سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکا سنی ہے اور ایک لڑکی شیعہ ہے ان دونوں کے درمیان نکاح جائز ہے یا نہیں؟ کیا دونوں کو اپنی اپنی حالت پر رہتے ہوئے ازدواجی زندگی گذارنا جائز ہے یا شیعہ لڑکی کو سنی بننا پڑے گا؟
جواب: ہمارے ہندوستان میں جتنے شیعہ و رافضی رہتے ہیں وہ سب کے سب غالی شیعہ و رافضی کہلاتے ہیں ان کے عقائدِ باطلہ کی بناء پر ان کو فرقہ ضالہ میں شمار کیا گیا ہے اس لیے اہلِ سنت و الجماعت کے اکثر فقہاءِ کرام نے ان کے عقائدِ باطلہ کی بناء پر ان کے ساتھ رشتے ناطے اور ان کے ساتھ نکاح کو ناجائز اور فاسد لکھا ہے اس لیے شیعہ لڑکی کے ساتھ سنی لڑکے کا نکاح اُس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک کہ وہ شیعہ لڑکی سنی نہ بن جائے اور سنی بننے کے بعد آپس میں نکاح درست ہو جائے گا۔
وفی الهندية الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر ويجب اكفار الروافض فی قولهم برجعة الاموات الى الدنيا الى آخره وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين۔
(فتاویٰ قاسمیہ: جلد 13صفحہ 245)