مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری، علامہ مفتی قاضی محمد…

مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری، علامہ مفتی قاضی محمد عبدالرحیم بستوی کا فتویٰ


صفحہ 1 از 2

سیدنا امیر معاویہؓ کو کافر کہنے والوں کے ساتھ شادی بیاہ کرنا:

سوال: ایک پیر جس نے ایک مجلس میں یزید کو کھلے عام کافر کہا اور ساتھ ہی سیدنا امیر معاویہؓ کو بھی کافر کہا اس مجلس میں ایک پابندِ شرع عالم بھی موجود تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ یزید کے بارے میں امامِ اعظم ابوحنیفہؒ کا فتویٰ ہے کہ سکوت اختیار کیا جائے اور حضرت امیرِ معاویہؓ صحابیِ رسولﷺ ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ جو یزید اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے معاونین و مخلصین نے اس لفظ کو چند مرتبہ دہرایا کہ ایسے شخص کافر ہیں۔ (معاذاللہ) ایسے عقائد رکھنے والے پیر اور ان کے معاونین و مخلصین کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: تمام صحابہ کرامؓ کی تعظیم فرض ہے اور وہ سب عُدول ہیں ان کے درمیان جو مشاجرات، (جنگ یا دیگر باتیں) واقع ہوئیں، اس میں علماءِ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان مشاجرات کا ذکر حرام ہے، کیونکہ خوف ہے کہیں کسی صحابی کی طرف سوءِ ظن، بدگمانی نہ ہو جائے اور ہماری دنیا و آخرت برباد ہو جائے۔ حدیثِ شریف میں ہے:  

إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِی فَأَمْسِكُوا۔  

ترجمہ: یعنی جب میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر کرو تو رُک جاؤ، یعنی مشاجرات نہ کرو۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں بہت سی آیات نازل ہوئیں اور بہت سی حدیثیں ناطق ہیں قرآنِ عظیم میں حضورِ اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دو قسمیں فرمائیں: مؤمنین قبل الفتح جنہوں نے فتحِ مکہ سے پہلے راہِ خدا میں خرچ و جہاد کیا، اور مؤمنین بعد الفتح جنہوں نے بعد کو۔

فریقِ اول کو دوم پر تفصیل عطا فرمائی:

لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ الخ۔  

(سورۃالحدید: آیت 10)  

ترجمہ: تم میں برابر نہیں جنہوں نے فتحِ مکہ سے پہلے خرچ و جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتحِ مکہ کے خرچ و جہاد کیا۔

اور ساتھ ہی فرمایا: 

وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ الخ۔

(سورۃالحدید: آیت 10)  

 ترجمہ: اور ان سب سے اللہ تعالیٰ جنت کا وعدہ فرما چکا۔

دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا، اور ان کے افعال پر جاہلانہ نکتہ چینی کا دروازہ بھی بند فرما دیا کہ ساتھ ہی ارشاد ہوا: وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ 

(سورۃالحدید: آیت 10)

یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خوب خبر ہے، یعنی جو کچھ تم کرنے والے ہو وہ سب جانتا ہے بایں ہمہ سب سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا، خواہ سابقین ہوں یا لاحقین۔

اور یہ بھی قرآنِ عظیم سے ہی پوچھ دیکھیے کہ مولا عزوجل جس سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا اس کے لیے کیا فرماتے ہیں:  

اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ 

(سورۃالانبیاء: آیت 101)

لَا يَسۡمَعُوۡنَ حَسِيۡسَهَا‌ وَهُمۡ فِىۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰلِدُوۡنَ‌ 

(سورۃالانبیاء: آیت 102)

لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡـفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ وَتَتَلَقّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ هٰذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِىۡ كُنۡـتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ 

(سورۃالانبیاء: آیت 103)

ترجمہ: بے شک جن سے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے، اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے انہیں غم میں نہ ڈالے گی بڑی گھبراہٹ، فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا سچا اسلامی دل اپنے رب عزوجل کا یہ ارشادِ عام سن کر کبھی کسی صحابی پر سوءِ ظن رکھ سکتا ہے نہ ان کے اعمال کی تفتیش۔

قارئین کرام! مذکورہ بالا دلائل سے صاف ہوگیا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنتی ہیں جو کسی صحابی کو کافر کہے وہ جنتی کو کافر کہتا ہے جو ایسا عقیدہ رکھے وہ خارج از ایمان ہے اور صحابہ کرامؓ کو کافر جان کر خود جہنمی بنتا ہے سیدنا امیرِ معاویہؓ جلیل القدر صحابیِ رسول ہیں اور اصحابِ رسولﷺ کے بابت اللہ جل شانہ کا فرمان گزرا ہے لہٰذا یہ پیر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کافر کہہ کر خود کافر اور جہنمی بنا۔

احادیثِ شریف میں ہے: سیدنا ابنِ مسعودؓ سے مرفوعاً روایت کیا: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِی یعنی میری صدی کے لوگ صحابہ کرامؓ سب سے بہتر ہیں اور ترمذی شریف میں ہے: لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِی أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِی یعنی آگ جہنم اس مسلم کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا۔

اور صحابہ کرامؓ کو جو گالی دے اس پر اللہ جل شانہ اور حضورِ اکرمﷺ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت برستی ہے حدیثِ شریف میں ہے: مَنْ سَبَّ أَصْحَابِی فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔

دوسری حدیثِ شریف میں ہے: إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَنِی وَاخْتَارَ لِی أَصْحَابًا فَجَعَلَ لِی مِنْهُمْ وُزَرَاءَ وَأَنْصَارًا وَأَصْهَارًا فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا۔ 

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے صحابہؓ کو چن لیا، میں اور میرے لیے انہی میں سے وزیر اور انصار اور سسرالی رشتہ دار بنائے تو جو شخص ان کو گالی دے اس پر اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کا نہ نفل قبول فرماتا ہے نہ فرض دیکھیے صحابہ کرامؓ پر نکتہ چینی کا یہ عالم ہے تو کافر جاننے والے پر کیا وبا ہوگی۔

دوسری حدیث میں ارشاد آیا ہے: أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ: كَافِرٌ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا۔

ترجمہ: یعنی جو کوئی کسی بھائی کو کافر کہے تو وہ ایک پر ضرور لوٹے گی، یعنی جو کوئی کسی بھائی کو کافر کہے، اگر وہ کافر ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ خود کافر ہے مؤمنین کے بارے میں یہ حکم ہے تو جو کوئی کسی صحابی کو کافر کہے تو بدرجہ اولیٰ فی الفور کافر ہوا۔

صفحہ 1 از 2