مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری، علامہ مفتی قاضی محمد…

مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری، علامہ مفتی قاضی محمد عبدالرحیم بستوی کا فتویٰ


صفحہ 2 از 2

سیدنا امیرِ معاویہؓ جلیل القدر صحابی ہیں، ان کی شان میں متعدد حدیثیں ہیں اور ان سے بہت سی حدیثیں مروی ہیں۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ اپنے والدین سے پہلے اسلام لائے اور اسلام کے شرف کے ساتھ نسب، صحبت، مصاہرت کا بھی شرف حضورِ اکرمﷺ سے حاصل ہے، اور ان امور کی وجہ سے جنت میں حضورِ اکرمﷺ کی رفاقت بھی لازم ہے۔

ترمذی وغیرہ نے خاص سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان میں باب باندھا ہے حدیثِ شریف میں ہے: عَنِ النبیﷺ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ۔ 

ترجمہ: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ہادی اور مہدی بنا اور اس سے لوگوں کو ہدایت دے۔

دوسری حدیث میں ہے کہ جب سیدنا عمرؓ نے حضرت عمیر بن سعدؓ کو حمص سے معزول کیا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو والی بنایا، تو لوگوں نے کہا۔ حضرت عمیرؓ نے کہا: سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکر خیر سے کرو، کہ میں نے حضور اکرمﷺ سے سنا ہے فرماتے تھے کہ اے اللہ! اس سے لوگوں کو ہدایت دے۔

بفرضِ غلط اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کافر ہوتے تو ان کی شان میں حدیثیں مروی نہ ہوتیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم دیکھیے اور سرکارِ دو عالمﷺ کے فرمان کو کتنا سچا اور یقینی مانتے تھے کہ فرماتے ہیں: حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ایک تو عہدے سے معزول بھی ہوئے، پھر بھی فرماتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکر خیر ہی کے ساتھ کرو، کیوں کہ سرکارِ دو عالمﷺ نے خاص سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں فرمایا: اللہ ان سے مؤمنین کو ہدایت دے تو اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ میں کوئی خامی ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس قدر احتیاط نہ برتتے۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ کی شان بہت اونچی ہے، جن کو سرکارِ دو عالمﷺ نے اتنا چاہا، جن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتنا رتبہ دیا سرکارِ دو عالمﷺ نے ہر صحابی کی شان میں فرمایا: أَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ۔ 

ترجمہ: یعنی میرے صحابہؓ ستاروں کی طرح ہیں، تم ان کی اقتداء کرو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔

یہ پیر پکا خبیث یا رافضی معلوم ہوتا ہے اور شیطان کا پیر ہے اس سے لوگ گمراہ ہوں گے، ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، نہ کہ راہِ رب پائیں گے۔ اس سے مرید ہونا حرام و ناجائز ہے اور اس کے کفریہ عقائد کو جانتے ہوئے مرید ہونا کفر ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں اس سے بڑھ کر توہین کیا ہو سکتی ہے کہ ان کو بالکل کافر ہی بنا دیا۔

سیدنا امیرِ معاویہؓ پر لعن طعن کرنے کے باب میں علامہ شہاب الدین خفا جی نسیم الریاض شرح شفاء میں فرماتے ہیں: وَمَنْ يَكُونُ يَطْعَنُ فِی مُعَاوِيَةَ فَذَلِكَ كَلْبٌ مِنْ كِلَابِ الْهَاوِيَةِ۔ 

ترجمہ: جو سیدنا امیرِ معاویہؓ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔

ہاں یزید کی تکفیر و لعن کے بارے میں اختلاف ہے ہمارے امامِ اعظم رحمۃ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ اس بارے میں احتیاطاً سکوت برتیں۔ یزید سے فسق و فجور مواقع متواتر ہیں، کفر متواتر نہیں بحالِ اہتمام نسبتِ کبیرہ بھی جائز نہیں، نہ کہ تکفیر۔ بہرحال ہم حنفی مقلد ہیں، ہم اپنے ایمان کی تقلید کرتے ہوئے لعن و تکفیر میں سکوت ہی اختیار کریں گے۔

رہی یہ بات کہ یزید کو خلیفہ بنانے کے سبب سیدنا امیرِ معاویہؓ پر طعن، تو حرام، اشد حرام ہے۔ 

اولاً: تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو یزید کے حالات باخوبی معلوم نہ تھے۔ 

ثانیاً: سیدنا امیرِ معاویہؓ خود مجتہد ہیں اور مجتہد کو اجتہاد میں ثواب پر دو اجر اور اجتہاد میں خطا پر ایک اجر ملتا ہے حدیثِ شریف میں ہے: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ۔

یہ پیر بالکل بے علم ہے اور پیر کا یہ کہنا کہ جو یزید اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے، شرع پر سخت جرأت ہے اور سینکڑوں افراد بلکہ اُمتِ محمدیہ کو کافر بنانا ہے اور اس پر معاونین و مخلصین کا خاموش تماشائی رہنا عجب مضحکہ خیز ہے۔

یہ پیر کافر و مرتد ہے، اس پر فرض ہے کہ صدقِ دل سے توبہ کرے اور تجدیدِ ایمان اور بیوی رکھتا ہے تو تجدیدِ نکاح بھی کرے اور معاونین و مخلصین جو اس پر راضی ہیں ان کو بھی مذکورہ حکم پر تعمیل واجب ہے ان جیسے لوگوں کے متعلق حدیثِ شریف میں ہے: إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَنِی وَاخْتَارَ لِی أَصْحَابًا وَأَصْهَارًا وَسَيَأْتِی قَوْمٌ يَسُبُّونَهُمْ وَيَنْتَقِصُونَهُمْ فَلَا تُجَالِسُوهُمْ وَلَا تُشَارِبُوهُمْ وَلَا تُوَاكِلُوهُمْ وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ۔ 

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے صحابہؓ اور سسرالی رشتہ داروں کو چن لیا، اور عنقریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں گالی دے گی اور ان کی تنقیص کرے گی تو ان کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ان کے ساتھ کھاؤ پیو اور ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو۔  

(الفتاویٰ بریلی شریف: صفحہ 271)


صفحہ 2 از 2