شیعوں سے نکاح کرنا حرام ہے - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعوں سے نکاح کرنا حرام ہے


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص زید نے اپنی بہن ساجدہ کا نکاح عمرو سے کیا تھا اُس وقت عمرو سنی مذہب سے تعلق رکھتا تھا کافی عرصے بعد ساجدہ کے ماموں عمرالدین نے عمرو کو ورغلا کر اس سے ساجدہ، جو اس کی بھانجی تھی، طلاق دلوائی اور عمرالدین نے اپنی بیٹی صائمہ کا رشتہ عمرو سے کیا اور اس وقت عمرو پکا شیعہ ہو چکا تھا اور عمرالدین نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ عمرو شیعہ ہے، اپنی بھانجی کو طلاق دلوا کر اپنی بیٹی کا رشتہ عمرو سے کر دیا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ عمر الدین حج پر جانا چاہتا ہے اور لوگوں نے اس سے کہا کہ سب عزیز رشتہ داروں کو راضی کرنے اور ان سے معافی مانگنے کے بعد حج پر جانا چاہیے۔

اب عمرالدین ساجدہ کے بھائیوں اور رشتہ داروں کے پاس معافی مانگنے کے لیے آتا ہے اب عمرالدین کو شریعتِ محمدیﷺ کے مطابق معاف کرنا چاہیے یا نہیں؟ حالانکہ اس نے دو عظیم گناہ کیے ہیں:  

1: اپنی بھانجی کو طلاق دلا کر اپنی بیٹی کا رشتہ کیا۔  

2: جان بوجھ کر شیعہ کو اپنی بیٹی دی۔  

ان حالات میں عمرالدین کو ساجدہ کے بھائی اور رشتہ دار معاف کریں یا نہیں؟

جواب: عمرالدین دو گناہ کا مرتکب ہوا ہر گناہ اپنی جگہ عظیم گناہ ہے میاں بیوی کے مابین تفریق اور عورت کو مرد سے ورغلانا یا مرد کو عورت سے ورغلانا، حدیثِ شریف میں ایسے شخص پر لعنت آئی ہے اور قرآنِ کریم نے اسے شیطانی فعل بتایا ہے تو عمرالدین کو لازم ہے کہ اس کے فعل سے جس مسلمان مرد، خواہ عورت کو اذیت پہنچی، اس سے صاف الفاظ میں معافی مانگے اور ان پر لازم ہے کہ معافی مانگنے پر معاف کر دیں مگر دوسرا گناہ بڑا کڑوا گھونٹ ہے۔

آج کل کے رافضیوں میں کسی ایسے شخص کا ملنا جسے ضعیف طور پر مسلمان کہہ سکیں، شاید ایسا ہی دشوار ہوگا جیسے سفید رنگ کا کوا اور ایسے رافضیوں کا حکم بالکل مثلِ حکمِ مرتدین ہے، یعنی ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا حرام، حرام، حرام ہے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دینا تو سخت قہر، قاتل زہر ہے، کیونکہ عورتیں مغلوب و محکوم ہیں، اور ناقصات العقل والدین بھی ہیں تو اس جرم و گناہ سے معافی کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ عمر الدین اپنی بیٹی کا نکاح فسخ کرائے اور باقاعدہ عدت میں اسے بٹھائے، پھر کسی سنی کے نکاح میں لائے اگر وہ ایسا کر لے تو مسلمان اسے معاف کر دیں، اور اس سے توبہ علی الاعلان کرائیں۔  

(فتاویٰ خلیلیہ: جلد 2 صفحہ 32)