سبعہ احرف کے عقیدے کی کھل کر تائید(تفسیر صافی ۔ملا…

سبعہ احرف کے عقیدے کی کھل کر تائید(تفسیر صافی ۔ملا فیض کاشانی)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

اور اپنی سند سے فضیل بن پیار سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ لوگ کہتے ہیں :

ان القرآن نزل على سبعة أحرف

کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا :

كذبوا أعداء الله ولكنه نزل على حرف واحد من عند الواحد

اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا قرآن تو ایک حرف پر واحد کے پاس سے نازل ہوا ہے۔

(الکافی ، جلد2 ،صحفہ230 ، ح 13)

اس حدیث کا مفہوم بھی سابقہ حدیث جیسا ہے اور ان دونوں احادیث کا مقصود ایک ہے اور وہ یہ کہ صحیح قرأت صرف ایک  ہے لیکن  جب امام علیہ السلام کو یہ پتا چلا کہ انھوں نے جس حدیث کی روایت کی ہے اس سے  یہ سمجھا جا رہا ہے کہ تمام قرائتیں باوجود اختلاف کے درست ہیں  تو امام علیہ السلام نے ان کی تکذیب کی ہے اور اس بنیاد پر دونوں روایتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔

کافی میں کلینی نے اپنی سند سے عبداللہ بن فرقد سے اور معلی بن جینس سے روایت کی ہے وہ دونوں کہتے  ہیں کہ ہم امام صادق علیہ السلام کے پاس موجود تھے اور ہمارے ساتھ ربیعہ الرائی بھی تھا ہم نے فضیات قرآن کا ذکر کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا اگر ابن مسعود ہماری قرأت کے مطابق نہیں پڑھتا تو وہ گمراہ ہے۔ ربیعہ نے کہا  گمراہ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں گمراہ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ابی بن کعب کی قرأت کے مطابق پڑھتے ہیں۔

(الکافی، جلد 2، صحفہ 234 ، 27)

اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ابی بن کعب کی قرات صحیح ہے اور یہ قرات آئمہ کرام علیہم السلام کی قرات کے مطابق ہے۔ یا یہ کہ ابی بن کعب کی قرآت دوسرے اصحاب کے مقابل میں ائمہ کی قرآت سے زیادہ  موافقت رکھتی ہے۔

پھر بظاہر وہ اختلاف معتبر ہوتا ہے جو لفظ سے معنی تک سرایت کرتا ہے جیسے مالک اور ملک کا اختلاف جو لفظ سے تجاوز نہیں کرتا یا اگر تجاوز کرتا تو معنی مقصود میں خلل واقع نہیں  ہوتا خواہ باعتبار لغت ہو جیسے کفوا    یا کفوا یا باعتبار صرف ہو جیسے برتن اور پرتید یا باعتبار نحو ہو جیسے

لا يقبل منها شفاعة یالا تقبل منها شفاعة

يا وه لفظ جو معنی تک سرایت کرتا ہے مگر مقصود میں کوئی  خلل واقع نہیں  ہوتا جیسے  ریح اور ریاح  جنس اور جمع کے لئے اور اسی جیسی باتوں کے لئے قرآت مشورہ میں وسعت دی گئی ہے

اور اسی پر محمول کیا جائے گا جو آئمہ علیہم السلام سے کلمہ واحدہ میں اختلاف قرأت کے بارے میں وارد ہوا  ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ انھوں نے دونوں قرأتوں کو درست قرار دیا ہے۔ جب اس کا موقع آئے گا تو ہم اسے  بیان کریں گے۔ یا اسے اس بات پر محمول کیا جاسکتا ہے کہ ائمہ کے لیے ممکن نہ تھا کہ لوگوں کو ایک قرأت صحیحہ پر  باقی رکھیں انھوں نے دوسری قرآت کی بھی اجازت مرحمت فرما دی جیسا کہ ان کے فرمان سے اس جانب اشارہ ملتا ہے:

اقرأ وا كما تعلمتم فسيجيئكم من يعلمكم

 تم نے جس طرح سیکھا ہے اسی طرح قرآن کی تلاوت کرو عنقریب وہ آئے  گا جو تمھیں سکھائے  گا۔ جس طرح انھوں نے اجازت مرحمت فرمائی کہ لوگوں کے پاس جو قرآن موجود ہے اس کی تلاوت کریں نہ اس کی جو آئمہ کے پاس محفوظ ہے۔

اور فقہاء کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ قرآت سبعہ یا قرات عشرہ سے جو مشہور ہیں ان سے باہر نہیں جانا چاہیے اس لیے کہ یہ متواتر ہیں اور ان کے علاوہ جو قرأتیں ہیں وہ شاذ ہیں۔

صحیح بات یہ ہے کہ آج قرآن میں جو متواتر ہے وہ تمام قرأت میں قدر مشترک ہے الا یہ کہ مخصوص طور سے کوئی اکا دکا ہوں اس لیے کہ سوائے اس کے کوئی علیحدہ نہیں ہے متواتر اپنے غیر سے مشتبہ نہیں ہوسکتا اور ہم اکتفا کرتے ہیں بعض مشہور قرآت کے ذکر پر اور ہم شواذ کے ذکر کو بھی شامل کر یں گے مگر شاذ و نادر یا ان میں سے جس کی نسبت ہمارے آئمہ علیہم السلام سے ہو اور ہم اسے اصل قرار دیں گے جسے اکثریت تلاوت کرتی ہے اور وہ اکثر لوگوں کی قرآت ہے ان شاء اللہ ہم ان سب کا ذکر کریں گے۔

اور جو کچھ انھوں نے مدون کیا ہے علم قرأت اور تجوید کے قواعد اور اصطلاحات تو ان میں سے جس کا دخل ہے حروف کو واضح کرنے اور بعض کو بعض سے ممیز کرنے کے لیے تا کہ اشتباہ نہ ہو یا وقف کی حفاظت کی تاکہ جو معنی مقصود ہیں ان میں اختلال واقع نہ ہو یا اعراب کی درستی اور اس کی خوبی کے لیے تا کہ عبارت میں لغزش نہ ہو یا ناشائستگی پیدا نہ ہو یا آواز کو خوبصورت بنانے اور اس میں لحن پیدا کرنے کے لیے تا کہ وہ عرب لہجے اور خوبصورت آوازوں سے ملحق ہو جائے  اور اس مقصد کے لیے واضح سبب موجود ہے۔

معصومین سے اس بارے میں روایات وارد ہوتی ہیں ان روایات کا خیال رکھنا ضروری ہے جن میں طبعی اعتبار سے باہمی اتفاق ہے ان سے قطع نظر کرتے ہوۓ جن میں باہمی اختلاف پایا جا تا ہے۔ 

 


صفحہ 2 از 2