خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں - دفاعِ اہلِ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 6
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ 
(سورۃ النور: آیت، 55)
ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔
ساتویں صدی کے جلیل القدر امام ابو البركات الحنفی رحمۃاللہ (701ھ) لکھتے ہیں۔
اول من كفر هذا النعمة قتلة عثمان فاقتلوا بعد ما كانوا اخوانا وزال عنهم الخوف والاية اوضح دليل على صحة الخلفاء الراشدين رضى الله عنهم لان المستخلفين الذين امنوا وعملو الصلحت هم ھم 
(مدارک التنزیل: صفحہ، 520 طبع لبنان)
ترجمہ: سب سے پہلے اس نعمت کی جن لوگوں نے ناشکری کی وہ حضرت عثمانؓ کے خلاف اٹھنے والے قاتلین ہیں انہوں نے مسلمانوں کے بھائی بھائی ہو جانے کے بعد خانہ جنگی کی اور آیتِ استخلاف خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی صحتِ خلافت کی بڑی واضح دلیل ہے کیونکہ خلافت پانے والے جو اس وقت ایمان لا چکے تھے اور نیک عمل تھے یہی لوگ تو تھے۔
کیا یہاں کسی پانچویں خلیفہ راشد کا ذکر ہے؟ کیا آیتِ استخلاف صرف ان چار حضرات کو ہی اس وعدے کا مصداق نہیں ٹھہراتی؟
علامہ قرطبی رحمۃاللہ (671ھ) لکھتے ہیں کہ آیتِ استخلاف صرف ان چار حضرات کو ہی متضمن ہے یہی لوگ نزولِ آیت کے وقت ایمان لائے ہوئے تھے اور یہی اسلام کے لیے قربانیاں دے چکے تھے اور اس کی تائید حضور اکرمﷺ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ خلافت علی منہاج النبوۃ تیس سال تک رہے گی۔
هذا الاية تتضمن خلافة أبی بكر و عمر و عثمان و على لانهم اهل الإيمان وعملوا الصلحت وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الخلافة بعدی ثلثون سنة وإلى هذا القول ذهب ابن العربی فی الحكامه واختاره
(تفسیر قرطبی: جلد، 2 صفحہ، 297)
آٹھویں صدی کی شہادت:
حافظ ابنِ كثير الدمشقی رحمۃ اللہ (774ھ) ان حضرات کا تذکرہ کرتے ہوتے جن پر اللہ تعالیٰ نے وعدہ استخلاف پورا کیا لکھتے ہیں۔
وقد وجد منهم اربعة على الولاء وهم ابوبكر ثم عمر ثم عثمان ثم على رضى الله عنهم ثم كانت بعدھم فترة ثم وجد منهم من شاء الله
(تفسیر ابنِ کثیر: جلد، 3 صفحہ، 301)
ترجمہ: اور چار ان میں سے علی الاتصال خلافت پر پائے گئے اور وہ سیدنا ابوبکرؓ پھر سیدنا عمرؓ پھر سیدنا عثمانؓ اور پھر سیدنا علیؓ ہیں پھر ان کے بعد یہ اتصال رک گیا۔ پھر ان میں وہ لوگ بھی پائے گئے جو ان میں شامل نہیں۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) سیدنا علیؓ کو آخر الخلفاء الراشدین لکھتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا حسنؓ کو ان دنوں خلفائے راشدین میں شمار نہ کیا جاتا تھا۔ خلافتِ راشده انہی حضرات کے لیے موعود تھی جو آیتِ استخلاف کے نزول کے وقت مشرف باسلام ہو چکے تھے اور اعمال صالحہ ہجرت وغیرہ کر چکے تھے۔
وعلى آخر الخلفاء الراشدين الذين ولايتهم خلافة نبوة ورحمة
(منہاج السنہ: جلد، 4 صفحہ، 121)
ترجمہ: اور حضرت علیؓ آخری خلیفہ راشد تھے جن کی سلطنت نبوت اور رحمت کی خلافت تھی۔
خطیب تبریز رحمۃ اللہ (743ھ) مؤلف مشکوٰۃ نے بھی دورِ اول کے محدثین کے طریقے پر چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے مناقب علی الترتیب ذکر کیے ہیں۔ پھر عشرہ مبشرہ کے مناقب لائے ہیں سیدنا حسنؓ کو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ساتھ نہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
نویں صدی کی شہادت:
علامہ ابنِ ہمامؒ (861ھ) کی جلالتِ قدر اور شانِ اجتہاد سے کون واقف نہیں اگر اس موضوع میں کچھ بھی اختلاف کی گنجائش ہوتی آپ سیدنا حسن بن علیؓ کو ضرور پانچویں خلیفہ راشد کے طور پر ذکر کر دیتے اور آپ کے تفردات میں ایک اور اضافہ ہو جاتا لیکن آپ نے سرمو اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں پائی۔ آپ نے فرمایا:
ان الخلیفۃ الحق بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی والتفضیل علی ھذا الترتیب۔ (المسائرہ)
اب آئیے آپ کو ذرا دسویں صدی میں لے چلیں امام سیوطیؒ (911ھ)کی عبارت مرقات الصعود کی اس کتاب سے آپ صفحہ 53 پر ملاحظہ کر آئے ہیں۔
(حاشیہ ابی داود: جلد، 2 صفحہ، 635)
گیارہویں صدی کی شہادت:
حضرت امام ربانی سیدنا مجدد الف ثانیؒ (1035ھ) قائدِ اہلِ سنت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
امام برحق و خلیفہ مطلق بعد از حضرت خاتم الرسلﷺ حضرت ابوبکر صدیق است رضی اللّٰه عنہ بعد از آں حضرت عمر فاروق است رضی اللّٰه عنہ بعد از آں حضرت عثمان ذوالنورین است رضی اللّٰه عنہ بعد از آں حضرت علی بن ابی طالب است رضوان اللّٰه تعالی علیہ افضلیت ایشاں بہ ترتیب خلافت است افضلیت حضرات شیخین باجماع صحابہ و تابعین ثابت شدہ است۔ 
(مکتوبات: جلد 2 صفحہ 130) 
لکھنو مکتوب نمبر افضلیت شیخین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہے، امام شافعیؒ اس کی تصریح کرتے ہیں، امام ابوالحسن الاشعری کہتے ہیں۔ ان تفضیل ابی بکر ثم عمر علی بقیة الامة قطعی، قال الذھبی وقد تواتر عن علی فی خلافتہ وکرسی مملکتہ بین الجم الغفیر من شیعہ ان ابابکر وعمر افضل الامہ، (مکتوبات جلد 1 صفحہ 320) حصرت علیؓ سے اَسی سے زیادہ حضرات نے آپ کے اس اعلان کو روایت کیا ہے۔)
صفحہ 4 از 6