سوال:* کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ: شیعہ لڑکی یا لڑکے کا نکاح سنی لڑکے یا لڑکی سے جائز ہے یا نہیں؟ اور جو اہلِ تشیع کے ساتھ نکاح کرنے کو جائز سمجھے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:شیعہ لڑکی سے سنی لڑکے کا نکاح باطل ہے، اس لیے کہ شیعہ آج کل عام طور پر تبرائی اور حضرت صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے منکر ہیں، اور ان ہستیوں کو سبِّ و شتم (گالی گلوچ) کرنے والے ہیں، اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر قذف لگانے والے ہیں۔ تفضیلی شیعہ کا بھی یہی حکم ہے۔
ان تمام عقائد کو فتاویٰ عالمگیری وغیرہ کتبِ فقہ میں کفریات میں شمار کیا ہے، جیسے ماسبق جواب سے ظاہر ہے اور کسی کافر سے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا جو ایسے لوگوں کو مسلمان سمجھے گا اور جانتے ہوئے ان کے ساتھ مسلمان لڑکی کے نکاح کو جائز سمجھ کر پڑھائے، اور جو اس نکاح کو جائز سمجھ کر اس میں شریک ہوں گے، ان سب پر یہی حکم ہو گا جو تبرا کرنے والوں کا ہے۔
(وقار الفتاویٰ: جلد 3صفحہ 33)