خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں - دفاعِ اہلِ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 6
ونتولى سائر اصحاب النبی صلى الله عليه وسلم ونكف عما شجر بينهم وندين الله بان الائمة الاربعة خلفاء راشدون مهديون لا يوازيهم فی الفضل غيرھم
(کتاب الابانہ: صفحہ، 24 طبع ریاض)
ترجمہ: اور ہم سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے ہیں اور ان میں جو (اختلافات) ہوئے ہیں ان سے اپنی زبان اور قلم کو روکتے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے حضور اقرار کرتے ہیں کہ یہ چاروں ائمہ ہی خلفائے راشدین و مہدیین تھے کوئی ان کی فضیلت میں ان سے برابری نہیں کر سکتا۔
اب پانچویں صدی میں چلیے امام غزالی رحمۃ اللہ (505ھ) لکھتے ہیں:
ان الامام الحق بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابوبكر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی الله عنهم۔ 
(احیاء العلوم: جلد، 1) 
ترجمہ: آنحضرتﷺ کے بعد امام برحق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر سیدنا عمر پھر سیدنا عثمان پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ ان چاروں سے راضی ہوا۔
فاما الخلفاء الرشدون فهم افضل من غيرهم وترتيبهم فی الفضل عند اهل السنة كترتيبهم فی الامامة وقد اجمعوا على تقديم ابى بكر ثم نص ابوبكر على عمر ثم اجمعوا بعده على عثمان ثم على رضى الله عنهم وليس يظن منهم الخيانة فی دين الله لغرض من الاغراض-
(الاقتصاد فی الاعتقاد: صفحہ، 140)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اگر پانچواں خلیفہ راشد مانا جائے تو ان کی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ پر بھی افضلیت ماننا پڑے گی۔
اب ہم آپ کو چھٹی صدی میں لے چلتے ہیں۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃاللہ (561ھ) لکھتے ہیں۔
وافضل هؤلاء العشرة الابرار الخلفاء الراشدون الاربعة الاخيار و افضل الاربعة ابوبكر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی اللہ تعالیٰ عنهم ولهولاء الاربعة الخلافة بعد النی صلى الله عليه وسلم ثلثون سنة۔
ترجمہ: ان دس نیک افراد میں سے سب سے اچھے اور افضل خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم ہیں اور ان چار میں سب سے افضل حضرت ابوبکرؓ ہیں پھر حضرت عمرؓ پھر حضرت عثمانؓ پھر حضرت علیؓ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا۔ اور ان چاروں نے تیس سال حکومت کی۔
چھٹی صدی کی شہادت:
قاضی عیاض مالکی رحمۃاللہ (544ھ) بھی آنحضرتﷺ سے چار اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کا لفظ نقل کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان چاروں بزرگوں کا ذکر بایں طور کہ یہ ایک ہیں اور مسلسل ہیں ان میں عام تھا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں افضل ترین امت تھے۔
حضورﷺ نے فرمایا:
ان الله اختار اصحابی على جميع العالمين سوى النبيين والمرسلين و اختار لى منهم اربعة ابوبكر و عمر و عثمان و عليا فجعلهم خیر اصحابی و فی اصحابی كلهم خير (الشفاء: جلد، 2 صفحہ، 119)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جملہ جہانوں پر ماسوائے نبیوں اور رسولوں کے برگزیدہ کیا اور ان میں سے میرے لیے چار کو چن لیا یہ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ ہیں۔ اللہ نے ان کو میرے لیے بہترین ساتھی بنایا اور ویسے میرے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں خیر ہے۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ (606ھ) بھی آیت استخلاف کا مصداق صرف چار حضرات کو بیان کرتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جن حضرات کو حکومت کرنے کا موقع ملا ان میں صرف یہی چار تھے جو اس آیت کے نزول کے وقت ایمان لائے ہوئے تھے آپ تفسیر کبیر صفحہ 25 پر لکھتے ہیں۔
دلت الآية على امامة الائمة الاربعة وذالك لانه تعالىٰ وعد الله الذين امنوا وعملوا الصلحت من الحاضرين فی زمان محمد صلى الله عليه وسلم وهو المراد بقوله ليستخلفنهم فی الارض
ترجمہ: یہ آیت چار خلفاء کرام رضی اللہ عنہم کی امامت ثابت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ ان لوگوں سے کیا تھا جو حضورﷺ کے سامنے اس وقت موجود تھے اور ایمان لائے ہوئے تھے اور انہوں نے نیک اعمال (ہجرت) کیے تھے خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا اس سے مراد یہی لوگ ہیں۔
فثبت بهذا صحة امامة الائمة الاربعة وبطل قول الرافضة الطاعنين على ابى بكر و عمر و عثمان و على بطلان قول الخوارج الطاعنين على عثمان و على
ترجمہ: اس آیت سے چاروں ائمہ کی امامت صحیح ثابت ہوتی ہے۔ اور رافضی جو سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ پر زبان کھولتے ہیں ان کی بات باطل ٹھہرتی ہے اور خارجی جو سیدنا علیؓ ان کی بات بھی باطل قرار پاتی ہے۔
ساتویں صدی کی شہادت:
امام نووی رحمۃاللہ (676ھ) اس دور کے جلیل القدر محدث ہیں۔ آپ نے حدیث کہ میرے بعد خلافت تیس سال تک رہے گی کا اعتبار کیا ہے اور بارہ حکمرانوں کی خبر کو بھی صحیح قرار دیا ہے آپ دونوں کے تعارض کو اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تیس سالہ خلافت سے مراد خلافتِ علی منہاج النبوۃ ہے۔
(فی بعض الروایات خلافت النبوت بعدی ثلاثون سنہ، شرح صحیح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 119)
یہ واقعی تیس سال تک رہی اس میں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ایامِ خلافت پورے ہوئے۔ آپ اس بحث میں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا لفظ صریح لفظوں میں ان حضرات کے لیے خاص کرتے ہیں اور خلافت کی گنتی پوری کرنے کے لیے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے اشہر خلافت (چھ ماہ) کو ان میں جمع کرتے ہیں مگر پانچ خلفائے راشدین نہیں بتلاتے۔
فانه لم يكن فى ثلثين سنة الا الخلفاء الراشدون الاربعة والاشهر التی بويع فيها الحسن بن على
(ایضاً صفحہ 119 و رواہ الامام احمد ابوداؤد والترمذی والنسائی من حدیث سعید بن جمہان عن سفینتہ مولی رسول اللہﷺ، تفسیر ابنِ کثیر: جلد 3 صفحہ 308)
قال الحافظ فی الفتح صححہ ابنِ حبان وغیرہ (فتح الباری: جلد 13 صفحہ 182) حضرت شاہ ولی الله رحمۃاللہ تیس سال خلافت کی حدیث کو مستفیض فرمایا ہے (دیکھیے ازالہ الخلفاء: جلد 2 صفحہ 202) حدیث کے راوی سعید بن جمہان کو یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے (دیکھیے میزان الاعتدال) اگر کسی نے اس حدیث کی صحت سے انکار کیا ہے تو اس کی مراد صحیح لذاتہ ہو گی اس کے معنی اور مقبول ہونے میں کسی نے انکار نہیں کیا)
اللہ نے آیت
صفحہ 3 از 6