مولانا مفتى مہربان على رحمۃاللہ كا فتویٰ - فتاویٰ جات |…

مولانا مفتى مہربان على رحمۃاللہ كا فتویٰ


جس کا شوہر رافضی ہو جائے اس کا حکم:

سوال: زید اپنی منکوحہ کے نان و نفقہ سے عرصہ آٹھ سال سے دست بردار ہے، کیا اس کی منکوحہ کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہے؟ اور زید مذہباً روافض ہو گیا ہے اور غائب بھی نہیں ہے؟

جواب: روافض کے فرقے مختلف ہیں جن میں سے اکثر کافر ہیں اور بعض مؤمن مگر فاسق ہیں۔ جو فرقے سیدنا عائشہ صدیقہؓ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں یا سیدنا ابوبکرؓ کے صحابی ہونے کا انکار کرتے یا سیدنا علیؓ کو حضورﷺ سے افضل مانتے ہیں تو یہ سب فرقے کافر ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی بدکار ان میں سے کسی ایک میں شامل ہو جائے تو مرتد ہے اور ارتداد کی وجہ سے نکاح فسخ ہو جائے گا اور اگر فاسق فرقے میں داخل ہوا ہے تو نکاح فسخ نہیں ہوا اور نفقہ نہ دینے کی وجہ سے عورت کے لیے جائز نہیں کہ دوسری جگہ اپنا نکاح کر لے، البتہ عورت کو حق ہے کہ شوہر پر نفقہ کا دعویٰ کرے اور اگر اس کے پاس نفقہ دینے کی گنجائش نہیں تو حاکم عورت کو اجازت دے گا کہ قرض لے کر اپنا نفقہ پورا کرے اور اس قرض کی ادائیگی شوہر پر ہوگی۔

(جامع الفتاویٰ: جلد 2 صفحہ 360)