سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 2 از 4

 سلیم:بھئی جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں اِن شاءاللہ تعالیٰ آپ کو مطمئن کر کے بھیجوں گا۔ آپ نے تو آؤ دیکھا نا تاؤ۔ آتے ہی اپنے مسلمان ہونے کی ایک دلیل ٹھونک دی: میں نے یہ کب کہا کہ آپ چونکہ کلمہ پڑھتے ہیں اس لیے کافر ہیں کلمہ تو آپ بے شک پڑھتے ہیں بلکہ ہمارے کلمے سے بھی لمبا کلمہ پڑھتے ہیں۔ ہمارا کلمہ تو "لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ" پر ختم ہو جاتا ہے لیکن آپ کے کلمے میں مزید "علی ولی اللّٰہ وصی رسول اللّٰہ و خلیفہ بلا فصل" کا اِضافہ بھی ہے۔لیکن آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ صرف کلمہ پڑھ لینا مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں ورنہ آپ ہی بتائیں کہ قادیانی مسلمان ہیں یا کافر؟

 شبیر:وہ تو کافر ہیں اور 1974ء میں حکومت پاکستان نے بھی اُنہیں آئینی طور پر غیر مُسلم اقلیت قرار دے دیا تھا اسی لیے کہ وہ ختمِ نبوت کے منکر ہیں اور حضورﷺ کے بعد مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اس لیے جو شخص ختمِ نبوت کا منکر ہو وہ کلمہ پڑھنے کے باوجود کافر ہے۔

 سلیم:بس میں یہی بات آپ سے کہلوانا چاہتا تھا کہ صرف کلمہ پڑھ لینا مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں بلکہ اِسلام کےبنیادی عقائد کو دل و جان سے تسلیم کرنا بھی ضروری ہے ورنہ قادیانی بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو ساری اِسلامی برادری پڑھتی ہے لیکن اُن کے کلمے کا اِعتبار اس لیے نہیں کیا جاتا کہ وہ اِسلام کے ایک اہم ترین اور بنیادی عقیدہ، یعنی ختمِ نبوت کےمنکر ہیں، گویا آپ کی سمجھ میں بات آگئی کہ اگر کوئی شخص اِسلام کے بنیادی عقائد، قرآنِ کریم، ختمِ نبوت وغیرہ پر اِیمان نہ رکھتا ہو تو صرف کلمے کی بنیاد پر اُسے مسلمان نہیں مانا جا سکتا۔

 شبیر: تو کیا ہم اِسلام کے بنیادی عقائد کا اِنکار کرتے ہیں؟

 سلیم: جی ہاں! قرآن کریم، جو اللّٰہ تعالی کی آخری اور لاریب کتاب ہے. جس کی ابتداء میں اللّٰہ تعالی نے فرما دیا ہے کہ:

(ذلك الكتاب لا ريب فيه)

 ترجمہ: یہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔

آپ کے مذہب کے مطابق یہ کتابِ خداوندی شکّ و شبہ سےبالاتر نہیں، بلکہ اس میں کئ جگہ تحریف و تبدّل کر دیا گیا ہے اور موجودہ قرآن کریم نامکمل ہے۔

 شبیر:میرے خیال میں آپ کو یا تو غلط فہمی ہوئی ہے یا وہی مولوی حق نواز جھنگویؒ کی جذباتی تقریر سے آپ متاثر ہو گئے ہیں ورنہ ہمارے مذہب میں اگر موجودہ قرآن صحیح نہ ہوتا، یا ہمارا اِس قرآن پر ایمان نہ ہوتا تو ہم اپنے گھروں میں یہ قرآن کیوں رکھتے؟ اپنے بچوں کو یہ قرآن کیوں پڑھاتے؟ ہم خود اِسی قرآن مجید کی تلاوت کیوں کرتے؟

 سلیم: دیکھیے! نہ تو مجھے غلط فہمی ہوئی ہے اور نہ ہی میں محض مولانا جھنگویؒ شہید کی جذباتی تقریر سے متاثر ہوا ہوں۔ بلکہ اُنہوں نے اپنی تقریر میں آپ کے شیعہ مذہب کی معتبر ترین کتابوں سے جو حوالہ جات پیش کیے ہیں۔ میں نے وہ کتابیں لے کر خود پڑھی ہیں اِس لیے میں صرف تقریر کی روشنی میں نہیں بلکہ اپنے مطالعے کی روشنی میں کہہ رہا ہوں کہ آپ موجودہ قرآن کریم کو تحریف و تبدیل شُدہ مانتے ہیں۔

یہ دیکھیے میرے پاس آپ کے مذہب کی بنیادی اور معتبر ترین کتاب "اصولِ کافی" رکھی ہے. جس کے مصنف "جناب محمد یعقوب کلینی "ہیں جو "ثقة الاسلام" ،کے لقب سے ملقّب ہیں. یہ کتاب اِمام غائب کی غیبتِ صغریٰ کے زمانے میں لکھی گئی۔ اِس کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ یہ کتاب اِمام غائب کے سامنے جب غار میں پیش کی گئی تو اُنہوں نے اِسے پڑھ کر فرمایا. "هذا كاف لشيعتنا"،یعنی یہ کتاب ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے، اس سے اس کا نام "الکافی" رکھا گیا۔﴿مقدمہ اصولِ کافی صفحہ 20جلد 1 مطبوعہ ایران﴾

قرآن میں کمی کر دی گئی

اِس کتاب کے (صفحہ 414 جلد1) پر یہ روایت آپ خود پڑھ سکتے ہیں۔

عن الحسين بنِ محمد، عن معلى بنِ محمد ،عن على بنِ اسباط، عن على بنِ أبى حمزة، عن ابي بصيره ،عن ابي عبد اللهؒ في قول اللّٰه عزّ وجل.ومن يطع اللّٰه ورسوله (فى ولايته على (وولاية) الا ئمة من بعده) فقد فاز فوزا عظيما.هكذانزلت

 ترجمہ:ابو بصیر سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالی کا قول

ومن يطع اللّٰه ورسوله (فى ولايته على (وولاية) الا ئمة من بعده) فقد فاز فوزا عظيما. 

اسی طرح نازل ہوا تھا۔

اب آپ بتائیں کہ مذکورہ خط کشیدہ الفاظ موجودہ قرآن مجید میں کہیں آپ کو نظرآتے ہیں؟اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو بتائیں موجودہ قرآن مجید مکمل ہوا یا نامکمل؟

اِسی کتاب کے (صفحہ 417 جلد1) پر دیکھیں!

 عن ابى جعفرؒ قال نزل جبريل بهذا الاية على محمدﷺ "بئسما اشتروا به انفسهم ان يکفروا بما انزل اللّٰه(في على) بغيا" 

ترجمہ: سیدنا ابی جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اس آیت کو محمدﷺ پر اس طرح لے کر آئے تھے "بئسمااشتروا به انفسهم ان يکفروا بما انزل اللّٰه (في على) بغيا"

اب قرآن مجید میں "فی علی" کے الفاظ نہیں ہیں، جبکہ آپ کی یہ کتاب بتلا رہی ہے کہ جو قرآن اللّٰہ نے نازل کیا تھا اس میں "فی علی" کے الفاظ موجود تھے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جو لوگ قرآن کریم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ اس قرآن میں سے بعض الفاظ کم کر دیے گئے ہیں اور موجودہ قرآن ناقص ہے تو آپ پھر بھی اِنہیں مسلمان سمجھتے ہیں؟

 اللّٰہ حفاظتِ قرآن کا وعدہ پورا نہ کر سکا

 شبیر:یہ تو واقعی نئی بات میرے سامنے آئی ہے اور مجھے تو اِن باتوں کا پتہ ہی نہیں تھا کہ ہماری اِتنی معتبر کتاب میں اس طرح کی باتیں لکھی ہوں گی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب قرآن کے بارے میں اللّٰہ تعالی نے خود وعدہ کیا ہے کہ

 (انا نحن نزلناالذكر وانا له لحافظون).

ترجمہ بے شک ہم نے ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

جب اللّٰہ خود قرآن کا محافظ ہے تو اس میں کوئی انسان کیسے تغیّرو تبدّل کر سکتا ہے ؟اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے وعدے پر (نعوذ باللّٰہ) قائم نہ رہ سکا.

صفحہ 2 از 4