سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معیارِ حق نہ سمجھتا ہو اس کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیارِ حق ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ الخ۔
(سورۃ: البقرہ آیت 13)
ترجمہ: یعنی تم بھی ایسا ہی ایمان لاؤ جیسا ایمان لائے ہیں اور لوگ۔
نیز ایک اور جگہ ارشادِ ربانی ہے: فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْا الخ۔
(سورۃالبقرہ: آیت 137)
ترجمہ: یعنی سوا گر وہ بھی اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح سے تم ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ پر لگ جائیں گے۔
آپ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: اصحابی کالنجوم فبايهم اقتديتم اهتديتم۔
ترجمہ: یعنی میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی اتباع کر لو ہدایت پا جاؤں گے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال حجت ہیں ان سے عدول جائز نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واسطے سے دین (قرآن و سنت) ہم تک پہنچا ہے لہٰذا قرآن و سنت کی جو تشریح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے قول یا عمل سے کر دی وہ بلاشبہ اتباع کے لائق ہے اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو پورا دین مشکوک ہو کر رہ جائے گا ہر شخص اپنی من پسند تشریح کو قرآن و حدیث کا مدلول قرار دے گا اور زیغ و ضلال کی گھاٹیوں میں رواں دواں ہو جائے گا یہ صرف ایک خیال یا کتابوں میں موجود چیز نہیں بلکہ عملاً جن اشخاص یا جماعتوں نے یہ روش اختیار کی اور ہر بات میں براہِ راست قرآن و حدیث سے استفادہ کو اپنا منشور بنایا وہ گمراہ ہو گئے اہلِ سنت و الجماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معیار حق سمجھتے ہیں اہلِ سنت کے ہاں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل تھے۔
لہٰذا جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معیارِ حق نہ سمجھتا ہوں وہ اہلِ سنت و الجماعت سے خارج ہے اسے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کی صورت میں مستقبل کے جھگڑوں نیز بچوں کے نظریات و افکار اور سب سے بڑھ کر لڑکی کے اپنے عقائد پر بُرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔لہٰذا ایسے افراد سے نکاح جیسے معاملات کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
(نجم الفتاوى: جلد 4صفحہ 499)