شیعہ اثناء عشریہ، بوہری، خوجہ اور اسماعیلی فرقے کے ساتھ…

شیعہ اثناء عشریہ، بوہری، خوجہ اور اسماعیلی فرقے کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟


سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ایک بزرگ ہیں جو دیندار ہیں لیکن ان کے اندر دو خرابیاں ایسی ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کو برا جانتے ہیں:

پہلی خرابی:ہمارے علاقے میں مسلمانوں کی جتنی نمازِ جنازہ ہوتی ہے پابندی کے ساتھ سب نمازوں میں شریک ہوتے ہیں مگر شیعہ، خوجہ، اسماعیلی، بوہری فرقے والوں کی نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوتے پوچھنے پر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے جنازے میں شریک ہونا ثواب ہے، اس لیے اس میں شریک ہوتا ہوں شریعت میں مسلمانوں کے جنازے میں حاضری کے لیے کہا گیا ہے۔  

ہم نے ان سے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں شیعہ اثناءِ عشریہ ہیں خوجہ ہیں بوہری ہیں، سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کیا آپ کے نزدیک وہ سب لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟ جواب دیتے ہیں کہ علماءِ کرام ان کو مسلمان نہیں کہتے۔

دوسری خرابی:وہ ولیمہ کی دعوتوں میں شریک نہیں ہوتے، مگر کبھی کبھی اگر دعوت مسلمانوں کی ہو تو شریک ہوتے ہیں، کہ دعوت قبول کرنا مسلمان کا حق ہے اس بارے میں بھی بزرگ صاحب کا یہی جواب ہے کہ مسلمانوں کی دعوت قبول کرنا سنت ہے، اس لیے جاتا ہوں۔

برائے مہربانی آپ وضاحت فرمائیں کہ کیا یہ لوگ، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، مسلمان ہیں یا نہیں؟ ان کی دعوتوں میں شریک ہونا، ان کے جنازے میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کے ساتھ دوسرے معاملات، مثلاً نکاح شادی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ صاف اور واضح جواب دیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب: صورتِ مسئولہ میں بزرگ صاحب کا موقف صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے انہوں نے نمازِ جنازہ میں شریک ہونے اور نہ ہونے کا اصول بتا دیا ہے کہ مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں وہ شریک ہوتے ہیں اور شریعت کے رو سے مسلمانوں کے جنازے میں شرکت کا حق ہے اور ہر مسلمان پر فرض ہے۔

ایک حدیثِ شریف میں ہے جس کے راوی کہتے ہیں کہ: ایک مسلمان کا حق دوسرے مسلمان پر یہ ہے کہ اس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہو، اس کی عیادت کرے، چھینک کا جواب دے یعنی اس کے "الحمد للہ" کہنے کے جواب میں "یرحمک اللہ" کہے جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے، سلام کرے تو اس کا جواب دے۔

حدیثِ شریف کی رو سے مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونا بزرگ کا حق ہے اور آپ نے کہا کہ وہ اس میں شریک ہوتے ہیں۔

نیز یہ کہ حدیثِ شریف میں ہے کہ مسلمانوں کی دعوت قبول کرنا مسلمان کا حق ہے، غیر مسلم کا نہیں۔  

آپ نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوتے ہیں اور بعض کے جنازے میں شریک نہیں ہوتے اور جن فرقوں کا آپ نے نام لیا ہے درحقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ہیں شیعہ اثناء عشریہ کے متعلق حضرت مولانا منظور نعمانی صاحبؒ کی کتاب کیا اثناء عشریہ مسلمان ہیں میں تفصیل سے بحث ہے۔  

وہاں پر تمام اہلِ سنت و الجماعت کا فتویٰ بھی ہے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔  

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فرقے والے موجودہ 30 پارے والے قرآن کو نہیں مانتے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، خاص کر شیخین رضی اللہ عنہما کی تکفیر کرتے ہیں حضرت علیؓ کے لیے ایسی ولایت مانتے ہیں جو نبوت سے افضل ہے اور اپنے بارہ ائمہ کو معصوم مانتے ہیں جبکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے سوا سارے لوگ غیر معصوم ہیں، وغیرہ وغیرہ عقائدِ باطلہ کی بناء پر یہ لوگ مسلمان نہیں بلکہ کافر ہیں۔

اوپر لکھی گئی تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ: ان کی دعوتوں میں شریک ہونا جائز نہیں، ان کے نکاح میں شرکت جائز نہیں، نہ ان کی نمازِ جنازہ ہے، نہ ان کے لیے دعا ہے۔

اسی طرح خوجہ، بوہری کے عقائد بھی قریباً وہی ہیں اور کچھ زیادہ ہیں۔  

(آپ کے سوالات اور ان کا حل: جلد 1 صفحہ 76)