روافض کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم:
سوال: شیعہ کے ہاتھ کا ذبیحہ ان کے ساتھ نکاح کرنا ان کا جنازہ پڑھنا اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق اور لین دین کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
جواب: جو شخص مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو مگر اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر کو شریک ٹھہراتا ہو یا ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرتا ہو۔ مثلاً قرآن میں تحریف کا قائل ہو اور یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ حضرت جبرائیل سے وحی لانے میں غلطی ہو گئی، سیدنا صدیق اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہو، سیدہ عائشہؓ پر تہمت لگاتا ہو وغیرہ تو وہ شخص مسلمان نہیں زندیق ہے۔
ایسے زندیق کا حکم یہ ہے کہ اس سے دوستانہ تعلقات رکھنا جائز نہیں، نہ اپنی لڑکی اس کو دینا جائز ہے، نہ اس سے لڑکی لینا جائز ہے، نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔ اس کا ذبیحہ حرام ہے۔ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرنے سے بھی حلال نہیں ہوگا۔ اسکی نماز جنازہ پڑھنا بہت بڑا گناہ، حرام اور نا جائز ہے۔ خرید و فروخت اور لین دین کا حکم یہ ہے کہ حتیٰ الامکان اجتناب لازم ہے البتہ اگر کوئی ضرورت کی چیز ایسی ہو کہ مارکیٹ میں اس چیز پر ایسے عقائد رکھنے والوں کا ہی تسلط ہو، دوسروں کے ہاں وہ چیز نہ ملتی ہو یا دوسروں سے حاصل کرنے میں بہت مشقت اٹھانی پڑتی ہو تو گنجائش ہے۔ قال العلامہ ابن عابدین: اقول نعم نقل فی البرازیہ عن الخلاصۃ ان الرافضی اذا کان یسب الشیخین ویلعنھما فھو کافر وان کان یفضل علیا فھو مبتدع وھذا لا یستلزم عدم قبولالتوبۃ علی ان الحکم علیہ بالکفر مشکل لما فی الاختیار اتفق الائمہ علی تضلیل المبدع اجمع و تخطنتھم و سب اھنا من الصحابة و بغضہ لا یکون کفر المکن یمضلل المخ و ذکر فی فتح القدیر ان الخوارج الذین یستحلون دماء المسلمین اموالھم ویکفرون الصحابة حکمھم عند جمہور الفقہاء و اھل الحدیث حکم البغاة وذھب بعض اھل الحدیث الی انھم مرتدون۔ قال ابن منذر ولا اعلم اھنا وافق اھل الحدیث علی تکفیرھم وھذا یقضی نقل اجماع الفقھاء وذکر فی المحیط ان بعض الفقھاء لا یکفر اھذا من اھل البدع وبعضھم یکفرون البعض وھو من خالف ببدعتہ دلیلاقطعیا ونسبہ الی اکثر اھل السنۃ والمنقل الاول اثبت۔ وابن منذر اعرف بنقل کلام المجتھدین نعم یقع فی کلام اھل المذھب تکفیر کثیر ولکن لیس من کلام الفقھاء الذین ھمالمجتھدین بل من غیرھم ولا عبرۃ بغیر الفقھاء والمنقول عن المجتھدین ما ذکرنا نعم لا شک فی تکفیر من قذف عائشہ او انکر الصحبۃ الصدیق او اعتقد الوھیۂ فی علی او ان الجبرائیل علیہ السلام غلط فی الوحی او نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن ولکن لو تاب تقبل توبتہ ھذا خلاصۃ ما حررنا فی کتابنا تنبیہ الولاۃ و الحکام وان اردت الزیادۃ فارجع الیہ واعتمد علیہ ففیہ الکفایہ لذوی الدرایۃ
(رد المختار: جلد 4 صفحہ 237)
وقال ایضا: لمکن صرح فی کتابہ المسایرہ بالاتفاق علی تکفیر المخالف فیما کان من اصول الدین وضروریاتہ کالقول بقدم العالم ونفی حشر الاجساد ونفی العلم بالمجزینات وان المخالف فی غیرہ کنفی مبادی الصفات و نفی عموم الاردۃ والقول بخلق القرآن الخ وکذا قال فی شرح منیۃ المصلی:ان ساب الشیخین ومنکر خلافتھما ممن بمناہ علی شبھۃ لہ لا یکفر بخلاف بخلاف من ادعی ان علیا الہ وان جبرائیل غلط لان ذلک لیس عن شبھۃ واستفراغ وسع فی الاجتھاد بل محض ھوی و تمامہ فیہ قلت:کذا یکفر قاذف عائشہ و منکر صحبۃ ابیھا لان ذلک تکذیب صریح القرآن کما مر فی الباب السابق۔
قال اللہ تعالیٰ: لیغیظ بھم الکفار
قال العلامۃ الالوسی تحت ھذا الایۃ فی تفسیرھا وفیالمواہب ان الامام مالکا قد استنبط من ھذ الایۃ تکفیر الروافض الذین یبغضون الصحابة فانھم یغیظونھم ومن غاظ الصحابة فھو کافر و وافقہ کثیر من العلماء انتھی وفی البحر ذکر عند مالک رجل ینتقص الصحابة فقرا مالک ھذا الایۃفقال: من اصبح من الناس فی قلبہ غیظ من اصحاب رسول اللہ ﷺ فقد اصبتہ ھذہ الایۃ ویعلم تکفیر الروافض بخصوصھم وفی کلام عائشہ ما یشیر الیہ ایضا فقد اخرج المحاکم و صححہ عنھا فی قولہ تعالیٰ لیغیظ بھم الکفار قالت اصحاب محمد ﷺ امروا بالاستغفار لھم فسبوھم۔
(روح المعانی: جلد 26 صفحہ 127)
قال الملا علی القاری: و فی جواھر الفقہ من قیل لہ الا تقرا القرآن او لا تکثر قراءتہ فقال شبعت او کرھت او انکر آیۃ من کتاب اللہ او عاب شدید من القرآن أو انکر الموذتین من القرآن غیر مأول کفر قلت وقال بعض متأخرین کفر مطلقا أول أولم یأول لمکن الاول ھو الصحیح المعول وفیہ ایضا ومن جحد القرآن أی کلہ أو سورۃ منہ أو آیۃ قلت وکذا کلمۃ أو قراءۃ متواترۃ أو زعم انھا لیست من کلام اللہ کفر یعنی اذا کان کونہ من القرآن مجمعا علیہ
(شرح الفقہ الاکبر: صفحہ 205)
وقال العلامۃ الحصکفی: وان انکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا لقولہ ان اللہ تعالیٰ جسم کمالاجسام وانکارہ صحبۃ الصدیق فلا یصح الاقتداء بہ اصلا فلیحفظ۔
وقال العلامۃ ابن عابدین:(قولہ وانکارہ صحبۃ الصدیق) لما فیہ من تکذیب قولہ تعالیٰ: اذ یقول لصاحبہ الخ وفی الفتح عن الخلاصۃ ومن انکر خلافۃ الصدیق أو عمر فھو کافر ولمعل المراد انکار استحاقھما الخلافة بما اذا لم یکن عن شبھۃ کما مر عن شرح المنیۃ بخلاف انکار صحبۃ الصدیق تأمل۔
(رد المختار: جلد 1 صفحہ 561)
قال اللہ تعالیٰ: ولا ترکذوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار و قال ایضا یا ایھا الذین امنو لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھمبالمودۃ وقد کفروا بما جأءکم من الحق۔
قال العلامۃ الحصکفی و حرم نکاح الوثنیۃ بالاجماع۔
و قال العلامۃ ابن عابدین: ویدخل فی عبدۃ الاوثان عبدۃ الشمس والنجوم والمصور التی استحسنوھا ولمعطلۃ وزنادقۃ والباطنیۃ والاباحیۃ وفی شرح الوجز وکل مذھب یکفر بہ معتقدۃ۔
(رد المختار: جلد 3 صفحہ 45)
قال فی الھندیۃ و منھا ان یکون مسلما او کتابیا فلا تؤکل ذبیحۃ اہل الشرک المرتد۔
(العالمگیریۃ: جلد 5 صفحہ 285)
قال اللہ تعالیٰ: ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ وقال ایضا: ما کان للنبی و الذین امنو ان یستغفرو المشرکین۔
(آپ کے مسائل کا حل: جلد 1 صفحہ 114)