حنفی المسلک کا شیعہ سے نکاح - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

حنفی المسلک کا شیعہ سے نکاح


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زینب مذہبِ اہلِ سنت و حنفی ہے اس نے ایک شیعہ اثناءِ عشریہ شخص مسمی محمود سے مطابق مذہبِ اہلِ سنت نکاح کر لیا اور لکھنؤ کے مطبوعہ نکاح نامہ و مصدق فرنگی محل کی خانہ پوری کر کے دونوں نے اس پر دستخط کردئیے تھے پھر ایک سال تک تعلقات زن و شوہر قائم رہے اس دوران مسماۃ زینب کو خلفاءِ ثلاثہؓ کے خلاف کتبِ شیعہ محمود لاکر دیتا رہا اور پڑھنے کی ہدایت کرتا رہا اور کچھ نہیں کہتا و مسماة زینب کو محمود کی یہ باتیں سخت ناگوار ہوتیں اسی دوران جب ایک عالم صاحب سے معلوم ہوا کہ علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ شیعہ اسلام سے خارج ہے تو مسماۃ زینب نے محمود سے قطع تعلق کر لیا اور اپنے شوہر محمود سے طلاق لینے کی کوشش کرتی رہی مگر محمود طلاق دینے پر آمادہ نہیں ہو رہا ہے اس قطع تعلق کا عرصہ تین سال کا ہو گیا ہے۔

اس لیے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسماۃ زینب سنی المذہب کا نکاح مسمی محمود کے ساتھ جو ہوا تھا وہ شرعاً منعقد ہوا ہے یا نہیں؟ اور اگر شرعاً منعقد ہوا تو فسخِ نکاح کے لیے کسی شرعی عدالت میں مسماۃ زینب رجوع کرے تو شرعی عدالت کو اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟ اگر مسماۃ زینب کا محمود کے ساتھ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تو کیا بدونِ فسخِ نکاح و خلع و طلاق حاصل کئے بغیر کسی دوسرے سنی المذہب سے نکاح کرلے تو نکاح عنداللہ جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب: شیعہ اثناءِ عشریہ باجماعِ امت کافر اور مرتد ہیں اس لیے مسماۃ زینب سنیہ کا نکاح شیعہ محمود کے ساتھ شرعاً منعقد نہ ہوا لہٰذا مسماۃ زینب بدونِ طلاق و خلع حاصل کیے دوسرے سنی لڑکے سے نکاح کر سکتی ہے۔

مگر فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے عدالت میں جا کر نکاح فسخ کرایا جائے تاکہ آئندہ کسی قسم کے فتنہ وفساد کا اندیشہ ہی نہ رہے۔

وفی رد المختار ان الرافضی ان كان ممن يعتقد الالوهية فی علىؓ اوان جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحى اوكان ينكر صحبة الصديقؓ او يقذف السيدة الصديقةؓ فهو كافر المخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة وفی الشامی نعم لاشك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی على اوان جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحی او نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔ 

(فتاوىٰ قاسمیہ: جلد 13 صفحہ 243)