خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں - دفاعِ اہلِ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 6
ترجمہ: تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہا بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ سو تم میرے طریقے اور خلفائے راشدین و مہدیین کے طریقوں کو لازم پکڑنا۔
حافظ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ مرقاة الصعود میں لکھتے ہیں:
هذا من الاخبار بالغيب من خلافة الائمة الاربعة ابی بكر وعمر وعثمان وعلى رضى الله عنهم
ترجمہ: یہ حدیث ائمہ اربعہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنھم کی خلافت کی ایک غیبی خبر تھی۔
یعنی آپﷺ نے اس میں بتلایا ہے کہ آپﷺ کے بعد آپ کا نظام جاری رہے گا۔ آپﷺ کے جانشین آپ کے مطابق چلیں گے وہ راشدین اور مہدیین ہوں گے اور دنیا نے دیکھا کہ واقعی آپﷺ کے بعد خلفائے راشدین حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھم آپﷺ کے مشن کے مطابق چلے اور چاروں ایک دوسرے سے مسلسل تھے۔
حضرت امام اعظم ابوحنیفه رحمۃ اللہ (150ھ) ان چار حضرات کا شیخین (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اور ختنین (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں۔
من علامات السنة والجماعة تفضيل الشيخين ومحبة الختنين
(ماخوذ از مکتوبات امام ربانی: جلد، 1 صفحہ، 330)
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کی مسلکی علامت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جمیع امت پر افضل جاننا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دل سے پسند کرنا ہے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی افضلیت قطعی درجے کی ہے اور یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین کے اجماع سے ثابت ہے اور تواتر سے منقول ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی افضلیت یہ بھی برحق ہے لیکن یہ تواتر سے منقول نہیں ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام امت سے افضل ہیں۔ لیکن ان کی فضیلت بھی تواتر سے منقول نہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ادوار میں مسلمانوں میں جو باہمی اختلافات چلے ان میں تمام کدورتوں اور اختلافات کو برسرِ طاق رکھتے ہوئے ان کی محبت اور ان کی حضور خاتم النبینﷺ سے دامادی کی نسبت اہلِ حق کے عقیدے کا مرکزی نقطہ ہے۔ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ ان دونوں حضرات کی محبت کو اسی طرح واجب قرار دیتے ہیں جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی پوری امت پر افضلیت کے قائل ہیں۔
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ کی یہ تعبیر صرف چاروں کو آگے لا رہی ہے۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں اگر کوئی پانچواں نام بھی ہوتا تو اسے بھی اس ترتیب میں افضلیت ملتی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محدثین نے ان چار حضرات کو فضائل و مناقب میں اسی ترتیب سے ذکر کیا ہے اور کوئی سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو یہاں پانچویں نمبر میں ذکر نہیں کرتا ان کی فضیلت اور شان حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جس میں خلافت کا کوئی موضوع نہیں ہاں یہ صحیح ہے کہ حضرت حسنؓ حضرت حسینؓ سے افضل ہیں اور امت میں دوبارہ جوڑ پیدا کرنے میں آپؓ کا ایک نمایاں کردار ہے اور اس معنی کے اعتبار سے بھی آپ سید ہیں۔ پوری قوم کے سردار ہیں۔
محدثین کی روش:
دوسری صدی ہجری کی شہادت آپؓ کے سامنے آ چکی ہے اگلے محدثین اس باب میں کس طرح چلے ہیں اس کے لیے تیسری صدی کے اکابر محدثین کو دیکھیے۔ یہ صحیح بخاری کا کتاب المناقب سامنے ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے ابواب مسلسل ہیں اور اسی ترتیب سے ہیں ان کے بعد مناقبِ سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کا باب ہے۔ اس کے بعد پھر حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنھما کے مناقب ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پانچویں خلیفہ راشد ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد انکے مناقب کا باب ہوتا۔ صحیح مسلم کو لیجیے اس کی کتاب الفضائل میں چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ابواب فضائل مسلسل ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے فضائل کا باب ہے پھر حضرت طلح بن زبیر رضی اللہ عنھما کے فضائل ہیں پھر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے فضائل ہیں اور ان کے بعد حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنھما کے فضائل کا ذکر ہے۔ جامع ترمذی کے ابواب المناقب میں خلفائے اربعہ کے مناقب اسی ترتیب سے ہیں۔
پھر حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے مناقب کا بیان ہے۔ حضرات حسنین کریمین کے مناقب اور بھی آگے جا کر ہیں۔ یہ تیسری صدی ہجری کے محدثین کا تذکرہ ہے کوئی محدث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد متصلاً سیدنا حضرت حسینؓ کا تذکرہ نہیں کرتا۔ اب کیسے باور کیا جائے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔
آئیے اب چوتھی صدی میں چلیں امام طحاوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
ونثبت الخلافة بعد رسول صلى اللہ عليه وسلم اولا لابی بكر الصديق رضى الله تعالى عنه وتفضيلاً له وتقديما له على جميع الامة ثم لعمر بن الخطاب ثم لعثمان ثم لعلى بن ابى طالب وهم الخلفاء الراشدون والائمة المهديون (شرح عقیدہ طحاویہ)
ترجمہ: حضور اکرمﷺ کے بعد پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت کرتے ہیں بایں طور کہ آپؓ کو تمام امت پر فضیلت اور تقدیم حاصل ہے پھر یہ خلافت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت کرتے ہیں پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اور پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت کرتے ہیں اور یہی خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور آئمہ مہدیین ہیں۔
اب آپ ہی بتائیے یہاں ان چاروں کے بعد پانچواں نام کہاں ہے؟
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کیا یہی چاروں اصحاب نہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ایام خلافتِ راشدہ کے دن تھے لیکن آپؓ کی خلافت سے علیحدگی آپؓ کو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی فہرست میں نہ لا سکی اور امت نے صرف انہی چار کو اس عنوان میں تسلیم کیا ہے۔
امام ابوالحسن الاشعری رحمۃاللہ (324ھ) بھی لکھتے ہیں:
صفحہ 2 از 6