غالی شیعہ کے ساتھ نکاح کرنے اور اس میں شریک ہونے کا حکم:
سوال: ایک غالی شیعہ عورت نے اپنی خواہش اور اپنے والدین کے ایما پر یہ طے کیا ہے کہ وہ ایک سکھ مرد سے اس طور پر نکاح کرے کہ پہلے سکھ مذہب کے عقائد کے مطابق گرنتھی نکاح پڑھائے اور اس کے بعد مجتہد پڑھائے کیا یہ فعل ارتداد کی حد تک نہیں پہنچتا؟ جو لوگ اس نکاح میں شریک ہوں ان کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟
جواب:غالی شیعہ خود اپنے ہی بعض عقائد کی وجہ سے کافر ہیں، کجا کہ ایسے شدید قطعی حرام فعل میں ان کے ساتھ شرکت! اگر اس کو بہتر جان کر شرکت کی تو بیشک مسلمان کافر ہو جائے گا اور اس کے تمام اعمال غارت ہو جائیں گے، ورنہ سخت گنہگار ہونے میں تو شک ہی نہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس فعلِ شنیع سے محفوظ رکھے۔
(فتاویٰ مظہریہ: جلد 1 صفحہ 173)