ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد کا فتوىٰ - فتاویٰ جات | دفاع…

ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد کا فتوىٰ


اہل سنت لڑکی کو شیعہ مرد کے نکاح میں دینا:

سوال: اہلِ سنت کے ساتھ شیعوں کے اصولی اختلافات کیا ہیں؟ کیا انہیں اہلِ کتاب میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ نیز اہلِ سنت لڑکی کو شیعہ مرد کے نکاح میں دیا جا سکتا ہے؟

جواب: شیعوں کا روزِ اول ہی سے یہ مقصد رہا ہے کہ اسلام کے نام پر اسلام اور اہلِ اسلام کو جہاں تک ممکن ہو ذلیل و رسوا کیا جائے، انہوں نے عقائد و عبادات اور معاملات و اخلاقیات سے متعلق ایک ایسا متوازی دین ایجاد کر رکھا ہے جو دینِ اسلام کے بالکل متصادم ہے الغرض وضو، اذان، روزہ، زکوٰۃ بلکہ ہر دینی شعار عام مسلمانوں سے ہٹ کر علیحدہ قائم کر رکھا ہے ان کے ساتھ اہلِ سنت کے اصولی اختلافات حسبِ ذیل ہیں:

1: ان کے نزدیک ائمہ اہلِ بیتؓ خدائی تصرفات کے مالک ہیں اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی بلند مقام کے حامل ہیں۔  

2: ان کے نزدیک موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے، اس مزعومہ رد و بدل کی وجہ سے یہ صحیفہ آسمانی ان کے ہاں ناقابلِ عمل ہے۔  

3: وحیِ الٰہی کے اولین مخاطب اور اصلی حاملینِ اسلام حضرات صحابہ کرامؓ کو سوائے چند اشخاص کے ان کے ہاں کافر، مرتد، منافق، ایمان سے قطعی محروم اور خالص دنیا پرست کہا جاتا ہے، بلکہ انہیں سب و شتم کرنا ان شیعوں کا جزوِ ایمان ہے۔ معاذاللہ  

4: تقیہ کے نام سے ان کے نزدیک ہر قسم کی مکاری، فریب کاری اور جھوٹ بولنا جائز ہے۔  

5: اخلاق و کردار کی بربادی کے لیے متعہ جیسی حیا سوز بدکاری کو نہ صرف عام کیا جاتا ہے بلکہ خود ساختہ احادیث کے ذریعے اس کے فضائل و مناقب بھی بیان کیے جاتے ہیں۔

یہ چند اصولی اختلافات نمونے کے طور پر ہیں ان کی موجودگی میں خود انہوں نے اپنے آپ کو اہلِ سنت سے الگ کر لیا ہے، جبکہ ان عقائد و نظریات کی وجہ سے انہیں اہلِ کتاب میں بھی شمار نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے حالات کے پیشِ نظر ایک باغیرت مسلمان کے شایانِ شان نہیں کہ وہ ان کے ساتھ رشتہ ناطہ کرے اس بنیاد پر ان کے ساتھ اہلِ سنت لڑکی کا رشتہ بھی ناجائز ہے اگر رشتہ ہو جاتا ہے تو دانستہ طور پر گناہ کی زندگی گزارنے کے مترادف ہے ایسا نکاح ہو جانے کے بعد سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ سرے سے یہ نکاح ہی نہیں ہوا اسلام سے متصادم نظریات کے حامل انسان کے ساتھ ایک مسلمان لڑکی کا نکاح کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ برادری اور ماحول کے ہاتھوں مجبور ہو کر اگر کوئی اس ناجائز نکاح کو نبھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو مسلمان لڑکی کو اپنے دین سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اور اسی طرح کی زندگی گزارنا ہو گی جس طرح یہ لوگ گزار رہے ہیں متعہ اور تقیہ جیسے حیا سوز مناظر دیکھنے اور عمل میں لانے کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا صحابہ کرامؓ سے بغض و عناد رکھنے اور انہیں سب و شتم کرنے کے لیے بھی اپنے اندر نرم گوشہ پیدا کرنا ہو گا۔

الغرض مذکورہ عقائد کے حامل انسان کے ساتھ ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز ہے ایمانی غیرت اور حمیت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ اور تعلق نہ رکھا جائے البتہ دعوت و تبلیغ کا سلسلہ رہنا چاہیے عین ممکن ہے کہ ان کوششوں سے اللہ تعالیٰ انہیں راہِ راست پر لے آئے۔ 

(فتاویٰ اصحاب الحدیث: جلد 1 صفحہ 348)