محمد علی نقشبندی کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

محمد علی نقشبندی کا فتویٰ


صفحہ 2 از 2

اور انہی کتب میں یہ بھی تصریح موجود ہے کہ کسی مسلمان مرد عورت کا نکاح کسی بھی مرتد یا مرتدہ سے ہرگز ہرگز جائز نہیں تصریح ملاحظہ فرمائیں:  

فتاویٰ عالمگیریہ: جلد 2 صفحہ 383 پر ہے کہ: مرتدین کے ان احکامات میں کہ جن بطلان پر تمام علماء کا اتفاق ہے ایک یہ ہے کہ ان سے نکاح کا لین دین بالکل باطل ہے لہٰذا کسی مرتد کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت، مرتدہ، ذمیہ، آزاد اور باندی سے نکاح کرے، اس کا ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے، اور شکاری کتے، باز اور اس کا شکار کیا ہوا بھی قطعاً حرام ہے۔

قارئینِ کرام!

فتاویٰ عالمگیری اور دیگر کتبِ فتویٰ سے واضح ہو گیا کہ شیخینؓ پر لعن طعن کی وجہ سے شیعہ اسلام سے خارج اور مرتدین کے حکم میں ہیں، اور ہر مرتد کے متعلق امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کو نکاح دینا یا ان سے رشتہ لینا دونوں حرام ہے۔

اے نام نہاد سنیو!

ان تصریحات کے بعد تمہاری آنکھیں کھل جانی چاہئیں، اور تمہیں غیرتِ ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے سابقہ وطیرہ سے توبہ کرنی چاہیے، اور آئندہ کے لیے گستاخانِ شیخینؓ سے کسی قسم کی مناکحت روا رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے، ورنہ اپنے آپ کو اہلِ سنت شمار نہ کرو آخر اللہ تعالیٰ کے ہاں جانا ہے، اس کے محبوبﷺ کی شفاعت چاہیے ہے تو شیخینؓ کے بکواسی کے ساتھ رشتہ گانٹھنے والا اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺ کے سامنے کس منہ سے جائے گا، اور کس سے شفاعت کی التجاء کرے گا؟  

(فقہِ جعفریہ: جلد 2 صفحہ 34، 52)

شیعہ لوگوں کے ساتھ نہ رشتہ ناطہ کریں، نہ کرائیں:

قرآنِ کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی ہے لیکن اس کے برعکس اہلِ تشیع کا اجماعی عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآنِ کریم نامکمل اور محرّف ہے، اور اس سلسلہ کی تائید میں ان کے ہاں اس قدر روایات پائی جاتی ہیں جو ان کے بقول حدِ تواتر سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ان کے عقیدہ کی ترجمانی کے لیے ایک حوالہ ملاحظہ ہوں:

تفسیر مرآة الانوار: جلد 1 صفحہ 19 پر ہے کہ تمہیں اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ان مذکور امور (قرآنِ کریم کے محرّف اور نامکمل ہونے) پر لاتعداد احادیث دلالت کرتی ہیں، بلکہ ان میں اکثر ہر شیعہ امامی علماء کا اجماع ہے، اور ان کے حق ہونے پر نص کی گئی ہے، بلکہ یہ بات تو شیعہ مذہب کی ضروریاتِ دینیہ میں سے ہے۔

علاوہ ازیں اہلِ تشیع یہ بھی نظریہ رکھتے ہیں کہ اصل قرآن حضرت علیؓ لے کر آئے تھے جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور قریش وغیرہ کی مذمت تھی، جب اسے ابوبکرؓ و عمرؓ نے دیکھا تو رد کر دیا اس پر سیدنا علیؓ نے کہا کہ اب یہ قرآن تمہیں نہیں ملے گا چنانچہ خلفاءِ ثلاثہؓ نے ملی بھگت سے اِدھر اُدھر سے اپنی مرضی کی آیات جمع کیں، اور بوجہ غاصب اور ظالم ہونے کے انہوں نے اپنے حق میں بہت سی آیات جمع کر دیں اور اصل قرآن میں سے وہ آیات جو ائمہ اہلِ بیتؓ کے اسمائے گرامی پر مشتمل ہیں، جن میں ان کے فضائل و مناقب تھے، نکال باہر کر دیں۔ (معاذاللہ)

قارئینِ کرام: ان حوالہ جات کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہلِ تشیع موجود قرآنِ کریم کو نامکمل اور محرّف تسلیم کرتے ہیں، اور حضورِ اکرمﷺ کے سسر اور داماد (سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ) کو (معاذاللہ) ظالم، کافر اور ملعون قرار دیتے ہیں ایسے بدعقیدہ لوگوں سے کسی سنی کا دینی و مذہبی تعلق کب جائز ہے؟

مختصر یہ کہ اہلِ تشیع کا نہ موجودہ قرآن پر ایمان ہے اور نہ ہی ان کے پاس ائمہ اہلِ بیتؓ کے صحیح فرامین و ارشادات موجود ہیں یہی دو باتیں تھیں کہ جن کو مضبوطی سے تھامنے کا حضورِ اکرمﷺ نے حکم دیا ہے ان دونوں سے محرومی کے علاوہ سرکارِ دو عالمﷺ کے سسرال (سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ) اور آپﷺ کے داماد (سیدنا عثمانِ غنیؓ) اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مسلمان نہ سمجھتے ہوئے ان پر لعن طعن کرنا جائز قرار دیا تو ایسے لوگوں سے سرکارِ دو عالمﷺ کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ ان سے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ کب راضی ہو سکتے ہیں؟

لہٰذا میں اپنے تمام مریدین، متوسلین اور متعلقین کو حکم دیتا ہوں کہ ان گستاخ لوگوں کے ساتھ نہ رشتہ ناطہ کریں نہ کرائیں، اور نہ ہی ان کی محافل و مجالس میں شمولیت کریں کیونکہ اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ نہ ہی اس سے رسول اللہﷺ راضی رہیں گے اور خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ

(سورۃالحج: آیت 11) کے مصداق بننا پڑے گا۔  

(عقائدِ جعفریہ: جلد 3 صفحہ 616)


صفحہ 2 از 2