شریعتِ اسلامیہ کا حکم قرآنِ حکیم نے صاف الفاظ میں فرما دیا ہے کہ مشرک مرد اور مشرک عورت سے مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
چنانچہ ارشادِ ربانی ہے: وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ الخ۔
(سورۃالبقرة: آیت 221)
ترجمہ: اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور البتہ مسلمان لونڈی بہتر ہے مشرک بیوی سے اگرچہ وہ تم کو بھلی لگے۔
اور نکاح نہ کرو اپنی عورتوں کا مشرک مردوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور البتہ مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے، اگرچہ وہ تم کو بھلا لگے یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے جنت اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے، اور بتلاتا ہے اپنے احکام لوگوں کو تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔
تشریح: کافر مرد اور عورت سے نکاح کے سلسلے میں اسلام کا حکم آنے سے قبل ہر ایک کا دوسرے سے نکاح ہوتا تھا اور اس کی اجازت تھی اس آیتِ مذکورہ کے ذریعے یہ اجازت ختم کر دی گئی ہے اب اگر مرد یا عورت میں سے کوئی مشرک ہو تو اس کا نکاح مسلمان سے درست نہیں ہے یا نکاح کے وقت دونوں مسلمان تھے، مگر بعد میں ایک مشرک اور کافر مرتد ہو گیا، تو نکاح ٹوٹ جائے گا البتہ کافروں میں سے صرف یہود و نصارٰی کی عورت سے مسلمان کا نکاح جائز ہے یہ دوسری آیت سے معلوم ہوا ہے۔
وہ عام مشرکین میں داخل نہیں ہیں بشرطیکہ وہ اپنے دین پر قائم ہوں، دہریہ خدا کے منکر اور ملحد خدا کے ضروری احکام کو غلط تاویل سے توڑنے والے نہ ہوں۔
غرض یہ کہ مشرک مرد اور عورت سے مسلمان عورت اور مرد کا نکاح ناجائز اور حرام ہے اگرچہ ان کی خوبصورتی اور ان کے مال و دولت کی وجہ سے وہ بھلے لگیں آیتِ مذکورہ میں جس بناء پر مشرک مرد اور عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورت کا نکاح کسی بے ایمان کافر سے نہیں ہو سکتا تا وقت یہ کہ وہ ایمان نہ لے آئے، خواہ وہ ہندو ہو یا آتش پرست، قادیانی ہو یا شیعہ، منکرِ قرآن ہو یا منکرِ احکام یا منکرِ حدیث وغیرہ۔
کیونکہ مسلمانوں کے نکاح کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا فریق بھی مسلمان ہو، ورنہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا یہی وجہ ہے کہ فقہاءِ کرام نے جملہ کافروں سے نکاح کو حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ: آتش پرست، بت پرست عورتوں سے نکاح ناجائز ہے اور فرقہ معطلہ، زندیق عورت، فرقہ باطنیہ کا عقیدہ رکھنے والی عورت، فرقہ اباحیہ والی عورت اور ہر اس مذہب والی عورت سے جس کی عقیدہ باطلہ کی وجہ سے تکفیر کی جاتی ہے، اس سے نکاح ناجائز ہے۔
بدائع الصنائع میں علامہ کاسانی نے لکھا ہے کہ: مشرک اور کافروں سے نکاح ناجائز ہونے کے بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو ابھی اسلام اور ایمان سے خارج ہو، اس کے ساتھ مسلمان مرد اور عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زوجین کے درمیان سکون اور محبت و الفت نکاح کے لیے ضروری ہے وہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک دونوں کی ملت اور دین و مذہب ایک ہو کیونکہ غیر مذہب اور مخالفتِ ملت کے ساتھ دینی عداوت ہر مسلمان مرد و عورت کی فطرت میں ہوتی ہے تو اس فطری اور دینی عداوت کے ہوتے ہوئے ازدواجی محبت و الفت کیسے قائم ہوگی؟ زوجین کے درمیان جو چین و سکون پیدا ہونا ضروری ہے وہ کیسے پیدا ہو سکے گا؟ حالانکہ نکاح کے مقاصد میں سے یہ اہم مقصد ہے کہ دونوں کی زندگی چین و سکون اور الفت و محبت کے ساتھ گزرے۔
رہا یہ سوال کہ پھر شریعت میں اہلِ کتاب، یہودی اور عیسائی عورت سے نکاح کی اجازت کیوں دی گئی؟ تو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اہلِ کتاب کی عورت کتبِ سابقہ اور انبیاءِ سابق پر ایمان رکھتی ہے ان میں رسول اللہﷺ کے دینِ اسلام کا ذکر موجود ہے جب وہ کسی مسلمان کے نکاح میں آئے گی تو غالب گمان اور قریب یقین ہے کہ شوہر کے عقائد و اعمال دیکھ کر مسلمان ہو جائے گی غرض اس امیدِ اسلام کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے بخلاف اس کے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح اہلِ کتاب مرد کے ساتھ جائز نہیں ہے اسلام میں اس کی اجازت نہیں دی کیونکہ عورتیں شوہر کے پاس رہ کر شوہر کے دین و مذہب سے متاثر ہوتی ہیں اگر مسلمان عورت کسی اہلِ کتاب کے نکاح میں جائے گی تو خطرہ ہے کہ (العیاذ باللہ) اسلام چھوڑ کر یہودیت یا عیسائیت قبول کر لے گی یہ بہت بڑی خطرناک بات ہوگی، کفر ہوگا مگر دوسرے کافروں کے مرد اور عورتوں سے مطلقاً نکاح جائز نہیں ہے اسی وجہ سے کتبِ فقہ میں واضح طور پر موجود ہے کہ شرائطِ نکاح میں سے یہ ہے کہ عورت اگر مسلمان ہے تو مرد کا بھی مسلمان ہونا ضروری ہے، ورنہ نکاح نہیں ہوگا۔
چنانچہ بدائع میں ہے کہ: نکاح کی شرائط میں سے ہے کہ عورت اگر مسلمان ہے تو مرد کا مسلمان ہونا ضروری ہے پس ایماندار عورت کا نکاح بے ایمان، غیر مسلم اور کافر مرد کے ساتھ ناجائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: اپنی عورتوں کا نکاح مشرک اور کافر مردوں سے مت کرو یہاں تک کہ مرد ایمان لے آئے اور عقل و فہم کی رو سے بھی اگر مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر مرد سے کر دیا جائے تو اس میں خطرہ ہے کہ عورت کفر میں مبتلا ہو جائے گی وجہ اس کی ظاہر ہے، کیونکہ شوہر اپنے کردار، رفتار اور گفتار ہر جہت سے اپنے دین و مذہبِ کفر کی طرف بلائے گا اور فطرتاً عورتیں ناقصۃ العقل ہوتی ہیں اور ان کے قویٰ کمزور ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے مردوں کی ہر بات میں اطاعت کرتی ہیں ہر باہمی تعلقات کی وجہ سے اطاعت کرنی پڑتی ہے لہٰذا اپنے مردوں کی تقلید میں کفریات اختیار کر لیتی ہیں تو عورت کے کفر کا سبب کافر کے ساتھ اس کا نکاح کر دینا ہوا اسی وجہ سے شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔
لوگوں کو اس غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے کہ مرد اپنے دین پر رہے اور عورت اپنے دین پر رہے اور پھر نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس طرح بے دین اور کافر لوگوں سے لڑکیوں کے نکاح کر دینے سے نکاح تو سرے سے نہیں ہوتا مزید خرابی یہ ہوتی ہے کہ خود ان کا دین برباد ہو جاتا ہے لڑکی اور لڑکا خود بھی بے ایمان ہو جاتے ہیں اور ایسے نکاح کے نتیجے میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے، وہ کیسی ہوگی؟ اس کا اندازہ ماں سے لگا لیجیے۔
اس واسطے مسلمان مرد اور عورت کے لیے وضاحت کی جاتی ہے کہ نہ کسی کافر سے شادی کرے، نہ ان کو لڑکی دیں ورنہ اس کی سزا دنیا اور آخرت میں ماں باپ کو بھی بھگتنی ہوگی۔
اور اگر غلطی سے دے دی اور ظاہری طور پر نکاح ہو گیا تو اسے بلا تاخیر ختم کر دیں اور رشتہ توڑ دیں۔
غرض کفاءت فی الدیانت یعنی دین میں برابری کا بھی شرع نے اعتبار کیا ہے عورت اگر قدیم زمانے سے مسلمان ہے تو فاسق مسلم مرد بھی اس کا کفو نہیں ہے عورت اگر بغیر اجازتِ ولی نو مسلم سے نکاح کرتی ہے تو فقہِ حنفی کی ایک روایت میں نکاح نہیں ہوگا دوسری روایت میں نکاح تو ہو جائے گا مگر ولی کو یہ نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہوگا۔
اسی طرح اگر دین دار گھرانے کی ہے اور عورت خود بھی دیندار ہے پابندِ صوم و صلوٰۃ اور پرہیزگار ہے لیکن مرد نام کا مسلمان ہے اور فاسق و فاجر ہے، پابندِ صوم و صلوٰۃ نہیں ہے، حلال و حرام کا پابند نہیں ہے تو وہ دینی لحاظ سے عورت کا کفو نہیں ہے۔
ایسے مرد سے عورت بلا اجازت
ولی نکاح نہیں کر سکتی اگر کرے گی تو ایک روایت میں نکاح نہیں ہوگا دوسری روایت میں نکاح تو منعقد ہو جائے گا مگر ولی کو فسخ کرانے کا اختیار ہوگا ہاں، ولی کی رضامندی اور اجازت سے غیر کفو میں نکاح جائز ہے مگر اس طرح کے نکاح میں دین کی رو سے چین و سکون، الفت و محبت کی زندگی نصیب نہ ہوگی نہ ہی صحیح معنیٰ میں ازدواجی زندگی کا لطف اور مزہ آئے گا۔
(جواہر الفتاویٰ: جلد 3 صفحہ 309)