سوال: عرض یہ ہے کہ ایک ایسی لڑکی جس کے والدین کا تعلق دیوبندی مسلک سے ہے اسکی شادی ایک ایسے لڑکے سے جس کے والدین شیعہ ہیں اور لڑکا ان کے ساتھ کسی مذہبی تقریب میں شرکت نہیں کرتا۔ نیز نکاح پڑھانے کے لیے قاضی بھی مسلک دیوبندی کا بلایا جائے گا۔ کیا یہ نکاح جائز ہے؟ نیز لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہیں اور لڑکی نیک پارسا، قرآن پاک اور نماز پڑھتی ہے اور دیوبندی مسلک کی ہے جبکہ لڑکے کا قول یہ ہے کہ میں نہ شیعہ ہوں نہ سنی میں کسی مذہبی تقریب میں نہیں جاتا۔
جب ہم نے لڑکے کے گھر کہا کہ لڑکا اگر اخبار میں اور پوری طرح سنی ہونے کا اعلان کرے تو کوئی بات شاید بن جائے لیکن اسی وقت اسکی والدہ نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لڑکے کا باپ شیعہ اور میں خود شیعہ ہوں یہ اعلان کیسے کر سکتا ہے؟ اس وقت لڑکے نے بھی اسکی بات کی تردید نہیں کی بلکہ والدہ کی بات سے اتفاق کر لیا۔
ہمارے سامنے اس کے حالات مشکوک ہیں اس وقت چونکہ رشتے کی بات سامنے ہے اس لیے جو کچھ بھی ہم لکھوائیں گے وہ لکھ کر دیدے گا اور ہمارے ہر سوال کا جواب ہاں سے دے گا لیکن ہمیں اس کی باتوں پر اطمینان نہیں کیا یہ رشتہ ہو سکتا ہے؟
جواب:صورتِ مسئولہ میں جب لڑکا صراحتاً سنی ہونے کا انکار کر رہا ہے اور اس کے والدین واضح طور پر شیعہ ہیں تو اب شیعہ ہونے سے انکار کا مطلب یا تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ تقیۃً ایسا کر رہا ہے اور حقیقت میں وہ شیعہ ہے یا پھر وہ کوئی مذہب ہی نہیں رکھتا لا مذہب ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا نکاح سنی صیحح العقیدہ لڑکی سے کرنا جائز نہیں۔ اگر لا مذہب ہے یا کفریہ عقیدہ رکھنے والا شیعہ ہے تو ان دونوں صورتوں میں اس کے کافر ہونے کی وجہ سے یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا اور اگر کفریہ عقائد رکھنے والا شیعہ نہیں تو پھر بھی اس کے ساتھ سنی لڑکی کا نکاح کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ سنی لڑکی کا کفو نہیں ہے۔
(فتاویٰ عثمانی: جلد 2 صفحہ 258)