حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 5 از 5
سیدنا ابوالدرداءؓ فرماتے ہیں مجھے سب سے زیادہ حساب کے دن کا خوف ہے کہ جس دن سارے لوگوں کے سامنے مجھ سے حساب لیا جائے گا اور یہ سوال کیا جائے گا، بتا! تو نے اپنے علم کے مطابق کتنا عمل کیا؟
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بیمار پڑے، ان کے ساتھی عیادت کے لیے آئے اور کہنے لگے کیا حال ہے اور کونسی بیماری ہے؟ فرمایا مجھے اپنے گناہوں کا شکوہ ہے، میری سب سے بڑی بیماری میرے گناہ و سیئات ہیں۔ پھر ساتھیوں نے دریافت کیا آپؓ کی کیا خواہش ہے؟ بولے! بس میری خواہش جنت ہے۔ پھر ساتھیوں نے کہا حکم ہو تو ڈاکٹر بلا لیں؟ جواب میں فرمایا رہنے دو! بس ڈاکٹروں نے ہی مجھے صاحبِ فراش بنا دیا ہے۔
(الحلیۃ الأولیاء: صفحہ، 218 جلد، 2)
ملکِ شام کے گورنر حضرت امیر معاویہؓ کے لڑکے سیدنا یزید بن معاویہؓ نے سیدنا ابو الدرداءؓ کے پاس پیغامِ نکاح بھیجا کہ آپؓ اپنی صاحبزادی سیدہ الدرداءؓ کا نکاح مجھ سے کر دیں، حضرت ابو الدرداءؓ نے پیغامِ نکاح پاتے ہی اسے مسترد کر دیا۔ مگر جب ایک ضعیف، کمزور ناتواں مسلمان شخص نے پیغامِ نکاح دیا تو اسے بسر و چشم قبول کر کے اپنی بیٹی کی شادی اس کے ساتھ کر دی۔
جب یزید کے پیغام کے مسترد کرنے کی وجہ دریافت کی گئی تو جواب میں فرمایا سیدہ درداءؓ کے سارے احوال میرے سامنے ہیں، تم لوگ ذرا یہ بتلاؤ جب حضرت درداء رضی اللہ عنہا یزید کے گھر جائے گی، وہاں کی چمک دمک، عیش و عشرت اور وہ ساری بہاریں دیکھے گی تو اس کا اور اس کے دین کا اس وقت کیا حال ہو گا!
(الحلیۃ: صفحہ، 215 جلد، 1)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے نصیحت آموز اور حکیمانہ بیانات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ خاص طور سے 
(تاریخِ ابنِ عساکر: جلد، 1 صفحہ، 213/366، جلد، 2 صفحہ، 13/393)
(حلیۃالأولیاء: جلد، 1 صفحہ، 208/227) اور (سیر اعلام النبلاء: جلد، 2 صفحہ، 335/353)
میں ان کی حکیمانہ نصیحتیں کثرت سے ہیں ان کی چند حکیمانہ نصیحتیں یہاں ذکر کی جا رہی ہیں جن کا تعلق ہم طلبہ علوم اسلامیہ سے ہے۔
سیدنا ابو الدرداءؓ ہمیشہ لوگوں کو علومِ اسلامیہ کے حاصل کرنے پر ابھارا کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے اے لوگو! آئے دن علماء کرام کی جماعتیں ختم ہوتی چلی جا رہی ہیں اور جاہلوں کی جماعتوں میں خوب تر اضافہ ہوتا چلا جا رہاہے، ان جاہلوں کو علمِ دین حاصل کرنے کا ذرہ برابر شوق ہی نہیں ہے سنو! عالم اور متعلم طالبِ علم اور مدرس دونوں اجر و ثواب میں ایک دوسرے کے سہیم و شریک ہیں۔
(تاریخ ابنِ عساکر:جلد، 2 صفحہ، 13/375، بحوالہ سیر أعلام النبلاء: جلد، 2 صفحہ، 349)
علمِ دین حاصل نہ کرنے والوں اور جاہل بن کر بیٹھنے والوں کے لیے ہلاکت و بربادی ہے اور جو علمِ دین حاصل کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے تو ان کے لیے اور زیادہ ہلاکت و بربادی ہے۔ اس آخری جملہ کو سات مرتبہ دہرایا کرتے تھے۔
(تاریخ ابنِ عساکر: جلد، 2 صفحہ، 13/377 بحوالہ سیر أعلام النبلاء: جلد، 2 صفحہ، 350)
یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن لوگوں میں سب سے بد ترین وہ بے عمل عالم ہو گا۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 223 جلد، 1)
سیدنا ابوالدرداءؓ سے ایک شخص نے نصیحت کی درخواست کی تو انہوں نے جامع و بلیغ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کو خوشحالی میں یاد کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں تنگدستی و غربت میں یاد کریں گے۔ جب تم مُردوں کا ذکر کیا کرو تو ان ہی مُردوں میں اپنے آپ کو شمار کر لیا کرو۔ جب دنیا کی کسی چیز پر تمہارا دل آجائے تو فوراً اس کے انجام و نتیجہ پر غور کر لیا کرو۔
(تاریخ ابنِ عساکر: صفحہ، 13/381 جلد، 1 بحوالہ سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 350 جلد، 2)
اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ مظلوموں کی بد دعا سے بچو، یہ جان لو کہ تھوڑا مال تمہارے پیٹ کو بھر دے یہ زیادہ بہتر ہے کہ زیادہ مال تمہیں دین سے غافل کر دے۔ نیکی و بھلائی کے کام ضائع نہیں ہوتے۔ گناہوں سے ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جب بھی شیطانی بہکاوے اور خواہشاتِ نفسانی کی بناء پر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کر لو۔
(تاریخ ابنِ عساکر: صفحہ، 13/286 جلد، 1، بحوالہ سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 305 جلد، 2)
وفات:
صحیح قول کی بناء پر ان کی وفات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت 32 ہجری میں ہوئی۔ (طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 393 جلد، 2 سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 353 جلد، 2 الإصابۃ:صفحہ، 45 جلد، 3)

صفحہ 5 از 5