خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں - دفاعِ اہلِ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 6
ترجمہ: امام برحق اور جسے حضورﷺ کا خلیفہ کہا جا سکے وہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا۔ ان کے بعد سیدنا عمرؓ ہے اللہ تعالیٰ ان سے بھی راضی ہوا۔ ان کے بعد سیدنا عثمان ذوالنورینؓ ہے اللہ ان سے بھی راضی ہوا ان کے بعد سیدنا علی بن ابی طالبؓ ہے اللہ کی رضا آپؓ کے شامل حال ہو۔ ان حضرات کی افضلیت ان کی ترتیب کے مطابق ہے ہاں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت قطعی ہے جو امت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہے۔
یہ جو فرمایا کہ ائمہ برحق کی افضلیت ان کی خلافت کی ترتیب کے موافق ہے۔
(مکتوبات: جلد 3 صفحہ 45) 
اسے آپ نے دوسرے مقام پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے عنوان سے ذکر کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے
کہ عقائدِ اہلِ سنت میں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم یہی ہیں۔ حضرت امام ربانیؒ لکھتے ہیں۔
و ترتیب درمیان خلفائے راشدین ترتیب خلافت است 
(مکتوبات: جلد 1 مکتوب 266)
ترجمہ: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے مابین افضلیت خلافت کی ترتیب سے ہے۔
سیدنا حسنؓ کو آپ نے اس ترتیب میں ذکر نہیں فرمایا باوجود یہ کہ آپؓ کے ایامِ خلافت 30 سال میں شمار پاتے ہیں اور وہ واقعی خلافتِ راشدہ کے دن تھے مگر چونکہ یہ خلافت کاملہ نہ تھی آپؓ اس سے دست بردار ہو گئے تھے اس لیے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اصطلاح انہی چار تک محدود رہی۔ اور جب اس کے ساتھ آیتِ استخلاف کو ملائیں تو یہ الہٰی فیصلہ اور کھل کر سامنے آتا ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم وہی ہیں جن پر اس آیت میں دیا گیا وعدہ پورا ہوا اور وہی سابقین اولین تھے جو ہجرت کر کے مدینہ آئے اور نزولِ آیت کے وقت اسلام لائے ہوئے تھے۔
محدث شہیر ملا علی قاریؒ (1014ھ) خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کا تعارف ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
قیل ھم الخلفاء اربعۃ ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم لانہ علیہ الصلوۃ والسلام قال الخلافۃ بعدی ثلثون سنۃ وقد انتہاء بخلافۃ علی کرم اللہ وجہہ
(شرح مشکوٰہ: جلد، 1 صفحہ، 242)
ترجمہ: کہا گیا وہ خلفائے اربعہ ہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عمرؓ حضرتؓ حضرت علیؓ اللہ ان سے راضی ہوا کیونکہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا تھا خلافت میرے بعد 30 سال تک رہے گی اور وہ خلافت حضرت علیؓ پر ختم ہوئی۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (1052ھ) بھی لکھتے ہیں:
و مراد خلفائے راشدین خلفائے اربعہ داشتہ اند
اب آپ ہی کہیں ان چار کے ساتھ کیا کسی پانچویں کا ذکر ہے حضرت حسنؓ کی جلالت قدر سے کسی کو انکار نہیں لیکن آپؓ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے۔
بارہویں صدی کی شہادت:
مجدد مائۃ دواز دہم حضرت امام شاہ ولی الله محدث دہلوی رحمۃاللہ رقم طراز ہیں:
ابوبکر صدیق امام حق بعد رسول اللہﷺ ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی اللہ عنہم ثم تم الخلافۃ
(تفہیماتِ الہٰیہ: جلد، 1 صفحہ، 148)
ترجمہ: آنحضرتﷺ کے بعد امام برحق سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر سیدنا عمرؓ پھر سیدنا عثمانؓ پھر سیدنا علیؓ اور پھر خلافتِ راشدہ اپنے انتہا کو جا پہنچی۔
وآنچہ متصل وفات آنحضرتﷺ واقع شد خلافت خلفائے اربعہ بود پس خلافت ایشاں خلافت نبوت و رحمت باشد
(ازالہ الخفاء: جلد، 2 صفحہ، 402)
ترجمہ: جو آنحضرتﷺ کی وفات کے متصل بعد عمل میں آئی وہ خلفائے اربعہ کی خلافت تھی۔ سو ان چاروں کی خلافت خلافتِ نبوت و رحمت شمار ہوتی ہے۔
تیرہویں صدی کی شہادت:
حضرت امام شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ (1239ھ) لکھتے ہیں:
و بالجملہ نزد اہل سنت از مقررات است کہ امامت حقہ بلاشبہ تاسی سال امتداء یافت وبصلح امام حسن کہ پانزدہم ماہ جماد الاولی در 41 ہجری چہل و یک بوقوع آمد انقطاع پذیر فت و نزد ایشاں ترتیب خلافت بروجہ حق و صواب است تقدیم ماحقہ التاخیر درآں رہ نیافتہ پس از رحلت پیغمبر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امام برحق بود
(تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ، 183)
ترجمہ: اہلِ سنت کے ہاں یہ طے شدہ عقائد میں سے ہے کہ امامت حقہ (خلافتِ راشدہ) بلا شبہ تیس سال تک ہی گئی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح 16 ہجری 15جمادی الاولیٰ کو ہوئی پر ختم ہو گئی اہلِ سنت کے ہاں ترتیبِ خلافت حق و صواب پر واقع ہوئی ہے جس کی فضیلت بعد میں ہو اسے پہلے خلیفہ بنا دیا جائے یہ بات ہرگز نہیں ہوئی پس حضور اقدسﷺ کی وفات کے بعد امام برحق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہوئے ہیں۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی آپ نے لکھی ہے کہ
امام دانستہ بود کے زمان خلافت منقضی شدہ۔ اگر من متصدی ریاست خواہم شد چوں مقدر نیست منتظم نخواہد شد۔ از ریاست آں وقت کنارہ گرفت و تفویض امر بمعاویہ رضی اللہ عنہ نمود کہ لائق ریاست آں وقت بود۔
(تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ، 183)
ترجمہ: حضرت حسنؓ جانتے تھے کہ خلافت کی 30 سالہ مدت ہو چکی ہے اگر میں مزید خلافت کے در پہ رہوں چونکہ تقدیر کا فیصلہ ہے سلطنت ایک نہ ہو سکے گی۔ آپؓ نے اس وقت خلافت سے کنارہ کشی کر لی اور سلطنت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی کیونکہ اس وقت قیادت کے لائق آپؓ ہی تھے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث کہ خلافتِ نبوت 30 سال تک رہے گی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو معلوم تھی اور وہ جانتے تھے کہ اب 30 سال پورے ہو چکے ہیں۔ وہ در پے خلافت نہ رہے۔ دستبردار ہو گئے اور اس مدت 30 سال میں صرف چار حضرات ہی کامل خلیفہ ہوئے اور فضیلت بھی صرف ان چار میں ترتیب وار دائر ہوئی اور امت نے بالاتفاق انہیں ہی خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کہا اور جو ان چار کو مانے اسے اہلِ سنت ٹھہرایا۔ کسی نے نہ کہا کہ پانچویں درجے کی فضیلت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ہے اور یہ کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم پنجتن ہیں۔ تیرہویں صدی کے آخر میں حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری رحمۃ اللہ (1297ھ) اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ (1297 ہجری) اپنے اسلاف کی راہ پر چلے ہیں اور آیتِ استخلاف کا مصداق انہوں نے بھی چار خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو ہی قرار دیا ہے۔
سہارنپوری رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
صفحہ 5 از 6