مفتی محمد سلمان منصور پوری رحمۃاللہ کا فتویٰ - فتاویٰ جات |…

مفتی محمد سلمان منصور پوری رحمۃاللہ کا فتویٰ


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ عبداللہ مسجد کے امام ہیں انہوں نے شیعہ سنی کا ایک نکاح پڑھا دیا ہے عبداللہ کو لوگ عالم اور امام سمجھ کر اس قسم کے نکاح کو جائز سمجھنے لگیں گے تو آیا عبداللہ کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ اگر عبداللہ اب توبہ کرے تو وہ نمازیں جو نکاح سے اب تک پڑھائی ہیں ان کا کیا ہوگا؟

جواب: عبداللہ کا یہ عمل نہایت برا ہے اس لیے کہ جو شیعہ فرقے کفریہ عقائد رکھتے ہیں اور ضروریاتِ دین کا انکار کرتے ہیں، ان سے مسلمانوں کا رشتہ مناکحت کرنا جائز نہیں ہے اور جان بوجھ کر جس شخص نے یہ نکاح پڑھایا ہے اس کا یہ عمل نہایت برا اور فاسقانہ کام ہے اس لیے وہ اپنے اس فعل سے توبہ کرے توبہ کے بعد اس کی امامت اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہوگا ورنہ کسی دوسرے امام کو مقرر کیا جائے۔  

اور جو نمازیں امام صاحب کی اقتداء میں ادا کی گئی ہیں ان کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔

دلیل: ومنها: اسلام الرجل اذا كانت المراة مسلمة، فلا يجوز انكاح المؤمنة الكافر۔  

(بدائع الصنائع: جلد 2 صفحہ 271)

واسلامه ان يتبرا عن الاديان سوى الاسلام او عما انتقل اليه بعد نطقه بالشهادتين۔  

(الدرالمختار: جلد 6صفحہ 361)

وبهذا ظهر ان الرافضی ان كان ممن يعتقد الألوهية فی علی او ان جبريل عليه السلام غلط فی الوحی أو كان ينكر صحبة الصديق أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفة القواطع المعلومة من الدين بالضرورة بخلاف ما اذا كان يفضل عليًا ذو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر۔  

(شامی: جلد 4 صفحہ 135، 

کتاب النوازل: جلد 4 صفحہ 295)