شیعہ کلمہ گو ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو تو اس کے ساتھ…

شیعہ کلمہ گو ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو تو اس کے ساتھ نکاح کیوں جائز نہیں ہے


صفحہ 2 از 2

اسی طرح ان کا عقیدہ یہ ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (معاذاللہ ثم معاذاللہ) کافر و مرتد ہو گئے تھے حالانکہ حضورِ اقدسﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: أصحابی كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم۔

ترجمہ: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پاؤ گے۔

3: منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائی تھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پورا ایک رکوع نازل فرمایا، جس میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی برأت بیان فرمائی گئی۔

مگر شیعہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر وہی تہمت لگاتے ہیں، جو صراحتاً پورے رکوع بلکہ پورے قرآن کا انکار ہے، اور موجبِ کفر ہے۔

4: ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے (معاذ اللہ) وحی لانے میں غلطی کی یا ان کے علاوہ ایسے عقائد رکھتے ہیں جو صریح کفر اور قرآن کے خلاف ہیں۔

مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:

قلت وهذا فی حق الرافضة والخارجة فی زماننا فإنهم يعتقدون كفر أكثر الصحابة فصاروا بين سائر أهل السنة والجماعة كافراً بالإجماع بلا نزاع۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ رافضی جو شیخینؓ (سیدنا صدیقِ اکبر، سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما) کو برا بھلا کہے اور (معاذاللہ) ان پر لعن طعن کرے تو وہ کافر ہے۔

اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائے تو وہ بھی کافر ہے۔

اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت (خلافت) کے حق ہونے کا انکار کرے تو صحیح قول کے مطابق وہ بھی کافر ہے۔

اسی طرح سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خلافت کا انکار کرے تو اصح قول کے مطابق وہ بھی کافر ہے۔

اور جو حضرت عثمانِ غنیؓ ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو کافر کہے، وہ بھی کافر ہے۔

اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ ایک امام باطن ظاہر ہوگا جو شریعت کے اوامر و نواہی کو معطل (ختم) کر دے گا وہ بھی کافر ہے۔

اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پہنچانے میں غلطی کی حضرت علیؓ کے بجائے حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے پاس وحی لے گئے، تو وہ بھی کافر ہے۔

جو شیعہ اس قسم کے عقائد رکھتے ہیں، وہ کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ان سے نکاح کرنا بالکل صحیح نہیں ہے۔

ہوشیار! ایک بات بطورِ خاص ذہن میں رہے کہ تقیہ شیعوں کا مذہبی عقیدہ اور ان کا شعار ہے تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے قول یا عمل سے اصل حقیقت کو چھپانا، اور واقعے کے خلاف ظاہر کرنا، اور اس طرح دوسرے کو دھوکے میں مبتلا کرنا۔

اس لیے یہ معلوم کرنا کہ یہ شیعہ کس قسم کا عقیدہ رکھتا ہے، بہت ہی مشکل ہے لہٰذا آپ نے اپنی حفاظت اسی میں ہے کہ خود کو ایسے بد عقیدہ کے حوالے نہ کیا جائے۔

آپ کا یہ کہنا کہ شیعہ کا ظہور حضورِ اقدسﷺ کے بعد ہوا تو حضور اقدسﷺ کے بعد ان فرقوں کا ظہور کیا حق ہونے کی دلیل ہے؟

بلکہ احادیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ اقدسﷺ نے گمراہ فرقوں کے ظہور کی پیشن گوئی فرمائی ہے چنانچہ ایک حدیثِ شریف میں ہے:

حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت پر وہ سب آئے گا جو بنی اسرائیل پر آ چکا ہے بنی اسرائیل کے 72 فرقے ہو گئے تھے میری امت کے 73 فرقے ہو جائیں گے سب دوزخی ہوں گے مگر صرف ایک ملت (فرقہ) ناجی ہوگی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: وہ ملت کون سی ہوگی؟ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: ما أنا عليه وأصحابی۔

ترجمہ: جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔

اس حدیثِ شریف میں غور کیجیے! حضورِ اقدسﷺ نے پیشن گوئی فرمائی کہ میری امت کے 73 فرقے ہوں گے، اور ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ سب دوزخی ہوں گے، سوائے ایک فرقے کے اور اس نجات پانے والے فرقے کی علامت بتائی کہ وہ فرقہ ہے جس پر میں اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ جو لوگ حضورِ اقدسﷺ کے طریقے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے کو اختیار کریں گے، وہی نجات پائیں گے یہی فرقہ اہلِ سنت و الجماعت کہلاتا ہے۔

اور شیعوں کا حال معلوم ہو چکا کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اقتداء اور پیروی تو کیا کریں بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (سیدنا صدیقِ اکبر سیدنا فاروقِ اعظم، سیدنا عثمانِ غنی اور اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو کافر و مرتد کہتے ہیں۔ (معاذاللہ)

کیا ایسے جہنمی فرقے کے ساتھ آپ نکاح کرنا اور اپنی ذات اس کے حوالے کرنا پسند کریں گی؟

آپ کی جو اولاد پیدا ہوگی، وہ بھی اپنے باپ کے طریقے پر ہوگی۔

لہٰذا آپ ہرگز شیعہ سے نکاح نہ کریں، اور اگر نکاح کریں گی تو وہ نکاح باطل ٹھہرے گا۔

(فتاویٰ رحیمیہ: جلد 8 صفحہ 213)


صفحہ 2 از 2