ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا الخ (سورۃ البقرہ: آیت 221)
ترجمہ: اور نہ نکاح کر کے دو اپنی بہنیں اور بیٹیاں مشرکوں کو، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔
لیکن آج تو بڑے فتنے کا دور ہے کئی باطل فرقے ہیں مثلاً قادیانی ہیں منکرینِ حدیث ہیں، رافضی ہیں، بہائی ہیں، ذکری ہیں، شرک میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں ان چیزوں کو سوچنے والے کے رشتے میں بڑا فرق ہے مگر آج تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکا خوبصورت ہو، تعلیم یافتہ ہو، بزنس مین ہو کار، کوٹھی، بنگلا ہو، اور الٹی مانگ نکلی ہوئی ہو۔ بس بچی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔
اس کی فکر نہیں کہ اس کا ایمان رہے گا یا نہ رہے گا۔
یاد رکھو، رشتہ کرتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھو کہ اس کا عقیدہ بھی صحیح ہے یا نہیں اس کی وجہ سے ہماری بچی کا ایمان بھی رہے گا یا نہیں رہے گا آخرت بنے گی یا خراب ہو گی۔
اور فرمایا: البتہ مؤمن غلام بہتر ہے مشرک سے، اگرچہ وہ مشرک تمہیں شکل و صورت کے اعتبار سے، مال کے لحاظ سے، تعلیم کے لحاظ سے بہت اچھا لگے کیوں؟ اس واسطے کہ یہ لوگ جو شرک کرنے والے ہیں، تمہیں آگ یعنی دوزخ کی دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کی دعوت دیتا ہے اور بخشش کی اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم مشرکوں کے ساتھ نکاح کرو گے تو وہ تمہیں دوزخ کی دعوت دیں گے۔
(ذخیرۃالجنان فی فہم القرآن: جلد 2صفحہ 237)