مفتی محمد عبدالسلام چاٹگامی رحمۃاللہ کا فتویٰ - فتاویٰ جات…

مفتی محمد عبدالسلام چاٹگامی رحمۃاللہ کا فتویٰ


شیعہ کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم:

سوال: شیعہ لوگ مرتد ہیں یا کافر؟ ان کے عقائد کیا ہیں؟ ان کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: شیعہ اثناءِ عشریہ، روافض اور امامیہ کافر اور مرتد ہیں، کیونکہ یہ لوگ قرآنِ کریم کو مکمل نہیں مانتے، قرآن کے 40 پارے مانتے ہیں، جب کہ ان کے عقیدے کے مطابق اصل قرآن امامِ غائب کے پاس ہے۔ امام کو معصوم مانتے ہیں، خواہ وہ تمام کبائر اور منکرات کا ارتکاب کرے وہ مساجد میں پانچ وقت کی نمازیں ادا نہیں کرتے بلکہ کچھ نمازیں ادا کرتے ہیں، وہ بھی مساجد میں نہیں بلکہ امام بارگاہوں میں ادا کرتے ہیں وہ متعہ یعنی چند روز کے لیے معمولی چیز دے کر، گواہوں کے بغیر یا ان کے آپس کے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیتے ہیں ان سے چند دن یا چند ماہ وطی کرنے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں یہ سارے کبائر اور منکرات ان میں پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ بھی کافر ہیں۔

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے تحفہ اثناءِ عشریہ میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور ہمارے زمانے میں حضرت مولانا منظور نعمانیؒ نے خمینیت اور سبعہ رافضیت پر مشہور فتویٰ لکھا ہے جو پاکستان سے چھپ چکا ہے، اس میں تمام دلائل اور قرآن و حدیث کے حوالے موجود ہیں۔

اسی طرح جو بھی اسلام یا اسلام کو لانے والے نبی کریمﷺ کا انکار کرے گا وہ بھی مرتد ہے، اور اسلامی حکومت کے نزدیک واجب القتل اور مہدورالدم ہے۔

کیونکہ فتحِ مکہ کے روز رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ مرتدین جیسے عبداللہ بن خطل مرتد ہو کر بھاگ چکا تھا جس کو جہاں ملے قتل کر دیں پھر کعبہ معظمہ کے پردے کے اندر اسے قتل کیا گیا۔  

عبداللہ بن ابی سرح کو بھی ارتداد کی بناء پر جہاں ملے قتل کر دینے کا حکم دیا گیا تھا، مگر اس نے اپنے رضاعی بھائی کی پناہ لے کر توبہ کی اور تجدیدِ ایمان کی تو معاف کیا گیا۔

معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث اور اجماع کے تحت مرتد اور منکرِ اسلام واجبُ القتل اور مہدورُ الدم ہیں، قابلِ سزا اور قابلِ مواخذہ ہیں اور ایسے لوگوں کو جو مسلمان سمجھے، وہ بھی کافر اور مرتد ہیں وہ بھی واجبُ القتل ہیں اسلامی حکومت کا امام ان کو قتل کرے گا سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بعض مرتدوں کو آگ میں جلا دیا تھا، جیسا کہ ابو داؤد شریف میں ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں اسلامی حکومت قائم نہ ہونے اور اسلامی قوانین نافذ نہ ہونے کی بناء پر یہ سب پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں۔  

اللہ تعالیٰ ہی ان کو اس کی سزا دے گا چھوڑے گا نہیں جس وقت پکڑے گا تو ان کی پکڑ سخت ہوگی۔  

اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ 

(سورۃالبروج: آیت 12)

اب مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کافروں سے دیگر کافروں کی طرح تعلقات رکھیں، اور اسلامی تعلقات نہ رکھیں اگر غلطی سے کر لیا ہے تو فوراً توڑ دیں ورنہ ایمان بچانا مشکل ہے۔  

(آپ کے سوالات اور ان کا حل: جلد 3 صفحہ 438)