شیعہ لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا


سوال:میرا بھانجا داؤدی قوم کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے، وہ پڑھی لکھی ہے لیکن دین سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتی لڑکی اپنا مذہب اسلام ہونے کا اقرار کرتی ہے اور کلمہ بھی پڑھتی ہے، مگر اُس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین، بھائی وغیرہ رشتہ داروں سے الگ نہ پڑ جائے، اس لیے میرے بھانجے سے کہتی ہے کہ دکھلاوے کے خاطر اپنے بڑے ملاں سے میثاق لے کر ان کے ہاتھوں نکاح پڑھ لے۔ تو شریعت کا کیا حکم ہے؟

لڑکی اپنے عقیدہ پر اور لڑکا اپنے عقیدہ پر رہ کر نکاح کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ لڑکی کو کلمہ پڑھانا ہو تو کتنے گواہ چاہیے؟

*جواب:* ذکر کردہ طریقے کے مطابق بڑے ملاں سے میثاق لینا اور داؤدی قوم کی لڑکی کے ساتھ نکاح پڑھنے میں ایمان چلے جانے کا خطرہ ہے۔ بعض رافضیوں کے عقائد کفریہ ہیں، جیسا کہ حضرت علیؓ کو خدا مانتے ہیں، سیدنا صدیق اکبرؓ کے صحابی ہونے کا انکار کرتے ہیں، سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں۔ ایسے عقائد والی لڑکی کے ساتھ نکاح پڑھنا درست نہیں۔ اگر مذکورہ لڑکی ہی کے ساتھ نکاح کرنا ہو تو اس لڑکی کو صحیح مسلمان بنا کر اسلامی طریقہ کے مطابق نکاح کریں ایک لڑکی کے لیے اپنے ایمان کو خراب نہ کریں۔

(فتاویٰ عبدالغنی: صفحہ 289)