سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین ان مسائل کے بارے میں؟ کہ یہاں علاقہ تیری ضلع مستونگ صوبہ بلوچستان میں ایک سنی العقیدہ شخص کچھ عرصے سے شیعہ امامیہ کا عقیدہ قبول کر چکا ہے گھر پر سیاہ جھنڈی لہرا چکا ہے، کربلائی مٹی (ٹھیکری پر نماز ادا کرتا ہے) یعنی اس مٹی سے بنی ہوئی ٹھیکری پر سجدہ کرتا ہے لوگوں کو شیعیت کی طرف راغب کرنے میں مصروفِ عمل ہے اب اس کی زوجہ جو سنی عقیدے پر قائم ہے شوہر کو کافر و مرتد سمجھتی ہے اقارب سے فسخِ نکاح کا مطالبہ کرتی ہے۔
1: کیا شخصِ مذکور کا نکاح فسخ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ نیز فسخ ہونے کی صورت میں عدالت کی طرف رجوع کیا جائے یا کہ دیندار مسلمانوں کی پنچایت کا بھی فیصلہ قابلِ قبول ہے؟
2: تنسیخِ نکاح کے بعد شخصِ مذکور اگر تائب ہو کر دوبارہ اسلام قبول کرے اور تجدیدِ نکاح ہو لیکن دوبارہ شیعیت اختیار کرے تنسیخِ نکاح بھی ہو پھر اسلام کی طرف رجوع کرے اس ضمن میں تنسیخ اور تجدید کی حد کتنی مرتبہ تک ہو سکتی ہے؟
3: شیعانِ امامیہ فرقے کا عقیدہ کیا ہے؟
4: نیز یہ بھی کہ کیا فرقہ مذکور کے ساتھ اسلامی روابط رکھنا درست ہے؟
جواب:مٹی پر سجدہ کرنے یا ماتمی سیاہ جھنڈی لہرانے سے تو کوئی کافر نہیں ہوتا ہاں یہ فرقہ امامیہ کا شعار ضرور ہے اور اہلِ علم کی تحقیقات سے شیعہ امامیہ اس قرآن کو (معاذ اللہ) ناقص سمجھتے ہیں اور سوائے چار پانچ کے باقی صحابہ کرامؓ کو (معاذاللہ) کافر و مرتد کہتے ہیں حضراتِ شیخینؓ کی شان میں سخت گستاخانہ انداز رکھتے ہیں سورۃ نور کی آیات کے نزول کے بعد بھی مخالفین کی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر بدستور تہمت و بہتان سے باز نہیں آتے ہیں۔
بعض صحابہ کرامؓ کے علاوہ حضراتِ ائمہ کو مستقل صاحبِ شریعت نبیوں کی طرح مانتے ہیں ان ائمہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے پاس بھی وحی آتی تھی
گویا ختمِ نبوت کے بھی درپردہ منکر ہیں نہ صرف یہ بلکہ ان کا اعتقاد ہوتا ہے کہ ائمہ اگر چاہیں تو قرآنِ کریم کے کسی بھی حکم کو موقوف یا منسوخ کر سکتے ہیں جبکہ ایسا اختیار تو نبیِ مرسلﷺ کو بھی نہیں تھا:
قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِىۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَـفۡسِىۡ الخ۔
(سورۃیونس: آیت 15)
اور ایسے عقائد رکھنے والے کافر ہیں اسلامی صراطِ مستقیم چھوڑ کر جو شخص ان عقائد کو حق مانے گا وہ مرتد ہو جائے گا اور مرتد ہونے کے بعد اس کی بیوی خود بخود اس کے نکاح سے خارج ہو جائے گی پھر وہ اس پر حرام ہو جائے گی عدالت یا پنچایت کی ضرورت نہ ہوگی: وارتد أحدهما فسخ عاجل۔
تائب ہونے کے بعد جدید مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح سے دوبارہ بیوی رکھ سکتا ہے بشرطِ رضامندیِ طرفین۔
(حسینۃ الفتاویٰ: جلد 1 صفحہ 269)