شیعہ کسی سنی کا ترکہ نہیں پا سکتا:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ ایک بی بی سیدہ سنی المذہب نے انتقال کیا ان کے بعض بنین عم تبرائی رافضی ہیں وہ عصبہ بن کر ورثہ سے ترکہ لینا چاہتے ہیں حالانکہ روافض کے یہاں عصوبت اصلاً نہیں اس صورت میں وارث کے مستحق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں قطعی حکم یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے، ان کے ساتھ مناکحت نا صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہرِ الٰہی ہے اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں سے ہو جب بھی ہرگز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گا اولاد ولد الزنا ہو گی، باپ کا ترکہ نہ پائے گی، اگرچہ اولاد بھی سنی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں عورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی، نہ مہر کی، کے زانیہ کے لیے مہر نہیں۔
رافضی اپنے قریب حتیٰ کہ باپ، بیٹے، ماں، اور بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں ان کے مرد عورت عالم جاہل کسی سے میل جول، سلام کلام، سب سخت کبیرہ اور اشد حرام ہے جو ان کے معلوم عقیدوں پر آگاہ ہو کر پھر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے با اجماعِ امت تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہیں اور اس کے اسی بھی یہی احکام ہیں۔ جوان کے لیے مزکور ہوئے مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس فتوىٰ کو بگوشِ ہوش سنیں اور اس پر عمل کر سچے پکے مسلمان سنی بنیں۔
(آتشکدہ ایران اور شیعہ کی اصلیت: صفحہ 85)
شیعہ کافر ہیں، وراثت سے محروم ہوں گے:
ایک ضروری بات یہاں پر سمجھ لیں وہ یہ کہ پانچ چیزوں اور سبب ایسے ہیں کے جن کی وجہ سے آدمی وراثت سے محروم ہو جاتا ہے اگر وہ اسباب نہ ہوں تو کوئی آدمی وراثت سے محروم نہیں ہو سکتا وہ اسباب یہ ہیں:
اختلاف دین ہے کے مثلاً: باپ مسلمان ہے اور بیٹا کافر ہو گیا تو یہ کافر بیٹا باپ کی وراثت سے محروم ہو گیا یا اس کا الٹ ہو کہ بیٹا مسلمان ہے اور باپ کافر ہے تو اس مسلمان بیٹے کو کافر باپ کی وراثت نہیں مل سکتی۔
نوٹ: اور یہ بات بھی سمجھ لیں کہ کافر سے وہی کافر مراد نہیں، جن کو لوگ کافر سمجھتے ہیں مثلاً ہندو کافر ہیں، عیسائی کافر ہیں، پارسی کافر ہیں، سکھ کافر ہیں عوام ان کو کافر سمجھتے ہیں مگر کافر سے مراد وہ کافر ہیں جن کو شریعت کافر کہے مثلاً شریعت کی اصطلاح میں قادیانی بھی کافر ہیں، صابی بھی کافر ہیں، بہائی بھی کافر ہیں، رافضی بھی کافر ہیں، منکرینِ حدیث بھی کافر ہیں، شرک میں ڈوبے ہوئے بھی کافر ہیں۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ ہمارے اکابر میں سے ہیں ان کا فتاویٰ رشیدیہ طبع شدہ ہے ان سے کسی نے دریافت کیا کہ حضرت ایک شخص رافضی ہے، شیعہ ہے، کیا اس کی وراثت سنی بیٹے کو مل سکتی ہے یا نہیں؟ اور دوسرا مسئلہ یہ بتاؤ کہ سنی اور رافضی کا نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ: فقہی طور پر نہ تو بیٹا وارث بن سکتا ہے اور نہ ہی نکاح ہو سکتا ہے اور فقہاء اس مسئلہ پر متفق ہیں۔
آج بہت سارے لوگ اس کا لحاظ نہیں کرتے حالانکہ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہماری بیٹی جہاں جاری ہے، ان کا عقیدہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ اور حقیقت یہ ہے کہ بہت ساری جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں نکاح قطعاً نہیں ہوتا۔
(ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن: جلد 4صفحہ 26)
شیعہ وراثت سے محروم ہوگا:
بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ علماءِ دیوبند اور ان کے پیشوا مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ رافضیوں کو کافر نہیں کہتے مگر یہ وہم سراسر غلط ہے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ علماءِ کرام کے اس گروہ میں شامل ہیں جو روافض کو کافر قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک استفتاء اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں:
سوال:جو عورت سنی رافضی کے تحت میں بعد ظہور رفض کے بخوشی خاطر رہ چکی ہو پھر رفض یا دوسری شئے کو حیلہ قرار دے کر بلا طلاق علیحدہ ہو جائے اور سنی سے نکاح کر لے تو یہ نکاح بلا طلاقِ شیعہ کے کیا حکم رکھتا ہے؟ اور اولاد سنی کی اگر رافضی ہو جائے تو پدر سنی کے ترکہ سے محروم الارث ہو گی یا نہیں؟
جواب: جس کے نزدیک رافضی کافر ہے وہ فتوىٰ اول ہی سے باطلان نکاح کا دیتا ہے اس میں اختیارِ زوجہ کا کیا اعتبار ہے؟ پس جب چاہے علیحدہ ہو کر عدت کرکے نکاح دوسرے سے کر سکتی ہے اور جو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک یہ امر ہرگز درست نہیں کہ نکاح اول سے ہی ہو چکا ہے اور بندہ اول مذہب رکھتا ہے :علی ھذا: رافضی اولاد سنی کو ترکہ سنی سے نہ ملے گا۔ فقط واللہ اعلم۔
اس فتوىٰ میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃاللہ نے اپنا مذہب یہ بتایا ہے کہ وہ روافض کو کافر قرار دیتے ہیں اور کسی سنی عورت کا نکاح ابتداء ہی سے رافضی سے نا جائز کہتے ہیں اور سنی باپ کی رافضی اولاد کو باپ کے ترکہ سے بالکل محروم گردانتے ہیں حضرت گنگوہی صاحب رحمۃاللہ کا یہ فتوىٰ بالکل واضح ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
(ارشاد الشیعہ: صفحہ 210)
شیعہ، سنی کا وارث نہیں بن سکتا:
میں اپنے اکابر کی عبارت سے متفق ہوں علامہ شامی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ جو شیعہ کے کفر میں شک کرے وہ ان کی طرح کافر ہے اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃاللہ سے سوال کیا گیا کہ مسلمان آدمی کے شیعہ بیٹے، اس کے وارث ہوں گے یا نہیں؟ اور شیعہ آدمی سے سنی عورت کا نکاح ہو جائے تو بغیر طلاق کے جدا ہو جائے یا نہیں؟ تو حضرت نے فرمایا کہ: بیٹے وارث نہ ہوں گے اور عورت بغیر طلاق کے جدائی اختیار کرے۔
یہ ان لوگوں کی طرف سے حضرت نے جواب دیا جو شیعوں کی علی الاطلاق کفر کے قائل تھے۔ اور حضرت نے آخر میں فرمایا کہ بندہ کا بھی یہی عقیدہ ہے۔
(فتاوىٰ امام اہلِ سنت مع تائید علماءِ اہل سنت: صفحہ 95)