شیعہ کلمہ گو ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو تو اس کے ساتھ…

شیعہ کلمہ گو ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو تو اس کے ساتھ نکاح کیوں جائز نہیں ہے


صفحہ 1 از 2

سوال: میں میڈیکل کالج میں پڑھتی ہوں ایک مسئلے کے متعلق آپ سے تحقیق کرنا چاہتی ہوں ایک شیعہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے مجھے یہ رشتہ پسند ہے لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شیعہ سے سنی عورت کا نکاح جائز نہیں ہے یہ بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی یہ ہماری طرح کلمہ پڑھتا ہے خود کو مسلمان کہتا ہے اس کے باوجود اس سے نکاح کیوں جائز نہیں؟ کلمہ گو اور مسلمان ہونے کے باوجود ان سے نکاح کیوں جائز نہیں؟

جواب: مسلمان ہونے کے لیے صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان تمام باتوں پر ایمان لانا اور تصدیق کرنا ضروری ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے کسی ایک بات کا انکار کرنا یا ایسا عقیدہ اختیار کرنا جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کرتا ہے چاہے وہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا رہے۔

حضورِ اکرمﷺ کے زمانے میں منافقین اسلام کا دعویٰ کرتے تھے اور حضورِ اکرمﷺ کی مجلس میں قسم کھا کر کہتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں اور ان کے متعلق وعید فرمائی کہ وہ جہنمی ہیں زبانی دعویٰ کافی نہ ہوا۔

ارشادِ خداوندی ہے: اِذَا جَآءَكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ ‌وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ 

(سورۃالمنافقون: آیت 1)

ترجمہ: جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے گواہی دیتے ہیں کہ آپ بے شک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور باوجود اس کے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اس کہنے میں جھوٹے ہیں۔ 

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ وَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيۡرًا 

(سورۃالنساء: آیت 145)

ترجمہ: بے شک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے، اور تو ہرگز ان کا مددگار نہ پائے گا۔

مشہور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا حتیٰ کہ جب اس کا انتقال ہو گیا تو حضورِ اکرمﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اس پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ‏ 

(سورۃالتوبہ: آیت 84) 

ترجمہ: اور ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے جنازے پر کبھی نماز نہ پڑھیے اور نہ دفن وغیرہ کے واسطے اس کی قبر پر کھڑے ہوں، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالتِ کفر میں ہی مرے ہیں۔

اسی طرح ہمارے زمانے میں قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور قرآنِ مجید کو مانتے ہیں مگر اتنا کہنے سے کیا وہ مسلمان ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں بلکہ اہلِ سنت والجماعت کا فتویٰ یہ ہے کہ قادیانی اپنے غلط عقائد کی وجہ سے قطعاً دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

یہی حال شیعوں کا ہے ان میں مختلف فرقے ہیں اور مختلف عقائد ہیں اکثر اثناء عشریہ فرقے کے عقائد کفر کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔

حضرت مولانا منظور نعمانیؒ نے شیعہ اثناءِ عشریہ کے متعلق ایک تفصیلی سوال مرتب فرمایا جس میں شیعہ کے غلط اور فاسد عقائد بیان کر کے دریافت فرمایا کہ ان عقائد کی بناء پر یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہیں یا خارج ہیں؟

محدثِ جلیل مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا کہ: شیعہ اثناء عشریہ بلاشک و شبہ کافر و مرتد ہیں اور یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے اس جواب پر پوری دنیا کے مفتیانِ کرام اور علمائے عظام کی تصدیقی دستخط موجود ہیں۔

شیعوں کے کچھ غلط عقائد ملاحظہ فرمائیں:

1: ان کا عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآن محرف ہے اس میں ہر طرح کی تحریف اور کمی بیشی ہوئی ہے یہ بعینہٖ وہ قرآن نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورِ اقدسﷺ پر نازل کیا گیا تھا یہ عقیدہ یقیناً موجبِ کفر ہے۔

اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے ارشادِ خداوندی ہے: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ 

(سورۃالحجر: آیت 9)

ترجمہ: ہم نے ذکر یعنی قرآنِ مجید نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

لہٰذا ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے، اس میں ذرہ برابر رد و بدل اور کمی بیشی نہیں ہوئی ہے۔

2: سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ جو حضور اقدسﷺ کے بعد بترتیب امت کے افضل ترین افراد اور جلیل القدر صحابی ہیں اور ان کا اسلام بتواتر ثابت ہے یہ اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے اور شیعہ ان دونوں حضراتؓ پر سخت لعن طعن کرتے ہیں اور ان حضراتؓ کو منافق اور بدترین کافر کہتے ہیں۔ (معاذاللہ)

جب کہ حضورِ اکرمﷺ ان دونوں حضرات کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: اقتدوا بالذين من بعدی أبی بكر وعمر۔

ترجمہ: میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرنا۔

حضورِ اکرمﷺ تو اپنے بعد امت کو ان دونوں حضرات کی اقتداء کا حکم فرما رہے ہیں، اور شیعہ ان دونوں حضرات پر لعن طعن اور ان کو منافق اور کافر کہتے ہیں۔ (معاذاللہ)

نیز خلفائے راشدین (سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ) کے متعلق ارشاد فرمایا: عليكم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ۔

ترجمہ: یعنی تم اپنے اوپر میرے طریقے (سنت) اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقے کو لازم کر لو اور دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔

حضورِ اقدسﷺ خلفائے راشدین کے طریقے (سنت) کو لازم پکڑنے کا حکم فرما رہے ہیں اور ان حضرات کو ہدایت یافتہ ارشاد فرما رہے ہیں، جب کہ شیعہ ان حضرات کو حضرت علیؓ کے سوا ضال اور گمراہ کہتے ہیں۔

ان حضرات کے اسلام اور صحابی ہونے کا انکار موجبِ کفر ہے۔

صفحہ 1 از 2