مفتی جلال الدین احمد امجدی کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع…

مفتی جلال الدین احمد امجدی کا فتویٰ


ناواقفیت کی بناء پر سنی لڑکی کا نکاح شیعہ کے ساتھ کر دیا گیا:

سوال:ایک سنی صحیح العقیدہ لڑکی کی شادی اس کے بھائی نے ناواقفیت کی بناء پر شیعہ کے ساتھ کر دی کافی عرصہ بعد معلوم ہوا کہ وہ شیعہ مذہب رکھتا ہے اس اثناء میں اولادیں بھی ہوئیں اور نکاح سنی صحیح العقیدہ مولوی نے پڑھائی تھی تو اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟ اور کیا اس سے علیحدگی کی صورت میں طلاق کی ضرورت پڑے گی؟ نیز جو اولادیں ہوئیں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب: تبرّائی رافضی کافر و مرتد ہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

الرَّافِضِی إِذَا كَانَ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ وَيَلْعَنُهُمَا وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ فَهُوَ كَافِرٌ۔ 

اور مرد کے ساتھ نکاح باطلِ محض ہے۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے: 

وَمِنْهَا مَا هُوَ بَاطِلٌ بِالِاتِّفَاقِ نَحْوُ النِّكَاحِ، فَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مُسْلِمَةً مُرْتَدَّةً وَلَا ذِمِّيَّةً۔ 

لہٰذا اس صورت میں بغیر طلاق لیے دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے۔

اور اگر تفضیلی رافضی ہے تو مبتدع اور گمراہ ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

وَإِنْ كَانَ يُفَضِّلُ عَلِيًّا عَلَى أَبِی بَكْرٍ لَا يَكُونُ كَافِرًا إِلَّا أَنَّهُ مُبْتَدِعٌ۔ 

اس صورت میں نکاح درست ہوگیا مگر اس کا گمراہ شوہر کے ساتھ رہنا اور شوہری تعلقات قائم کرنا سخت حرام ہے لہٰذا جس طرح ممکن ہو اس سے طلاق حاصل کر لے اور مرد کے تبرّائی رافضی ہونے کی صورت میں جو اولادیں ہوئیں، شرعاً سب ولدُ الزنا ہیں۔  

(فتاویٰ فیض الرسول: جلد 1صفحہ 605)