حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حکیم الامت حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 5

حکیم الامت حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ:

حافظ ابو عبداللہ نیشا پوریؒ اور علامہ ابو نعیم اصفہانیؒ نے سیدنا ابو الدرداءؓ کو صفہ کے طالب علموں میں شمار کیا ہے۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 22 جلد، 2)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اپنی کنیت سیدنا ابو الدرداءؓ سے ہی مشہور ہیں، جب کہ نام عویمر ہے اور والد کے نام میں مختلف اقوال ہیں قیس، مالک، عامر، زیدبن قیس وغیرہ انصار کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔
(تہذیب التہذیب: صفحہ، 175 جلد، 8)
طبقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عبّاد و زہّاد میں بہت اعلیٰ اور ممتاز مقام رکھتے ہیں، حکیم الامت کے لقب سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں معروف و مشہور ہیں۔ قرآن، حدیث، فقہ، فرائض، حساب اور اشعارِ عرب کے جامع عالم و معلم اور دمشق کے قاضی و سید القراء ہیں، جامعینِ قرآن میں ان کا بھی شمار ہوتا ہے۔
واقعہ اسلام:
حضرت ابو الدرداءؓ انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے آخر میں غزوہ بدر کے دن مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ غزوہ بدر کے دن اسلام قبول کرنے کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شمار کیا ہے۔ بیت المال سے ہر ماہ 400 درہم وظیفہ دیا کرتے تھے۔
ان کے اسلام لانے کا واقعہ اس طرح منقول ہے کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ایک دن سیدنا عبداللہ بن رواحہؓ و محمد بن مسلمہؓ ان کے گھر میں گھس آئے اور ان کے بتوں کو توڑ ڈالا سیدنا ابو درداءؓ اٹھے اور بتوں کے ٹوٹے ہوئے پتھروں کو اکٹھا کرنے لگے اور یہ کہنے لگے، اے بت! تیری ہلاکت و بربادی ہو! تیرے اندر اتنی بھی طاقت نہیں کہ تو اپنی جانب سے دفاع کر سکے اور اپنے توڑنے والوں کو ہلاکت کے گھاٹ اتار سکے۔ ان کی بیوی سیدہ ام الدرداءؓ ان کی نقل و حرکت کو دیکھ رہی تھی اور ان کی باتیں سن رہی تھی تو کہنے لگی اگر یہ بت نفع و ضرر کے مالک ہوتے تو ضرور اپنی جانب سے دفاع کرتے اور ان کے توڑنے والے ضرور تباہ و برباد ہو جاتے۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ پر ان باتوں کا گہرا اثر ہوا، انہوں نے اپنی بیوی سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے کہا! میرے غسل کرنے کے لیے غسل خانہ میں جلدی پانی رکھو۔ یہ اٹھے اور غسل کیا، کپڑے تبدیل کئے اور سیدھے بارگاہِ رسالتﷺ میں حاضری دینے کے لیے روانہ ہو گئے۔
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے انہیں جب آتا ہوا دیکھا تو کہا! اے اللہ کے رسولﷺ! سیدنا ابودرداءؓ ہماری ہی تلاش میں آرہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں، بلکہ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے آرہا ہے، میرے رب نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے سلسلے میں مجھ سے وعدہ کیا ہے، ایسا ہی ہوا، وہ دربارِ نبویﷺ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے۔(المستدرک: صفحہ، 336/337 جلد، 3)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلامﷺ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نظر میں:
غزوہ احد میں حضرت ابو الدرداءؓ نے پوری شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کیا تھا اور بڑے کرتب دکھلائے تھے، جس سے خوش ہو کر رسول اللہﷺ نے دادِ شجاعت دی اور ارشاد فرمایا
نعم الفارس عویمر۔
ترجمہ: عویمر (سیدنا ابو الدرداءؓ کا نام ہے) بہترین شہ سوار ہے۔
اور فرمایا
ھو حکیم أمتی۔
ترجمہ: وہ میری امت کا حکیم و دانا ہے۔
(المستدرک: صفحہ، 337 جلد، 3)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
ومات النبيﷺ ولم یجمع القرآن غیرأربعۃ: أبوالدرداءؓ، ومعاذ بن جبلؓ وزید بن ثابتؓ وأبو زیدؓ۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 748 جلد، 2 حدیث نمبر، 5004)
ترجمہ: نبی اکرمﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے وقت صرف چار آدمی حافظِ قرآن تھے۔ سیدنا ابو الدرداءؓ، سیدنا معاذ بن جبلؓ، سیدنا زید بن ثابتؓ اور سیدنا ابوزیدؓ۔ سیدنا انسؓ کا یہ فرمان کہ صرف چار حافظِ قرآن تھے یہ صرف قبیلہ خزرج کے لوگوں کے اعتبار سے ہے، نہ کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعتبار سے ہے اور قبیلہ اوس کے لوگوں پر قبیلہ خزرج کا اس منقبت کو شمار کر کے فخر کرنا ہے۔
(فتح الباری: صفحہ، 51 جلد، 9)
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو الدرداءؓ کو مخاطب کرکے فرمایا:
ماحملت ورقاء ولاأظلت خضراء اعلم منک یا أبا الدرداءؓ۔
ترجمہ: اے سیدنا ابو الدرداءؓ! آسمان و زمین کے درمیان آپؓ سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 243 جلد، 2)
حضرت معاذ بن جبلؓ نے بطورِ خاص وفات کے وقت چار حضرات سے علم حاصل کرنے کی وصیت کی۔
حضرت ابو الدرداءؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت عبداللہ بن سلامؓ جنہوں نے یہودیت کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ، 343 جلد، 2)
امام المغازی محمد بن اسحاقؒ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں کہا کرتے تھے:
أتبعنا للعلم والعمل أبوالدرداءؓ۔
ترجمہ: کہ ہم لوگوں میں سے سب سے بڑے عالم باعمل سیدنا ابو الدرداءؓ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے فرمایا کرتے تھے تم لوگ ہمارے سامنے دو عقلمند شخص کی سند سے روایت بیان کیا کرو اور ان ہی دو عقلمندوں کی باتوں کو بھی ہمارے سامنے نقل کیا کرو۔ پوچھا گیا وہ دو عقلمند کون ہیں؟ جواب میں فرمایا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الدرداءؓ۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 350 جلد، 2 رجالہ ثقات)
امام المحدثین حضرت مکحول شامیؒ کا بیان ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں تذکرہ کرتے تھے کہ ہم میں سب سے زیادہ ایک دوسرے پر رحم کرنے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، ہم میں حق گو سیدنا عمرؓ ہیں، ہم میں سب سے بڑے امین حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں، ہم میں حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم سیدنا معاذ بن جبلؓ ہیں اور ہم میں سب سے اچھے قاری قرآن حضرت اُبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ ایک ایسا آدمی جس کے پاس علم ہی علم ہے وہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ ہیں 
وتبعہم عویمر أبوالدرداءؓ بالعقل۔
ترجمہ: عقل و فہم میں ان حضرات کے بعد حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا درجہ ہے۔
صفحہ 1 از 5