روافض کے ساتھ نکاح کرنا:
سوال:إن آيات: يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ لوَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
(سورۃآل عمران: آیت 118)
وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ
(سورۃهود: آيت 113)
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ
(سورۃالممتحنہ: آیت 13)
میں دوستی اور موالاۃ کفار سے منع کیا گیا ہے نہ کہ اہل قبلہ سے؟
جواب:اکثر مبتدعین فرقوں کے عقائد کفر تک جا پہنچے ہیں، پھر اعتبار عموم الفاظ کا کیاجاتا ہے نہ کہ خصوص موارد کا، مذکورہ بالا آیات کے عموم میں کفار کے ساتھ ساتھ وہ گروہ بھی آجاتے ہیں جن کے عقائد ان کے مشابہ ہیں خوارج و روافض وغیر وغیرہ یا یوں کہیں کہ روافض و خوارج کو قیاس کر کے اس آیت کے حکم میں داخل کیا جائے گا۔
لہٰذا جو کام محبت کی زیادتی کا باعث بنتے ہیں مثلاً: سلام کہنا، ہدیے بھیجنا، ان کے ساتھ ہم نشینی کرنا، ان کے بیمار کی عیادت کرنا وغیرہ جائز نہیں ہیں اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا اور ان کا جنازہ پڑھنا مکروہ ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
ان اللہ اختارنی و اختار لی اصحابی و اصهارى وسيأتى قوم يسبونهم وينقصونهم فلا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولا تناكحوهم: رواه العقيلی، ورواه الشيخ محى الدين عبد القادر الشريف الجيلی وزاد و لا تصلو معهم ولا تصلو عليهم عليهم حلت اللعنة.
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے چنا اور میرے دوست چنے اور میرے اصہار، ایک قوم آئے گی، وہ انہیں سبت کریں گے اور ان کی تنقیص کریں گے، ان کے ساتھ نہ بیٹھنا، نہ کھانا پیانا اور نہ مناکحت کرنا۔ امام عقیلیؒ نے اسے روایت کیا اور شیخ عبد القادر جیلانیؒ صاحب نے بھی اسے ذکر کیا ہے اور مزید یہ کہ ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو، ان کا جنازہ نہ پڑھو، ان پر لعنت اتر چکی ہے۔
اس طرح رافضیہ، خارجیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ ہے، رسول اللہﷺ کے فرمان لا تناكحوهم کی وجہ سے اور اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا: وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ۔ ايمان دار عورت مشرکہ سے بہتر ہے، چاہے تمہیں پسند آئے۔
(السيف المسلول: صفحہ 514)