سوال: زید جو کہ سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہے، لیکن وہ اکثر شیعوں کے یہاں اُٹھتا بیٹھتا، کھاتا، پیتا اور سلام و کلام اور اُن کے یہاں شادی بیاہ میں شرکت کثرت سے کرتا ہے، اور اُن کی مجلس میں حاضر ہوکر اُن کے وعظ کو سنتا اور سن کر خصوصاً شیخینؓ کی شانِ مبارک میں برائیاں کرتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: روافضِ زمانہ بالعموم کافر و مرتد ہیں کہ قرآنِ کریم کو ناقص مانتے ہیں اور ائمہ کرام کو انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دیتے ہیں، اور یہ بالاجماع کفر ہے اور کافر و مرتد سے میل جول رکھنا، اُن کے ساتھ اُٹھنا، بیٹھنا سخت حرام و گناہ ہے۔
اعلیٰ حضرت اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: روافضِ زمانہ علی العموم مرتد ہیں، کوئی معاملہ اہلِ سنت کا سا حلال نہیں، ان سے میل جول، نشست و برخاست، سلام و کلام سب حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:
وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ
(سورۃالانعام: آیت 68)
حدیثِ شریف میں ہے: نبی کریمﷺ نے فرمایا: سَيَأْتِی قَوْمٌ لَهُمْ نَبَزٌ يُقَالُ لَهُمُ الرَّافِضَةُ يَطْعَنُونَ السَّلَفَ وَلَا يَشْهَدُونَ الْجَمَاعَةَ فَلَا تُجَالِسُوهُمْ وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ وَلَا تُشَارِبُوهُمْ وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ وَإِذَا مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِذَا مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ۔
ترجمہ: عنقریب کچھ لوگ آنے والے ہیں، اُن کا بد لقب ہوگا، انہیں رافضی کہا جائے گا، سلفِ صالح پر طعن کریں گے اور جمعہ و جماعت میں حاضر نہ ہوں گے اُن کے ساتھ نہ بیٹھنا، نہ اُن کے ساتھ کھانا کھانا، اور نہ ان کے ساتھ پانی پینا، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا۔ بیمار پڑیں تو انہیں پوچھنے نہ جانا، مر جائیں تو اُن کے جنازے میں نہ جانا، نہ ان پر نماز پڑھنا، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔
لہٰذا زید سنی صحیح العقیدہ مسلمان کا روافض سے میل جول رکھنا، اُن کے یہاں کھانا پینا، شادی بیاہ میں شرکت کرنا سب حرام، اشد حرام ہے۔
اور حضرات شیخینِ کریمینؓ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی شان میں تبرّا بکنا، انہیں گالی دینا تو کفر ہے، فقہاءِ کرام ایسے شخص کو کافر کہتے ہیں۔ چنانچہ: در مختار باب المرتد میں ہے: فِی الْبَزَّازِيَّةِ عَنِ الْخُلَاصَةِ أَنَّ الرَّافِضِی إِذَا كَانَ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ وَيَلْعَنُهُمَا فَهُوَ كَافِرٌ۔
لہٰذا اگر زید حضرات شیخینؓ کو گالی دیتا ہے تو وہ تبرّائی رافضی ہے اور کافر ہے اس پر فرض ہے کہ فوراً اس برے عقیدے سے تائب ہو، رافضیوں سے دور و نفور ہو بیوی والا ہو تو تجدیدِ اسلام کے بعد تجدیدِ نکاح بھی کرے، اور جب تک ایسا نہ کرے مسلمان اس کا سخت بائیکاٹ کریں۔
(فتاویٰ مرکز تربیت افتاء: جلد 2 صفحہ 85)