بوہری شیعہ سے نکاح کرنا:
سوال: ہمارے یہاں ایک لڑکا بورا (شیعہ) قوم کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، لڑکا سنی جماعت کا ہے تو اسے اس موقع پر کیا کرنا چاہیے؟ لڑکی والے کہتے ہیں کہ ہمارا ملا نکاح پڑھائے گا تو کیا ان کا ملا نکاح پڑھا دے تو صحیح ہو گا یا نہیں؟ اپنے امام صاحب نکاح پڑھائیں تو لڑکی کو مسلمان بنانا چاہیے یا نہیں؟
جواب:ہمارے علاقے میں جو شیعہ بوہرے ہیں اُن کا تعلق اسماعیلی فرقے سے ہے، اور اسماعیلیہ کے متعلق علماءِ مذاہبِ اربعہ کا اتفاق ہے کہ اُن کے ساتھ عقدِ مناکحت درست نہیں ہے اس لیے اگر وہ لڑکی اپنے مذہب پر رہتے ہوئے اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو یہ نکاح شرعاً درست نہیں ہوگا، البتہ اگر وہ لڑکی اپنے عقیدے سے توبہ اور برأت کر کے اہلِ سنت کے عقائد اختیار کر لے تب اس کے ساتھ نکاح درست ہو گا۔
(محمود الفتاویٰ: جلد 5 صفحہ 54)