شیعہ سے نکاح کرنا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ہندہ ثیبہ سنی مذہب اپنی رضا مندی و خوشی سے زید رافضی سے نکاح کرنا چاہتی ہے کیا ازروئے شریعت ہندہ کے ولی کو ہندہ کو اس نکاح سے باز رکھنے اور منع کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ اگر ولی کی رضا مندی کے بغیر ہندہ نکاح کر لے تو ایسی حالت میں ولی کا اس پر کوئی حق و جبر ہے یا نہیں؟
جواب: جو رافضی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت کے منکر ہیں، یا سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خلافت کا انکار کرتے ہیں، یا سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہو، یا یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام غلطی سے حضورِ اکرمﷺ پر وحی لے آئے تھے، اصل میں وحی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر آنے والی تھی، یہ تمام رافضی حنفیوں کے پاس کافر اور مذہبِ اسلام سے خارج ہیں ان کے احکام ہمارے پاس مرتدوں کے احکام ہیں۔ لہٰذا ازروئے شریعت رافضی سے سنیہ عورت کا نکاح ناجائز ہے کیونکہ نکاح میں شرعاً شوہر اور بیوی کے مابین کفو کا لحاظ کیا گیا ہے اور ہمسری مرد کی عورت کے ساتھ اسلام و دینداری و تقویٰ میں بھی رکھی گئی ہے، یعنی کافر یا غیر متقی و بدکار مرد، ہرگز مومنہ عاصمہ و صالحہ کا ہمسر نہیں ہو سکتا۔
پس صورتِ مسئلہ میں ہندہ سنیہ کا نکاح زید رافضی سے شرعاً جائز و صحیح نہیں ہے۔ اور ولی کو قبلِ نکاح روکنے کا حق حاصل ہے۔
(فتاویٰ نظامیہ: جلد 2 صفحہ 158)