حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 5
ایک حدیث معلوم کرنے کی غرض سے ایک طالب علم مدینہ منورہ سے سفر کر کے سیدنا ابو الدرداءؓ کی خدمت میں دمشق آیا۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم یہاں کسی ضرورت سے یا تجارت کی غرض سے آئے ہو؟ اس نے کہا میں صرف ایک حدیث شریف آپؓ کی زبانِ مبارک سے سننے کے واسطے آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت ابو الدرداءؓ نے فرمایا تم خوش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندہ طلبِ علم میں نکلتا ہے تو فرشتے اس کے لیے پر بچھاتے ہیں اور وہ جنت کے راستے طے کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے لیے زمین و آسمان والے دعاء مغفرت کرتے ہیں حتیٰ کہ سمندر کی مچھلیاں دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودہویں کے چاند کی تمام ستاروں پر، اہلِ علم انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام دینار اور درہم کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں، جو شخص علم حاصل کرے بڑا حصہ پائے گا۔
(جامع ترمذي شریف: صفحہ، 97 جلد، 2)
حضرت ابوالدرداءؓ قرآن، حدیث، فقہ، فرائض حساب اور اشعارِ عرب کے جامع عالم و معلم تھے اور ان علوم کا درس دیتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن سعید رضی اللہ عنہ اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں!
رأیت أباالدرداءؓ دخل المسجد مسجد النبيﷺ ومعہ من الأ تباع مثل مایکون مع السلطان، فمن سائل عن فریضۃ، ومن سائل عن حساب، ومن سائل عن شعر، ومن سائل عن حدیث، ومن سائل عن معضلۃ۔
ترجمہ: میں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو اس حال میں دیکھا کہ وہ مسجدِ نبویﷺ میں داخل ہو رہے تھے اور ان کے متبعین ان کے ساتھ یوں چل رہے تھے جیسے بادشاہ کے ساتھ حشم و خدم ہوتے ہیں، ان میں کوئی فریضہ کا سوال کرتا، کوئی حساب پوچھتا تھا کوئی شعر کی معلومات حاصل کرتا تھا، کوئی حدیث معلوم کرتا تھا، کوئی مشکل مسائل کا حل پوچھتا تھا۔
(کتاب الجرح والتعدیل: صفحہ، 27 جلد، 3 قسم، 2)
دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح سیدنا ابو الدرداءؓ بھی احادیثِ رسول اللہﷺ کے بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ حدیثِ رسولﷺ بیان کرتے وقت یہ کہتے
اللّٰہم إن لاہکذا، وإلاّ فکشکلہِ۔
ترجمہ: اے اللہ اگر اس طرح نہیں ہے تو اسی کے مثل و مانند ہے۔
سیدہ ام الدرداءؓ کا بیان ہے کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ حدیث شریف بیان کرتے وقت مسکراتے تھے۔ میں نے کہا! سارے لوگ آپؓ کو بے وقوف سمجھیں گے۔ تو فرمانے لگے
کان رسول اللہﷺ لایحدث بحدیث إلا تبسم۔
ترجمہ: کہ رسول اللہﷺ زبانِ مبارک سے جو بھی ارشادِ عالی بیان فرماتے تو مسکرائے بغیر نہیں رہتے تھے۔
(مسند أحمد: صفحہ، 199 جلد، 5)
شاگردوں میں جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک لمبی فہرست ہے ناقدِ حدیث علامہ شمس الدین ذہبیؒ نے مثال کے طور پر مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماء گرامی ذکر کئے ہیں حضرت أنس بن مالک، حضرت فضالۃ بن عبیدؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ اور حضرت ابو أمامہؓ اور خود حضرت ابو الدرداءؓ کے اساتذہ میں صرف نبی اکرمﷺ کا ذکر کرتے ہوئے علامہ ذہبیؒ رقم طراز ہیں۔
ولم یبلغنا أبداً أنہ قرأ علی غیر النبيﷺ 
ترجمہ: کہ ہمارے مبلغِ علم میں یہی ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے علاؤہ کسی سے بھی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 336 جلد، 2)
احادیث کی تعداد:
علامہ ذہبیؒ نے مجموعۂ ذخیرۂ احادیث میں ان کی سند سے روایت کی جانے والی احادیث کی تعداد 179 تحریر کی ہے، جن میں سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں صرف دو حدیثیں ہیں اور صرف صحیح بخاری میں تین حدیثیں ہیں اور صحیح مسلم میں آٹھ حدیثیں ہیں بقیہ دیگر کتبِ احادیث میں ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 336 جلد، 2)
دنیا سے بے رغبتی:
پیغمبر اسلامﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو الدرداءؓ کے درمیان مواخات کرا کے بھائی بھائی بنا دیا تھا تو سیدنا سلمانؓ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی ملاقات کو گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی بیوی محترمہ سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں۔
زوجتہ أم الدرداءؓ العالمۃ
ترجمہ: کہ ان کی بیوی محترمہ سیدہ ام الدرداءؓ عالمہ تھیں۔
(سیرأعلام النبلاء: صفحہ، 336 جلد، 2)
یہ بھی اپنے شوہر کی طرح بہت نیک پارسا تھیں۔ ایک مرتبہ یہ دعا کی، اے اللہ! سیدنا ابو الدرداءؓ نے مجھے اس دنیا میں پیغامِ نکاح دیا اور مجھ سے شادی کی ہے۔ اے اللہ! اب میں انہیں آپ کے واسطہ سے پیغامِ نکاح دیتی ہوں اور آپ سے یہ سوال کرتی ہوں کہ جنت میں انہیں میرا شوہر بنا دیجیؤ۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے یہ دعا سن کر فرمایا اگر تو واقعتاً ایسا ہی چاہتی ہے تو میری وفات کے بعد کسی سے شادی مت کرنا، تا کہ میں ہی اس دنیا میں تمہارا پہلا اور آخری شوہر رہوں۔ جب حضرت ابو الدرداءؓ کا انتقال ہو گیا تو سیدہ ام الدرداءؓ کے حسن و جمال اور ان کے تقویٰ و طہارت کو دیکھ کر شام کے گورنر سیدنا امیر معاویہؓ نے انہیں پیغامِ نکاح دیا۔ تو انھوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اللہ کی قسم! میں دنیا میں کسی سے شادی نہیں کروں گی بلکہ انشاء اللہ جنت میں حضرت ابو الدرداءؓ سے شادی کروں گی۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 224/225 جلد، 2)
صفحہ 3 از 5