حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 5
میلے کچیلے کپڑے پہنی ہوئی ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیوں بھاوج کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا تمہارے بھائی سیدنا ابو الدرداءؓ میں دنیاداری اور دنیا کی بالکل رغبت نہ رہی، اتنے میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ آ گئے، جلدی سے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا اور ان سے کہنے لگے آپؓ کھائیے، میں روزہ سے ہوں۔ حضرت سلمانؓ نے فرمایا میں نے تو نہیں کھانا جب تک تم بھی نہیں کھاتے۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے روزہ توڑ ڈالا اور کھانے میں شریک ہو گئے۔ جب رات ہوئی تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ تہجد کی نماز کے لیے اٹھنے لگے، سیدنا سلمانؓ نے فرمایا ابھی سو جائیے۔ وہ سو رہے، پھر اٹھنے لگے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ سونے کے لیے کہا، وہ سو گئے، جب اخیر رات ہوئی تو حضرت سلمانؓ نے فرمایا اب اٹھیے! خیر دونوں نے تہجد کی نماز پڑھی، پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا بھائی صاحب! آپؓ کے پروردگارِ کا آپؓ پر حق ہے، آپؓ کی جان کا بھی آپؓ پر حق ہے اور آپؓ کی بیوی کا بھی آپؓ پر حق ہے، تو ہر ایک حق والے کا حق ادا کریں۔ حضرت ابو الدرداءؓ یہ سن کر نبی اکرمﷺ کی خدمتِ اقدس میں سیدھے حاضر ہوئے اور آپﷺ سے ذکر کیا۔ آپﷺ نے حضرت سلمانؓ کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایاصدق سلمانؓ سلمان سچ کہتا ہے۔
(صحیح بخاري شریف: صفحہ، 906 جلد، 2 حدیث نمبر، 6139)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بعثتِ نبویﷺ سے پہلے میں تاجر تھا۔ جب اسلام آیا تو میں نے اپنی زندگی میں تجارت و عبادت دونوں کو جمع کرلیا کہ تجارت بھی کرتا اور عبادت بھی کیا کرتا تھا لیکن یہ دونوں ایک ساتھ جمع نہ ہو سکے کہ تجارت بھی کی جائے اور عبادت بھی کی جائے اور یہ کیسے دونوں ایک ساتھ جمع ہو سکتے؟ لہٰذا میں نے تجارت چھوڑ دی اور عبادت کو لازم پکڑ لیا۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 391 جلد، 7)
(مجمع الزوائد: صفحہ، 367 جلد، 9)
(وقال: رواہ الطبرانی و رجالہ رجال الصحیح)
علامہ شمس الدین ذہبیؒ رقم طراز ہیں کہ یہی صوفیاء کرام و بوریہ نشین حضرات کا طریقہ ہے، لیکن بہتر اور افضل یہی ہے کہ تجارت و عبادت دونوں اپنے اپنے اوقات میں ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ میں لوگوں کے مزاج اور حالتیں مختلف ہیں، بعض دونوں کو بحسنِ خوبی انجام دے لیتے ہیں، جیسے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد عبداللہ بن مبارکؒ ہیں۔ بعض دونوں کے جمع کرنے سے عاجز رہ جاتے ہیں تو وہ عبادت پر اکتفاء کرتے ہیں، بعض شروع میں خوب اچھی طرح تجارت کرتے رہتے ہیں لیکن عبادت الہٰی میں منہمک ہونے کی وجہ سے تجارت چھوڑ بیٹھتے ہیں اور بعض لوگ اس کے برعکس ہیں بہرحال شریعت میں ہرچیز کی گنجائش ہے
ولکن لابد من النہضۃ بحقوق الزوجۃ والعیال۔
ترجمہ: البتہ بیوی اور بچوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے تجارت وغیرہ کے ذریعہ کچھ مال حاصل کرنا ضروری ہے، تا کہ بیوی و بچوں کی زندگی صحیح گزر سکے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 338 جلد، 2)
عبادت اور خشیتِ الٰہی:
عون بن عبداللہؒ کا بیان ہے کہ میں نے سیدہ ام الدرداءؓ سے معلوم کیا کہ سیدنا ابو الدرداءؓ کس عبادت کا زیادہ اہتمام کرتے تھے؟ جواب دیا
 التفکر والاعتبار۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور و فکر اور تدبر کرنے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 208 جلد، 1)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
تفکر ساعۃ خیرمن قیام لیلۃ
ایک ساعت، ایک گھڑی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں غور و فکر کرنا رات بھر تہجد کی نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
(طبقات ابن سعد: صفحہ، 392 جلد، 7)
(الحلیۃ: صفحہ، 209 جلد، 1)
ایک مرتبہ سیدنا ابو الدرداءؓ سے سوال کیا گیا کہ دن بھر میں کتنی تسبیحات پڑھ لیتے ہیں؟ جواب دیا 
مائۃ ألف ایک لاکھ مرتبہ تسبیح پڑھ لیتا ہوں الا یہ کہ میری انگلیاں شمار کرنے میں خطا کر جائیں۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 348 جلد، 2)
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے اگر مجھے تین چیزیں میسر نہ ہوتیں تو میں ہرگز زندہ رہنا پسند نہیں کرتا۔
1: روزہ کی حالت میں دوپہر کے وقت سخت پیاس کا لگنا۔
2: رات کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور میں سجدہ کرنا۔
3: مجالسۃ اقوام ینتقون جید الکلام کما ینتقی أطایب الثمر
ترجمہ: ایسے لوگوں کی صحبت و ہم نشینی ہمیں حاصل ہونا جو عمدہ کھجوروں کے لینے کی طرح اچھے کلام کو لیتے ہیں۔
(سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 349 جلد، 2)
حضرت ابو الدرداءؓ کا بیان ہے کہ تین ایسی چیزوں کو میں محبوب رکھتا ہوں کہ جنہیں عام طور پر لوگ ناپسند کرتے ہیں۔
1:فقیری و تنگدستی
 اسی کی وجہ سے میں اپنے آپ کو رب کے سامنے عاجز و ہیچ سمجھتا ہوں۔
2: بیماری
اس وجہ سے کہ بیماری میرے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
3: موت
کہ اسی راستہ سے اپنے رب کی ملاقات و زیارت کے شوق کو پورا کر سکتا ہوں۔
(طبقات ابن سعد: صفحہ، 392 جلد، 7)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی ایک آنکھ میں اس قدر تکلیف ہوئی کہ اس آنکھ کی روشنی جاتی رہی۔ ان سے کہا گیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شفاء کے لیے کیوں نہیں دعاء کی؟ جواب میں فرمایا اللہ کے بندے مجھے دعائے مغفرت سے فرصت ہی نہیں کہ میں اپنی آنکھ کی شفاء کے لیے دعاء کر سکوں۔
(سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 349 جلد، 2)
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو الدرداءؓ کے پاس 360 دینی دوستوں کے ناموں کی فہرست تھی ہر نماز میں ان لوگوں کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ اس کی وجہ دریافت کی، تو بولے، کوئی بھی شخص اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعاء کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر دو فرشتے مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کی دعاء کے جواب میں ولک بمثل تمہارے لیے بھی ایسا ہی ہو
(کہ جو دعاء وہ اپنے دینی بھائی کے لیے کر رہا ہے وہی تمہارے لیے بھی ہو) کہتے ہیں۔ تو آخر کیوں میں اپنے حق میں فرشتوں کی دعاؤں سے محروم رہوں۔
(سیرأعلام النبلاء: صفحہ، 351 جلد، 2)
صفحہ 4 از 5