لیکن اللّٰہ کے دین کو قیامت تک باقی رکھنے کے لیے اللّٰہ نے سلسلۂ امامت شروع کیا۔ تو ظاہر ہے کہ عقیدۂ امامت کی اہمیت ہونی ہی چاہیے، لیکن آپ نے تو یہ کہا ہے کہ عقیدۂ امامت، عقیدۂ کفریہ ہے، اس کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔

سلیم: اگر آپ اپنی مذہبی کتابوں کا غور سے مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ حقیقت مُنکشِف ہوگی کہ عقیدۂ امامت درحقیقت انکارِ ختمِ نبوت ہے۔

شبیر : انکارِ ختمِ نبوت ہے؟ بھئی ہم تو حضورﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور جو آپﷺ کی ختمِ نبوت کا منکر ہو وہ ہمارے نزدیک دائرۂ اِسلام سے خارج ہے، پھر آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ہم لوگ عقیدۂ امامت کے ذریعے ختمِ نبوت کا اِنکار کرتے ہیں۔

سلیم: میں نے جو کہا ہے وہ کسی تعصّب یا تنگ نظری کی وجہ سے ہرگز نہیں کہا بلکہ آپ کی مذہبی کتابیں پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا عقیدۂ امامت ختمِ نبوت کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے 

شبیر: وہ کیسے؟ ذرا وضاحت فرمانا پسند کریں گے؟

سلیم: جی ہاں! ذرا توجہ سے سنئیے!

نبی کی خصوصیات آئمہ میں

1 :امام معصوم ہوتا ہے۔

2:امام منصوص من اللّٰہ ہوتا ہے۔

3:امام مفترض الطاعۃ ہوتا ہے۔

4: اماموں پر وحی نازل ہوتی ہے۔

5: انہیں یہ اختیار ہوتا ہے کہ کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دیں ۔

6: امام قرآن کریم کے کسی حکم کو چاہیں ،معطّل یا منسوخ کر سکتے ہیں۔

اِن مذکورہ بالا عقائد کی بناء پر میں نے کہا ہے کہ جو مرتبہ ایک مستقل صاحبِ شریعت نبی کا ہے، وہی مرتبہ شیعوں کے ہاں "اِمام" کا ہے اور حضورﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی کے ہم مرتبہ جاننا درحقیقت ختمِ نبوت کا اِنکار ہے، آپ اگرچہ لفظاً تو ختمِ نبوت کا اِقرار کرتے ہیں اور لیکن معناً اِنکار کرتے ہیں۔

قادیانیوں نے حضورﷺ کے بعد مرزا غلام اَحمد قادیانی کو نبی کہا تو وہ امتِ مصطفویﷺ کے نزدیک کافر و غیر مسلم قرار پائے، اور آپ حضرات نے اپنے آئمہ کو نبی تو نہیں کہا، لیکن نبی کے تمام اوصاف اپنے آئمہ میں ثابت کر دیے تو بتائیےکہ آپ میں اور اُن میں کیا فرق رہا۔

شبیر: آپ نے آئمہ کے بارے میں شیعہ کے جو چھ عقائد مجھے بتائے ہیں اُن کا ثبوت آپ ہماری کتابوں سے دکھا سکتے ہیں؟

سلیم: جی ہاں! ابھی اور اِسی وقت دیکھیئے ۔

(1)پہلا عقیدہ

میں نے آئمہ کے بارے میں شیعہ کا پہلا عقیدہ یہ بتایا ہے کہ شیعوں کے ہاں اِمام معصوم ہوتا ہے اُس کے ثبوت کے لیے "اصولِ کافی صفحہ 200 جلد1" میں دیکھئے ۔

یہ سیدنا رضاؒ کا ایک طویل خطبہ ہے جس میں آئمہ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں ۔فرماتے ہیں۔

"الامام المطهر من الذنوب والمبرا عن العیوب" ۔(اصولِ کافی صفحہ 200جلد 1)

ترجمہ: "اِمام گناہوں سے پاک اور عیوب سے مبرّا ہوتا ہے"۔

اِسی خطبہ میں آگے چل کر لکھتے ہیں:

 فهو معصوم، مؤید، موفّق، مسدّد، قدامن من الخطايا والزلل والعثار، یخصه اللّٰه بذلك ليكون حجته على عبادہ۔

(اصولِ کافی صفحہ 203 جلد 1)

ترجمہ:" پس وہ معصوم ہے، اس کو تائید و توفیق حاصل ہے اور اُسے سیدھی راہ پر رکھا جاتا ہے ،اور وہ غلطی اور لغزش سے امن میں ہے ۔اللّٰہ تعالی اس کو یہ خصوصیت اس لیے عطا فرماتے ہیں۔کہ اس کے بندوں پر حجت ہو"

صفحہ 1 از 6