سوال:میرا نکاح ایک شخص زید کے ساتھ ہوا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مسلکاً شیعہ ہے جبکہ میں سنی ہوں ایسی حالت میں نکاح درست ہوا یا نہیں؟ اگر نہیں تو انفساخِ نکاح کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟
جواب: شیعوں میں بہت سے ایسے امور پائے جاتے ہیں جو موجبِ کفر ہیں، اگرچہ ان میں بعض امور ایسے بھی ہیں جن کے کفر ہونے میں علماء کا اختلاف ہے لیکن دو امر تو ایسے شدید ہیں کہ جو باجماع کفر ہیں ایک قرآنِ کریم کو ناقص بتلانا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کلمات یا آیات کو قرآنِ کریم سے نکالا ہے جن میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا ذکر تھا دوسرے ائمہِ اطہار کو انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دینا چنانچہ ان کے مجتہدین کے اس باب میں فتاویٰ موجود ہیں پس اگر سائلہ کے خاوند میں ان دونوں امور میں سے کوئی امر ثابت ہے تو تب تو یہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں، کیونکہ ایسی حالت میں وہ مرتد ہے اور مرتد سے کسی کا نکاح صحیح نہیں اور اگر یہ امور ثابت نہ ہوں تو پھر ایکٹ انفساخِ نکاح نمبر 1939ء کے تحت کسی مسلم حاکم سے اس نکاح کو فسخ کرایا جا سکتا ہے بعدِ انفساخِ نکاح عدت پوری کر کے دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔
(فتاویٰ مظہریہ: جلد 1صفحہ 173)