حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 5
مسروقؒ کہتے ہیں کہ میں نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا علم چھ حضرات کے پاس پایا حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت أبی بن کعبؓ، حضرت زیدؓ، حضرت ابوالدرداءؓ اور حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ پھر ان سارے حضرات کا علم حضرت علیؓ و حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس جمع ہو گیا۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 351 جلد، 2 إسنادہ صحیح)
معلم و قاضی بنا کر دمشق بھیجا جانا:
سیدنا یزید بن أبی سفیان رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے پاس یہ خط لکھا کہ دن بہ دن اہلِ شام کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے، جس سے پورا ملکِ شام آبادیوں سے کھچا کھچ بھر چکا ہے، جس کی بناء پر قرآن و حدیث اور دینِ اسلام کی تعلیم دینے والے معلمین و مدرسین کی اشد ضرورت ہے، لہٰذا حضرت والا سے درخواست ہے کہ کچھ ایسے رجال کار روانہ فرمائیں جو قرآن و حدیث اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیم دے سکیں۔
یہ خط ملتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ کبارِ علماء سیدنا ابو ایوب انصاریؓ، سیدنا ابی بن کعبؓ، سیدنا معاذ بن جبلؓ، سیدنا عبادۃ بن صامتؓ اور سیدنا ابو الدرداءؓ کو طلب فرمایا یہ حضرات دربارِ عمریؓ میں حاضر ہوئے، تو ان حضرات کو مخاطب کرکے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا یزید بن ابی سفیانؓ کا خط پڑھ کر سنایا اور فرمایا آپؓ میں سے کوئی تین شخص آپسی رضا مندی سے اس منصب کو قبول کرکے اس مہم کے لیے روانہ ہو جائیں۔
ان حضرات نے بیک زبان ہو کر جواب دیا ہم لوگ اس مہم کے لیے آپس میں قرعہ اندازی نہیں کرتے، بلکہ خود سے ہی دو حضرات کو اس مہم کے لیے معذور سمجھتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ زیادہ ضعیف اور بوڑھے ہو چکے ہیں اور سیدنا ابی بن کعبؓ مسلسل بیمار رہتے ہیں، جس کی بناء پر یہ دونوں حضرات معذور ہیں، رہ گئے تین حضرات، تو یہ اس مہم کے لیے روانہ ہو جائیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کی پیش کش کو بسر و چشم قبول کرنے کے بعد فرمایا سب سے پہلے آپ لوگ حمص جائیے کیونکہ وہاں کے لوگ مختلف مزاج اور مختلف طور و طریق کے ہیں، ان میں سے ایک ذہین و عقلمند شخص کو تلاش کیجئے۔ جب دستیاب ہو جائے تو اس کے ذریعہ سے تمام لوگوں کو جمع کیجئے اور لوگوں کو خوب جانچ کر دیکھئے، جب اہلِ حمص سے پورے طور پر مطمئن ہو جائیں تو اپنے تین ساتھیوں میں سے جسے مناسب سمجھیے اسے وہاں چھوڑ دیجئے، پھر دوسرا ساتھی دمشق کے لیے روانہ ہو جائے اور تیسرا ساتھی فلسطین کے لیے روانہ ہو جائے۔
یہ تینوں حضراتؓ سیدنا عمرؓ کے مشورے کو بسر و چشم قبول کر کے مدینہ منورہ زادہا اللہ شرفۃ وعظمۃ کو چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق اہلِ حمص سے پورے طور پر مطمئن ہونے کے بعد وہاں کے لیے سیدنا عبادۃ بن صامتؓ کو منتخب فرمایا اور حضرت ابو الدرداءؓ دمشق کے لیے روانہ ہو گئے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فلسطین کے لیے روانہ ہو گئے اور فلسطین ہی میں طاعونِ عمواس میں وفات پائی۔ ان کے خلاء کو پُر کرنے کے لیے حضرت عبادۃ بن صامتؓ حمص سے فلسطین تشریف لے آئے اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ زندگی کی آخری سانس تک دمشق ہی میں رہے اور یہیں ان کا انتقال ہوا۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 356/357 جلد، 2)
(سیرأعلام النبلاء: صفحہ، 244 جلد، 2)
حضرت عمرؓ نے سیدنا ابو الدرداءؓ کو دمشق کا معلم و مدرس بنا کر بھیجا تھا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں انہیں دمشق کا قاضی مقرر کر دیا
علامہ ذہبیؒ ان کے تذکرہ میں رقم طراز ہیں:
وکان عالم أہل الشام ومقرئ أہل دمشق وفقیہہم و قاضیہم۔
ترجمہ: وہ اہلِ شام کے عالم، اہلِ دمشق کے مقری و قاری ان کے فقیہ و قاضی تھے۔
(تذکرۃ الحفاظ: صفحہ، 24 جلد، 1)
حضرت ابوالدرداءؓ کا مدرسہ:
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے دمشق پہنچ کر جامعِ دمشق میں اپنا مدرسہ قائم کیا۔ روزانہ نمازِ فجر کے بعد جامعِ دمشق میں بیٹھ جاتے اور قرآن کریم کا ایک جزء تلاوت کیا کرتے تھے، تمام طلبہ کرام قرآن کریم پڑھنے کے لیے ان کو گھیر لیا کرتے تھے اور ان کے قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی بغور سنتے تھے، پھر آپس میں دس دس ساتھی تقسیم ہو کر تلاوت کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے، ان طلبہ کرام کے عریف و ترجمان ابنِ عامر تھے، ایک دن حضرت ابو الدرداءؓ نے اپنے مدرسہ کے طلبہ کرام کو شمار کرایا۔
فجاؤا الفا وست مائۃ ونیفاً۔
ترجمہ: تو ان کی تعداد سولہ سو سے کچھ زائد ہوئی۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 346 جلد، 2 رجالہ ثقات)
ابو مالکؒ کا بیان ہے کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نماز سے فراغت کے بعد طلبہ کرام کو درس دینے کے لیے بیٹھ جاتے، خود بھی پڑھتے اور طلبہ سے بھی پڑھوایا کرتے تھے، جب مجلسِ درس سے اٹھنا چاہتے تو شاگردوں سے دریافت کرتے کہ آج کسی کے یہاں سے ولیمہ یا عقیقہ وغیرہ کی دعوت تو نہیں آئی ہے کہ جہاں ہم لوگوں کی شرکت ضروری ہو؟ اگر وہ لوگ جواب دیتے ہاں! تو پھر دعوت میں شرکت کے لیے تشریف لے جاتے ورنہ فرماتے۔
اللّٰہم إنی أشہدک أني صائم۔
اے اللہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں روزہ سے ہوں۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 346 جلد، 2)
صفحہ 2 از 5