سوال: زید مندرجہ ذیل باتیں کہتا ہے:
1: قرآن بدل دیا گیا ہے۔ العیاذ باللہ
2: صحابہؓ جنتی بھی ہیں اور جہنمی بھی۔ (العیاذ باللہ)
3: حضورِ اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہوگا یا نہیں، لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے، ایک بار نہیں کئی بار۔ (العیاذ باللہ)
4: حضرت آدم علیہ السلام نے جنت میں پاخانہ کر کے اس کو گندہ کر دیا۔ (العیاذ باللہ)
5: اللہ تعالیٰ بھگوان، ہری اوم ایک ہی ہے۔ (العیاذ باللہ)
6: قبر کے سوالوں کے جواب میں میرا نام لے لینا۔ (العیاذ باللہ)
زید کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ کسی سنی لڑکی سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیا بعدِ توبہ بھی فوراً نکاح نہیں کیا جا سکتا؟
جواب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ
(سورۃالحجر: آیت 9)
ترجمہ: یعنی بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ کا ارشاد ہے:
وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى الخ۔
(سورۃالحدید: آیت 10)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھلائی کا وعدہ فرمایا یعنی جنت کا۔
لہٰذا زید کا یہ کہنا کہ صحابہؓ جنتی بھی ہیں جہنمی بھی، اور قرآنِ مجید کو جھٹلانا اور اس کا جھٹلانا کفر ہے زید کے اور باقی جملے بھی کفر و گمراہی کے برابر ہیں تو اس کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ مرتد کے حکم میں ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ: مرتد کا نکاح مرتدہ، مسلمہ اور کافرہ اصلیہ کسی سے جائز نہیں، ایسے ہی مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا اسی طرح امام محمدؒ کی کتاب مبسوط میں ہے:
اور بعدِ توبہ بھی فوراً نکاح نہیں کیا جا سکتا، بلکہ کچھ دنوں اسے دیکھا جائے گا کہ وہ اپنی توبہ پر قائم ہے یا نہیں، جیسے کوئی فاسقِ معلن توبہ کر لے تو فوراً اسے امام نہیں بنایا جا سکتا۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ فتاویٰ قاضی خان پھر فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ: فاسق توبہ کر لے تب بھی اس کی گواہی نہیں قبول کی جائے گی جب تک کہ اتنا وقت نہ گزر جائے کہ اس پر توبہ کا اثر ظاہر ہو۔
(فتاویٰ فیض الرسول: جلد 1 صفحہ 478)