سوال: رافضیہ بلا تفصیلہ کافر ہیں یا نہیں؟ نماز میں ان کی اقتداء اور ان سے سلام و مصافحہ کرنا روا ہے یا نہیں؟ ان کی وراثت مسلم کو یا مسلم کی وراثت ان کو پہنچتی ہے یا نہیں؟ اور مسلم عورت کو ان کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان عورت کا خاوند ان فرقوں میں داخل ہو جائے مذہبِ اہلِ سنت والجماعت بدل لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بلا طلاق دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: رافضیہ میں سے غالی قطعاً کافر ہیں جو سیدنا ابوبکرؓ وغیرہم کو مرتد کہتے ہیں اور زیدیہ کافر نہیں جن کا عقیدہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کی امامت خطاء نہیں مگر سیدنا علیؓ افضل ہیں اور سیدنا عثمانؓ کے بارے میں ساکت ہیں نہ اچھا کہتے ہیں، نہ برا رہا ان لوگوں سے میل ملاپ تو یہ بالکل ناجائز ہے۔
ابنِ کثیر، جلد دوم، صفحہ 210 میں مسند احمد وغیرہ سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ: إذا رأيتم الذين يتبعون ما تشابه منه فأولئك الذين سمى الله فاحذروهم۔
ترجمہ: جب تم متشابہ آیتوں کے پیچھے جانے والوں کو دیکھو،
تو ان سے بچو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں سے ناطہ رشتہ وغیرہ کرنا یا ویسے میل ملاپ رکھنا یا نماز میں امام بنانا اس قسم کا کوئی بھی تعلق جائز نہیں بلکہ جو ان میں سے کافر ہیں اگر اتفاقی طور پر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے یا غلطی سے ان کے ساتھ نکاح کا تعلق ہو گیا تو نماز بھی صحیح نہیں اور نکاح بھی صحیح نہیں نماز کا اعادہ کرنا چاہیے بلکہ اگر نکاح پڑھا ہو بعد میں ایسی بدعت کے مرتکب ہوئے جو حدِ کفر کو پہنچ گئی تو نکاح بھی خود بخود فسخ ہو جاتا ہے طلاق کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:
وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا الخ۔
(سورۃالبقرہ: آیت 221)
ترجمہ: یعنی مشرک مردوں کو نکاح نہ دو۔
اور دوسری جگہ ہے:
وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ الخ۔
(سورۃالممتحنہ: آیت 10)
ترجمہ: کافر عورتوں کے ساتھ نکاح مت رکھو۔
اگر اسی حالت میں مر جائیں مسلمان ان کے وارث نہیں اور یہ مسلمانوں کے وارث نہیں۔
(فتاویٰ ختمِ نبوت: جلد 1صفحہ 105)