سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 4 از 4

اس روایت میں آپ نے دیکھا کہ ایک تیرسے دو شکار ہو گئے ہیں(1) ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کا بیشتر حِصہ حذف کر دیا گیا ہے اور(2) دوسرے حضرت علیؓ پر یہ بہتان باندھا گیا ہے کہ وہ قرآن فہمی سے قاصر تھے حالانکہ ایسا نہیں ہے نہ تو حضرت علیؓ قرآن فہمی سے قاصر تھے اور نہ قرآن میں کوئی تحریف کی گئی ہے۔ میں نے آپ کو اس آیت میں ربط بتایا ہے ۔لیکن شیعہ نے قرآن میں تحریف ثابت کرنے کے لیے حضرت علیؓ کو قرآن فہمی سے قاصر ثابت کیا ہے۔ آپ بتائیں کہ اِس قسم کا عقیدہ شیعہ کے کفر پر دلالت نہیں کرتا؟ اب ایک حوالہ اور دکھا کر اپنی بات ختم کروں گا۔

 یہ دیکھیں میرے پاس شیعہ مذہب کے بہت بڑے عالم مولوی مقبول احمد دہلوی کا ترجمہ رکھا ہے اس کے صفحہ نمبر 853 پر ملاحظہ فرمائیں!

"ثوابُ الاعمال" میں سیدنا جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ سورۃ احزاب،سورۃ بقرہ سے بھی زیادہ طویل تھی مگر چونکہ اُس میں عرب کے مردوں اور عورتوں کی عموماً اور قریش کی خصوصاً بد اعمالیاں ظاہر کی گئی تھیں اس لیے اُسے کم کر دیا گیا اور اُس میں تحریف کر دی گئی۔

اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سورۃ احزاب میں عرب اور قریش کے لوگوں کی جو بد اعمالیاں ظاہر کی تھیں وہ لوگوں نے مٹا ڈالیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا جو وعدہ کیا تھا وہ سچا ثابت نہ ہو سکا۔اب بھی اگر آپ کہیں کہ میں مَحض جذباتی تقریر سن کر متاثر ہو گیا ہوں تو آپ کی مرضی ۔باقی میں نے آپ کی معتبر ترین کتابوں سے ثابت کر دیا ہے کہ شیعہ کا موجودہ قرآن پر اِیمان نہیں ہے۔ اور جس کا قرآن پر اِیمان نہ ہو یا قرآن کو ناقص ونا مکمل کتاب تسلیم کرتا ہو اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

شیعہ اِسی قرآن کو پڑھتے ہیں

شبیر :آپ نے جو دلائل میرے سامنے پیش کیے ہیں اُن سے ہمارے بڑے بڑے مجتہد بھی تو واقف ہونگے تو آخر وہ ہمیں اِسی قرآن کو پڑھنے کی ترغیب کیوں دیتے ہیں اور خود بھی اِسی قرآن کی تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ اور اپنے بچوں کو بھی یہی قرآن کیوں پڑھاتے ہیں؟ جب اُنہیں معلوم ہے کہ یہ قرآن صحیح نہیں تو وہ اس کو کس مصلحت کی بناء پر پڑھتے ہیں؟

سلیم : آپ کے اِس سوال کا جواب اگر میں اپنی طرف سے دوں تو ممکن ہے غلط بیانی ہو جائے اس لیے اِس سوال کا جواب میں آپ ہی کے مذہب کی کتاب سے دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ آپ اِس حقیقت سے بھی آگاہ ہو سکیں کہ موجودہ قرآن کو ناقص، نامکمل اور محرّف سمجھنے کے باوجود آپ کے مجتہدین کیوں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔

یہ دیکھیں! ترجمہ مقبول احمد دہلوی صفحہ 479 ملاحظہ ہو۔

معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن میں اِعراب لگائے گئے ہیں تو شراب خُور خُلفاء کی خاطر یٰعصرَون کو یَعصرون سے بدل کر معنیٰ کو زیر و زبر کیا گیا ہے،یا مَجہول کو مَعروف سے بدل کر لوگوں کے لیے اُن کے کرتوت کی معرفت آسان کر دی۔ ہم اپنے اِمام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیّر یہ لوگ کر دیں تو اُس کو اُسی کے حال پر رہنے دو اور تغیّر کرنے والے کا عذاب کم نہ کرو۔

مذکورہ عبارت اگر آپ غور سے پڑھیں تو آپ پر یہ حقیقت مُنکشِف ہوگی کہ آج شیعہ حضرات اِس قرآن کو غلط سمجھنے کے باوجود اِس لیے پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ وہ اِمام کے حکم سے مجبور ہیں اُن کے اِمام نے اُنہیں کہا ہے کہ اِس وقت قرآن جس حالت میں تمہارے پاس موجود ہے اُس کو اُسی حالت میں ہی پڑھتے رہو اور غلطیوں کی اِصلاح کر کے تغیّر کرنے والوں کے عذاب کو کم نہ کرو گویا شیعہ موجودہ قرآن کی تلاوت اِس لیے کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے قرآن میں تبدیلیاں کی ہیں۔ اُن کے عذاب میں کمی واقع نہ ہو۔

اب تو آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ شیعہ مذہب کے مطابق موجودہ قرآن وہ نہیں ہے جو اللّٰہ رب العزت نے حضورﷺ پر نازل کیا تھا۔

شبیر: یار آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں ۔اب میں اچھی طرح سمجھ گیا کہ ہمارے عُلماء و مُجتہدین اِس قرآن کو کس نظریے کی بنیاد پر پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔

 اچھا یہ بتائیں کہ شیعہ کے کُفر کے اور دلائل بھی ہیں یا صرف یہی ایک دلیل ہے کہ وہ قرآن کریم کو نہیں مانتے؟

۔ سلیم: بے شمار دلائل ہیں اگر کہیں تو سناؤں

شبیر: ہاں ہاں! ضرور!

سلیم: تو پھر سنیٔے!


صفحہ 4 از 4