سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 3 از 4

 سلیم:یہی تو ہم کہتے ہیں کہ اگر قرآن کریم میں تحریف کا عقیدہ رکھا جائے تو اس سے اللّٰہ تعالیٰ کا عاجز ہونا لازم آتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کو عاجز ماننا کفر نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر قرآن مجید میں تحریف و تبدیلی کا عقیدہ رکھنے والا مذکورہ آیتِ حفاظت کا منکر ہو کر دائرۂ اِسلام سے خارج ہوجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا جھنگویؒ شہید نے اپنی تقریر میں شیعہ کو کافر کہا ہے۔

ابھی تو میں نے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔ اگر آپ کہیں تو مزید حوالہ جات پیش کروں ۔

 شبیر; کیا اِس قسم کی اور روایات بھی ہیں؟

سلیم: جی ہاں! آپ کے آئمہ سے تقریبا دو ہزار روایات تحریفِ قرآن پر مروی ہیں۔ اگر وہ سب روایات پیش کروں تو اس کے لیے طویل وقت درکار ہے، البتہ چند حوالہ جات مزید آپ کو دکھاتا ہوں۔

 یہ دیکھیے! اصولِ کافی کے اِسی صفحہ نمبر 417 پر ملاحظہ فرمائیں:

 نزل جبرائيل عليه السلام هذا الاية على محمدﷺ هكذا. ان كنتم في ريب ممانزلنا على عبدنا (في علي) فاتو بسورة من مثله 

ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام اس آیت کو محمدﷺ پر اِس طرح لے کر آئے تھے۔"ان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا (في على) فاتوا بسورة من مثله."

آپ ذرا موجودہ قرآن میں دیکھیں کہ مذکورہ آیت میں "فی علی" کا لفظ موجود ہے؟ اِسی طرح یہ میرے پاس اصولِ کافی جلد دوم رکھی ہے اِس میں صفحہ 637 جلد 2 پر ملاحظہ فرمائیں۔ سیدنا جعفر صادقؒ سے منقول ہے۔

 ان القرآن الذي جاء به جبرائيل عليه السلام الى محمدﷺ سبعة عشر ألف آية. 

ترجمہ "تحقیق جو قرآن جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ پر لے کر آئے تھے اس میں 17 ہزار آیات تھیں۔

اب قرآن کریم میں علی اختلاف الروایات 6 ہزار 6سو سولہ یا 6666 آیات ہیں ۔لہذا آدھے سے زیادہ قرآن غائب کر دیا گیا 

گویا شیعہ مذہب کے مطابق اِس وقت جو قرآن ہمارے پاس موجود ہے یہ اَدھورا قرآن ہے اور قرآن کریم کے بارے میں یہ نظریہ کفر کی بہت بڑی دلیل ہے۔

 شبیر:بھئی میرا دماغ گھوم گیا ہے یہ حوالہ جات پڑھ کر۔ کیا ہماری کسی اور کتاب میں بھی اِس قسم کی باتیں ہیں۔

 سلیم: جی ہاں! آپ کے مذہب کی تمام بنیادی کتابوں میں اِس طرح کی کفریات موجود ہیں۔یہ دیکھیے میرے ہاتھ میں آپ کے مذہب کی بڑی معتبر کتاب "احتجاج طبرسی" موجود ہے ۔اِس کتاب کے مصنف شیخ احمد بنِ ابی طالب طبری نے کتاب کے دیباچہ میں لکھ دیا ہے۔ کہ اس کتاب میں سوا ۓامام حسن عسکری کے اور جس قدر آئمہ کے اقوال ہیں اُن پراِجماع ہے یا وہ عقل کے موافق ہیں یا اِس قدر سِیَر وغیرہ کی کُتب میں اِن کی شہرت ہے کہ مخالِف و موافِق سب کا اِن پر اتفاق ہے۔اس کتاب کے صفحہ 119 سے لے کر صفحہ نمبر 132 تک ایک طویل روایت سیدنا علی المرتضیٰؓ سے منقول ہے کہ ایک زندیق نے

آنجناب کے سامنے قرآن پاک پر کچھ اعتراضات کیے اور آپ نے قریب قریب ہر اعتراض کے جواب میں فرمایا ہے "قرآن مجید میں تحریف ہو گئی ہے"۔مثلاً اُس زندیق نے ایک تو قرآن مجید میں یہ اعتراض کیا کہ "فان خفتم الا تقسطوافي اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء." 

 ترجمہ" اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے حق میں اِنصاف نہ کر سکو گے تو جن عورتوں سے چاہو نکاح کر لو۔

زندیق نے کہا کہ شرط وجزا میں کوئی ربط معلوم نہیں ہوتا ،یتیموں کے حق میں اِنصاف نہ کر سکو تو عورتوں سے نکاح کر لو ،ایک بالکل بے ربط بات ہے۔

تہائی قرآن غائب کر دیا گیا

جناب اَمیر علیہ السلام اِس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں.

 واما ظهورك على تناكر قوله فان خفتم الا تقسطوا في اليتامىٰ فانكحوا ما طاب لكم من النساء وليس يشبه القسط في اليتامىٰ نكاح النساء ولا كل النساء ایتاما فھو مما قدمت ذکرہ من اسقاط المنافقین من القرآن وبین القول فی الیتامی وبین نکاح النساء من الخطاب والقصص اکثر من ثلث القرآن وھذا وما اشبه مما ظھرت حوادث المنافقین فیہ لاھل النظر والتامل ووجدالمعطلون واھل الملل المخالفین للا سلام مساغاالی القدح فی القرآن. (۔احتجاج طبرسی1 ص129)

 ترجمہ:"اور تجھ کو جو اللّٰہ کا قول "فان خفتم الا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء" کے ناپسندیدہ ہونے پر اطلاع ہوئی اور تو کہتا ہے کہ یتیموں کے حق میں انصاف کرنا عورتوں سے نکاح کرنے کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتا اور نہ کُل عورتیں یتیم ہوتی ہیں پس اِس کی وجہ وہی ہے جو میں پہلے تجھ سے بیان کر چکا ہوں کہ منافقوں نے قرآن سے بہت کچھ نکال ڈالا ۔ "في اليتامى" اور "فانکحوا" کے درمیان میں بہت سے احکام اور قصے تھے۔ تِہائی قرآن (یعنی 10 پارے) سے زیادہ۔ وہ سب نکال ڈالے گئے ۔اِسی وجہ سے بے ربطی ہو گئی اِس قسم کے منافقوں کی تحریفات کی وجہ سے جو اہلِ نظر و تأمل کو ظاہر ہو جاتی ہیں، بے دینوں اور اسلام کے مخالفوں کو قرآن پر اعتراض کرنے کا موقع مل گیا"۔

آپ نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کی طرف کیسی جھوٹی بات منسوب کر کے قرآن کو ناقص ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔یعنی اِس روایت کی رُو سے جناب امیر اُس زندیق کے کسی اِعتراض کا جواب نہ دے سکے۔اِس روایت کو دیکھ کر صاف کہنا پڑتا ہے کہ شیعوں کی طرح جناب اَمیرؓ بھی (نعوذ باللّٰہ) قرآن کے سمجھنے سے عاجز و قاصر تھے حالانکہ آج اہلِ سنت کے کسی ادنیٰ طالب علم سے پوچھو تو وہ بھی اس آیت کا ربط اچھی طرح بیان کر دے گا آیت میں یتامىٰ سے مراد یتیم لڑکیاں ہیں ،بعض لوگ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرتے تھے اور اُن کا مَہر بھی کم باندھتے تھے دوسرے حقوق بھی ادا نہ کرتے تھے کیونکہ اُن یتیموں کی طرف سے کوئی لڑنے جھگڑنے والا تو ہوتا ہی نہیں تھا۔ لہذا آیت میں حکم دیا گیا کہ اگر یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے میں بے اِنصافی کا اَندیشہ ہو تو اُن سے نکاح نہ کرو بلکہ دوسری عورتوں سے نکاح کر لو۔

صفحہ 3 از 4