صحابہ کرامؓ کے حق میں تبرا بازی کرنے والوں سے رشتہ ناطہ نہ کریں:
نبی کریمﷺ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو اعلان نبوت کے بعد جو اپنے سسر ہونے کا شرف عطا فرمایا اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کو عزتِ دامادی بخشی کیا یہ اعزاز و شرف ان حضرات کو جو مرحمت ہوا، وہ اللہ رب العزت کے ارشاد و امر سے ہوا یا صرف اور صرف حضورِ اکرمﷺ کی اپنی مرضی اور پسند تھی؟
جب ہم اس معاملہ کے سلسلہ میں قرآنِ کریم کی اس آیت کو دیکھتے ہیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى
(سورۃالنجم: آیت 3)
اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰى
(سورۃالنجم: آیت 3)
ترجمہ: حضرت رسالتِ مآبﷺ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے بلکہ وہ تو ہوتا ہی وحی ہے جو آپﷺ کی طرف کی جاتی ہے۔
اس آیتِ کریمہ سے بالکل واضح اور صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کا سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو اپنے سسر بنانے کا اعزاز اور سیدنا عثمانِ غنیؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنی دامادی میں لینا ایک ایسا فیصلہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا اور ان قابلِ احترام و مقدس حضرات کی مذکورہ رشتہ داری اور حضورِ اکرمﷺ سے ان کی یہ نسبت حکمِ خدا تعالیٰ تھی۔ حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ کسی کی نسبت اتنی بڑی عظمت کی آئینہ دار ہوتی ہے جس کے بارے میں خود حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا کہ قیامت میں سب نسبتیں منقطع ہو جائیں گی، مگر وہ نسبت جو مجھ سے ہے وہ ہرگز ٹوٹنے نہ پائے گی لہٰذا ثابت ہوا کہ خلفائے اربعہؓ کی حضورِ اکرمﷺ سے قائم شدہ نسبت دنیا میں تو کجا قیامت میں بھی منقطع نہ ہو گی اور بموجبِ وعدہ اللہ رب العزت آپ سے ہرگز جدا نہ ہوں گے جب یہ واضح ہوا تو ان حضراتِ عالیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کامل الایمان اور جنتی ہونے میں کیا شک و شبہ رہ جاتا ہے؟ اس صراحت و وضاحت کے ہوتے ہوئے پھر بھی اگر کوئی اپنی بدبختی اور سیہ روی سے ان مقدس ہستیوں کو اپنی تبرا بازیوں اور لعن طعن کا نشانہ بنائے تو ایسے شخص کا دائرہِ اسلام سے خارج ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔
حضورِ اکرمﷺ نے اپنے سسر بنانے کا فیصلہ، اپنی ازواج بنانے کا فیصلہ، اور اپنے داماد بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس پر جو بدبخت اعتراض کرتا ہے، اور ان پر تبرا بازی کرتا ہے، گالیاں بکتا ہے، قرآنِ پاک کی روح سے کس طرح مؤمن رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔
جو آدمی کسی شخص کو گالی دیتا ہے، گالی دینے سے اس کا مقصد اس شخص کو اذیت دینا ہوتا ہے گالی سے نہ صرف اس کو اذیت پہنچتی ہے بلکہ اس کے متعلقین کو بھی اذیت پہنچتی ہے اسی اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ذرا سوچئے! کہ حضورِ اکرمﷺ کے سسرال، داماد، اولاد اور بیویوں کو جو شخص گالی دیتا ہے، وہ نہ صرف ان مقدس حضرات کو اذیت دیتا ہے بلکہ ان سے تعلق کی وجہ سے حضورِ اکرمﷺ کو بھی اذیت دیتا ہے۔
بہر صورت جو شخص حضورِ اکرمﷺ کی آلِ پاک رضی اللہ عنہم یا آپﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن یا آپﷺ کے سسر سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ یا آپ ﷺ کے داماد سیدنا عثمانِ غنیؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اذیت پہنچاتا ہے، وہ شخص اپنی ذلیل حرکت سے حضورِ اکرمﷺ کو بھی اذیت پہنچاتا ہے۔ اور جو شخص حضورِ اکرمﷺ کو اذیت پہنچائے اس کے متعلق قرآنِ مجید کا فرمان ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا
(سورۃالاحزاب: آیت 57)
ترجمہ: جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے، اور ان کے لیے عذابِ الٰہی ہے۔
لہٰذا میں اپنے متعلقین کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خصوصاً خلفائے اربعہؓ کے حق میں تبرا بازی کرنے والوں سے رشتہ ناطہ، اور باعتبارِ عقیدہ کے کسی قسم کا حسنِ تعلق پیدا نہ کریں ورنہ قیامت کے دن ان لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
(تحفہ جعفریہ: جلد 1 صفحہ 544)