سوال:زید سنی المذہب ہے اور صالح شیعہ غالی ہے اب زید نے اپنی سنی لڑکی کا نکاح صالح کے لڑکے کے ساتھ کر دیا ہے جو کہ باپ جیسا غالی شیعہ ہے اس مجلسِ نکاح میں عام مسلمانوں نے بھی شرکت کی اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان شرکاءِ عقد کو تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں؟ ان مذکورہ شرکاء کو نمازِ عید، جمعہ، جنازہ وغیرہ میں شریک ہونے دیا جائے یا نہیں؟ اور لڑکی کا نکاح بغیر طلاق کے کسی اور جگہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: یہ نکاح باطل اور کالعدم ہے یہ لڑکی بغیر طلاق حاصل کیے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے اور یہ ناکح اور گواہ اور نکاح خوان اگر مستحل ہوں تو ان پر توبہ اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے اس لیے کہ کسی قطعی حرام چیز کو حلال جاننا کفر ہے ورنہ ضروری نہیں ہے اور نماز و عبادت سے ان کو روکنا حرام ہے۔
(فتاویٰ فریدیہ: جلد 4صفحہ 478)