خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں - دفاعِ اہلِ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 6
و فی شرح السنۃ قال ابومنصور البغدادی اصحابنا مجمعون علی ان افضلھم الخلفاء الاربعۃ علی الترتیب المذکور ثم تمام العشرۃ ثم اہل بدر
(حاشیہ صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 515)
ترجمہ: ابو منصور بغدادی رحمۃ اللہ کہتے ہیں ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل علی الترتیب خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم ہیں پھر عشرہ مبشرہ اور پھر اہلِ بدر اللہ ان سے راضی ہوا۔
غور کیجیئے خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کے بعد عشرہ مبشرہ کا درجہ ہے۔ ابو منصور بغدادی رحمۃ اللہ میں ہوئے ہیں محدث سہارنپوری رحمۃ اللہ تیرہویں صدی کے اواخر میں ان سے نقل کر رہے ہیں کہ اس امت میں افضل ترین حضرات خلفائے اربعہ ہوئے ہیں۔ کوئی شخص پانچ خلفاء کا تذکرہ نہیں کرتا اور کوئی شخص اس کا مدعی نظر نہیں آتا کہ جو خلیفہ خلافت چھوڑ دے۔ تاریخ اسے خلفائے کاملین میں جگہ دے۔
حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃاللہ اجوبہ اربعین صفحہ 183 پر لکھتے ہیں:
اہل سنت گو سب کو خلیفہ کہیں پر خلیفہ برحق اور خلیفہ راشد چار کو سمجھتے ہیں۔
(آئنہ: صفحہ 189)
یہاں برحق سے مراد خلافت موعودہ ہے جس کا اس وقت کے مومنین کو وعدہ دیا گیا تھا۔ اور وہ انہی چار کو ملی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ملی تو تھی لیکن وہ ایک علاقائی امارت تھی اپنے عقد میں پوری مملکتِ اسلامی کے لیے نہ تھی۔ تاہم آپؓ اس کو پورا نہ کر سکے اور اس سے دستبردار ہو گئے۔ ان ایام کو خلافتِ راشدہ میں شمار کرنے کے باوجود خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہی ذکر کیے جاتے ہیں اور پانچواں نام ان سے علیحدہ ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم تو ان کے نزدیک (اہلِ سنت کے نزدیک) پانچ ہیں چار یار اور ایک سیدنا حسنؓ۔
(الاصول الخاملہ: صفحہ 39)
دیکھیے یہاں چار کا لفظ ان کے لیے یکجا ذکر کیا ہے اور پانچویں خلیفہ بایں طور ان سے ملحق ہیں کہ ان کے ایامِ خلافت بھی راشدہ میں شمار ہیں۔
چودھویں صدی کی شہادت:
(1329 ہجری) مولانا احمد رضا خان رحمۃاللہ کے مدرسہ منظر الاسلام بریلی کا پہلا سالانہ جلسہ 1329ھ میں ہوا مولانا کے معتمد خصوصی قاضی خلیل الدین رحمۃاللہ نے جو حافظ تخلص کرتے تھے مولانا کے سامنے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے حضور یہ نظرانہ پیش کیا۔
ہیں ارکان اسلام اصحاب چاروں۔
کہ چاروں نے ترتیب سے کی خلافت۔
وہ صدیقؓ و فاروقؓ و عثمانؓ و حیدرؓ۔
جو پیرو ہو سب کا وہ ہے اہلِ سنت۔
اس میں اس بات کی تشریح ہے کہ خلفائے اربعہ کی پیروی کا اقرار اہلِ سنت کا ہمیشہ سے امتیازی نشان رہا ہے۔
مفتی اعظم اقلیم ہند حضرت مفتی کفایت اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
حضور اقدسﷺ کی وفات کے بعد تمام مسلمانوں کے اتفاق سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ حضورﷺ کے قائم مقام بنائے گئے اس لیے یہ خلیفہ اول ہیں۔ ان کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ دوسرے خلیفہ ہوئے۔ ان کے بعد سیدنا عثمانؓ تیسرے خلیفہ ہوئے۔ ان کے بعد سیدنا علیؓ چوتھے خلیفہ ہوئے۔ ان چاروں کو خلفائے اربعہ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور چار یار کہتے ہیں۔ 
(تعلیم الاسلام: حصہ 3 صفحہ 18)
چاروں حضرات حق کا نشان بنے
ابھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے کہ تشیع اور خوارج کے فتنے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہود نے ابتداء میں تشیع کو صرف سیاسی جماعت کی شکل دی تھی۔ لیکن خوارج شروع سے ہی ایک مذہبی اختلاف لے کر اٹھے تھے ان دنوں اہلِ حق انہی چار حضرات رضی اللہ عنہم کی عقیدت سے پہچانے جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ(37 ہجری) کو خارجیوں نے گھیر لیا اور پوچھا من انت؟ (تو کون ہے؟) انہوں نے کہا کہ میں صحابی رسول عبداللہ بن خباب ہوں انہوں نے پھر ان سے چاروں کے بارے میں پوچھا۔
حافظ ابنِ اثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
فسئلوہ عن ابی بکر و عمر و عثمان و علی
(اسد الغابہ: جلد 3 صفحہ 150)
سیدنا عبداللہ بن خبابؓ نے چاروں کے خیر ہونے کی شہادت دی۔ انہوں نے اس پر انہیں قتل کر دیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں اہلِ حق کا نشان ان چاروں کی عقیدت تھی۔ اسلام کی یہ 14 صدیوں کی شہادت آپ کے سامنے ہے۔

صفحہ 6 از 6